نیب ترامیم پر اعتراضات کا جائزہ


معروف صحافی ارشاد بھٹی صاحب کا ایک کالم احتساب قانون میں ترمیم کے حوالے سے 8 اگست 2022 کو شائع ہوا، جس کا عنوان تھا ”اب چیئرمین نیب عمران خان ہو تو بھی سب سرخرو!“ ۔ چونکہ یہ بظاہر حقائق کے خلاف تھا، لہٰذا میں نے اس پر لکھنے کا ارادہ کیا، لیکن بوجوہ دیر ہو گئی۔ تاہم پاکستان میں سیاست، کرپشن اور قانون پر کچھ بھی لکھا جائے، خال ہی غیرم تعلق ہوتا ہے۔ آج کل سپریم کورٹ میں ان ترامیم کے خلاف درخواست کے حوالے سے روزانہ عدالت، وکلاء، صحافیوں اور مختلف طبقات کے تبصرے مشاہدے میں آ رہے ہیں، جن میں اسی نوعیت کے دلائل نمایاں ہیں جو بھٹی صاحب نے دیے تھے ؛ سو کچھ گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔

مزید لکھنے سے پہلے عرض کردوں کہ گزشتہ چند سالوں میں مجھے کم ازکم 100 نیب زدہ لوگوں سے ملنے، ان کی کہانیاں سننے، ان کی فیملیز کو دیکھنے، ان کی ہزاروں صفحات کی فائلیں پڑھنے اور ان کے متاثرین کی شکایات جاننے کے علاوہ نیب پراسیکیوٹرز، عدالتوں اور حوالاتیوں سے ملنے اور لگ بھگ چالیس مقدمات کی کارروائی کا حصہ بننے کا اتفاق ہوا ہے، سو میری معروضات محض سیاسی، علمی یا چسکے داری پر مبنی نہیں ہیں۔

قانون کے سنجیدہ طالب علموں کے لئے نیب قانون ہمیشہ ہی ڈریکونیئن لاء کے طور پر متعارف رہا ہے۔ اس کا آغاز سیف الرحمٰن کے احتساب ایکٹ سے کر لیں یا مشرف کے 1999 کے آرڈنینس سے، محرک دونوں بار کرپشن کے خاتمے کی آڑ میں سیاسی مخالفین کو دبانا ہی نظر آئے گا۔ ہاں اگر آپ ان دونوں شخصیات یا ان کے ساتھیوں اور سرپرستوں کی دیانتداری پر ایمان رکھتے ہوں تو معاملہ دوسرا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے وقت اس قانون پر نظرثانی سے گریز میاں نواز شریف کی ان پہاڑ جیسی غلطیوں میں سے ایک ہے، جن پر وہ بظاہر کافی نادم نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کی ندامت اس قانون کے 2018 میں عمران حکومت کے ہاتھ لگ جانے کے بعد شروع ہوئی، جس کا ازالہ حالیہ ترمیم سے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم ایسا نہیں کہ عمران حکومت میں اس قانون کو نامعقول نہ سمجھا گیا ہو۔

اکتوبر 2019 کے آخری ہفتے میں سینئر بیوروکریٹس آرمی چیف سے ملے اور نیب کی جانب سے ہراسانی پر اپنی شکایات پیش کیں۔ اگلے ہفتے 5 نومبر کو تقریباً تمام وفاقی سیکرٹری وزیر اعظم سے ملے۔ اس سے قبل اہم ترین کاروباری شخصیات پر مبنی وفد آرمی چیف سے ملا، انہوں نے بھی نیب کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی شکایات پیش کیں۔ یہ وہ حالات تھے جن میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے نیب قانون میں ترمیم کی یقین دہانی کروائی۔

اس کے نتیجے میں 28 دسمبر 2019 کو جاری ہونے والے ترمیمی آرڈنینس میں سب سے اہم تبدیلی سیکشن 4 میں کی گئی، جو کہ آرڈیننس کے اطلاق کے دائرے کا تعین کرتا ہے۔ اس سے قبل آرڈنینس تمام پاکستانی شہریوں اور موجودہ اور سابق سرکاری ملازمین پر لاگو ہوتا تھا۔ ترمیم نے کچھ قسم کے لوگوں اور معاملات کو اس کے دائرے سے نکال دیا، جن میں ( 1 ) ٹیکس اور دیگر محصولات سے متعلق معاملات، ( 2 ) غیرسرکاری افراد کے ایسے معاملات جن کا تعلق عوام الناس سے فراڈ کے جرم سے نہ ہو، ( 3 ) سرکاری پراجیکٹس اور سکیموں میں افراد اور اداروں کی جانب سے ضابطے کی کارروائیوں میں ایسی کوتاہیاں جو غیرقانونی مالی مفاد کے حصول کے لئے نہ کی گئی ہوں، اور ( 4 ) ایسے معاملات جن میں کسی موضوع کے حوالے سے کوئی مشورہ، رائے یا رپورٹ غیرقانونی مالی مفاد کے حصول کے بغیر دی گئی ہو۔ اس کے علاوہ ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ وسائل سے زیادہ اثاثوں کے کیس میں ڈی سی ریٹ یا ایف بی آر ریٹ کے حساب سے مالیت قابل اطلاق سمجھی جائے گی۔ مزید یہ بھی طے پایا کہ غیرقانونی دولت اکٹھی کرنے یا اثاثے بنانے کی معقول تائیدی شہادت کے بغیر، ڈیوٹی کے دوران میں کی گئی معصومانہ غلطی پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔

پونے دو سال بعد 6 اکتوبر 2021 کو جاری ہونے والے ترمیمی آرڈنینس نے سیکشن 4 میں کچھ مزید وضاحتیں کرنے کے علاوہ اعلٰی درجے کے اقتصادی اور دیگر حکومتی فیصلے کرنے والے ادارے یعنی وفاقی و صوبائی کابینہ، مشترکہ مفاداتی کونسل، اس کی کمیٹیاں، قومی فنانس کمیشن، قومی اقتصادی کونسل اور اس کی ایگزیکٹو کمیٹی، مرکزی، صوبائی اور محکمانہ ترقیاتی ورکنگ پارٹیاں اور سٹیٹ بینک بھی نیب قانون سے مستثنٰی کر دیے گئے۔ اسی ترمیم سے منی لانڈرنگ بھی نیب کے دائرے سے نکل گئی۔ تاہم 31 اکتوبر 2021 کو ایک اور ترمیم کے ذریعے منی لانڈرنگ کے کیسز کو واپس 6 اکتوبر والی پوزیشن پر دوبارہ نیب کے حوالے کر دیا گیا ( اس ترمیم کو سیاسی مخالفین کو پھنسائے رکھنے کا عمل قرار دے کر اس پر بعض حلقوں سے خاصی تنقید بھی ہوئی) ۔

موجودہ حکومت نے 22 جون 2022 کے ترمیمی ایکٹ کے ذریعے منی لانڈرنگ والا استثنا بھی دوبارہ متعارف کرا دیا اور پچھلی حکومت کی دی گئی استثناؤں میں دو اضافے اور بھی کیے : ایک تو مشورہ، رائے یا رپورٹ کے ساتھ ساتھ غیرقانونی مالی مفاد کے حصول کے بغیر کیا گیا ”فیصلہ“ بھی مذکورہ بالا چوتھے پوائنٹ میں شامل کر دیا، اور دوسرے ایسے تمام معاملات کو بھی الگ کر دیا جن کے الگ ریگولیٹری ادارے موجود ہیں (یاد رہے کہ یہ ”انتظامی اداروں“ سے الگ ایک اصطلاح ہے، ریگولیٹری اداروں کے اپنے متعلقہ شعبوں کی نگرانی، کنٹرول اور سزاؤں کے حوالے سے مخصوص، مفصل اور بہت واضح قواعد موجود ہیں ) ۔ یہ چیز گزشتہ اور موجودہ حکومت نے ایک جیسی کی کہ ان کی گئی ترامیم کے نتیجے میں متاثر ہونے والے تمام کیسز نیب اور احتساب عدالتوں کے دائرہ اختیار سے خودبخود متعلقہ فورم کی جانب ٹرانسفر سمجھے جائیں گے۔

اب ہم اس تناظر میں ارشاد بھٹی صاحب کے اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں۔

( 1 ) ”ایک ترمیم ہوئی، بیرون ملک سے آیا ثبوت قابل قبول نہیں ہو گا، مطلب مریم نواز کا کیلبری فونٹ کیس ختم“ ۔ پہلے نیب قانون یہ کہہ رہا تھا کہ پاکستان میں ہر طرح کے معاملات میں نافذالعمل قانون شہادت کے طے کردہ اصولوں سے قطع نظر جو ثبوت بھی کسی غیر ملک کی حکومت بھیج دے، بلا جھجک تسلیم کیا جائے گا۔ اس سے ہمیشہ یہ احساس رہا کہ ہم غیرملکی حکومتوں کے دیے گئے ثبوت کی سچائی کو حدیث سے بھی زیادہ کسی قرآنی آیت کی سی اہمیت دیتے ہیں، کیونکہ حدیث کی روایت کی درستی کو بھی علمائے کرام متعلقہ پیمانوں پر ماپتے ہیں ؛ جبکہ ہم نے غیرملکی حکومت کے ثبوت کو جانچنے پر بھی پابندی لگا رکھی تھی۔

اس نکتے کے سیاسی مضمرات کیا کچھ ہو سکتے ہیں، اس کا علم تو رجیم چینج آپریشن پر ایمان رکھنے والوں کو خوب ہونا چاہیے۔ ہماری رائے میں یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔

( 2 ) ”ایک ترمیم ہوئی، ملزم کی منی ٹریل دینے کی ذمہ داری ختم، مطلب نواز شریف کیس سمیت وہ تمام کیسز ختم، جہاں پوچھا جا رہا تھا کہ پیسہ آیا کہاں سے، پیسہ کمایا کہاں سے“ ۔ یہ بھی نادرست بات ہے۔ ایک تو یہ کہ منی لانڈرنگ کا قانون اپنی جگہ موجود ہے، نیب کے اختیار سے ضرور نکل گیا؛ لیکن اگر بادی النظر میں کیس بنانے کی کوئی بنیاد موجود ہے تو کیس بھی بنے گا اور منی ٹریل بھی دینی پڑے گی۔

ہاں البتہ پاکستان میں ٹیکس چور کاروباری لوگوں کے لاکھوں بے نامی اکاؤنٹس میں سے آپ کسی گواہی، ثبوت اور دستاویزی شہادت کے بغیر اوکاڑہ یا ایبٹ آباد کے اکاؤنٹ کو آصف زرداری کا یا خیرپور کے اکاؤنٹ کو نواز شریف کا اکاؤنٹ قرار دے کر انہیں گرفتار کر لیں اور نوے دن کے لئے نیب کی حوالات میں ڈال لیں، یہ اب نہیں ہو سکتا۔ آپ کو سیاسی مخالفین کو ایسے اکاؤنٹس کے ساتھ لنک کرنے کے لئے اب کچھ بنیادی ورکنگ کرنی پڑے گی۔

( 3 ) ”ایک ترمیم ہوئی، منی لانڈرنگ نیب کے دائرہ اختیار سے باہر، مطلب بیسیوں منی لانڈرنگ کرنے والے معززین گھر بیٹھے بٹھائے نیب سے بچ نکلے“ ۔ اس پر تبصرہ پچھلے نکتے میں آ گیا۔ ایک سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ آخر کتنے منی لانڈرنگ کیسز میں نیب سزا دلوانے میں کامیاب ہوا ہے، جو اسی پر تکیہ کیے رکھنا ضروری ہے۔ ویسے بھی نیب سے بچ نکلنا کوئی چیز نہیں، قابل اعتراض بات یہ ہو گی کہ کوئی قانون سے بچ نکلے، یا عدالتوں کو کمپرومائز کر نے میں کامیاب ہو جائے۔

ایسا کام نیب کا قانون ہو یا کوئی دوسرا دونوں صورتوں میں ممکن ہے، لہٰذا اس ترمیم سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

( 4 ) ”ایک ترمیم ہوئی، اثاثوں کی تعریف تبدیل کر دی گئی، مطلب جو اثاثہ ملزم کے نام وہی اثاثہ سمجھا جائے گا، ملزم کی بیوی، بچوں، رشتہ داروں، ملازمین کے نام پر جائیدادیں ملزم کے اثاثے تصور نہیں ہوں گے مطلب باقیوں کے ساتھ ساتھ شہباز شریف ٹی ٹی کیس، زرداری صاحب جعلی اکاؤنٹس کیس سے بری“ ۔ یہ کمنٹ قانون کا فہم نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔

متعلقہ شق میں صرف قانونی زبان کو بہتر کیا گیا ہے، فالتو الفاظ ختم کر کے بے نامی اثاثے کا ذکر باقی رکھا گیا ہے۔ ایسے اثاثوں کا مالک بیوی بچے، رشتے دار اور ملازم سب ہو سکتے ہیں۔

( 5 ) ”ایک ترمیم ہوئی، بے نامی دار کی تعریف تبدیل کر دی گئی، آسان لفظوں میں کوئی پبلک آفس ہولڈر اب دل کھول کر اپنی جائیدادیں، اثاثے دوسروں کے ناموں پر بنائے، بالکل پوچھا نہیں جائے گا“ ۔ یہ تبصرہ لاعلمی یا تعصب کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس کی وضاحت پچھلے نکتے میں آ گئی ہے۔

( 6 ) ”ایک ترمیم ہوئی، جائیدادوں کی مارکیٹ ویلیو نہیں، ان پر ڈی سی ریٹ لاگو ہو گا مطلب ملزم کی جائیداد کروڑوں کی، ملزم اسے ہزاروں، لاکھوں کی بتا کر پتلی گلی سے نکل جائے گا“ ۔ یہ ترمیم عمران خان حکومت کے دور میں ہوئی تھی۔ اس کا تذکرہ اوپر آ چکا ہے۔ ویسے ملزم کے ”بتانے“ کو تو قانون نہیں بنایا گیا، یہ تو ریکارڈ سے چیک ہونا ہے کہ ڈی سی ریٹ یا ایف بی آر ریٹ کیا ہے۔

اس ترمیم پر اعتراض سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ مارکیٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت کا ریکارڈ سرکاری محکموں میں کس انداز میں رکھا جاتا ہے۔ اشٹام اور رجسٹری پر کیا لکھا جاتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ سے ڈیل کرنے والا ہر فرد جانتا ہے کہ ہر طرح کے ریکارڈ میں ڈی سی ریٹ یا ایف بی آر ریٹ ہی لکھا جاتا ہے۔ یہ ترمیم اس لئے کی گئی کہ خریدتے وقت لکھی گئی قیمت کی درستی یا غلطی جاننے کا کوئی اور طریقہ ممکن نہیں ؛ جبکہ اس سے پہلے نیب کے تفتیشی افسران اپنی مرضی کا مارکیٹ ریٹ لگا کر کیس میں جان ڈال لیا کرتے تھے۔

( 7 ) ”ایک ترمیم ہوئی، کابینہ، ایکنک، ریگولیٹری اتھارٹیز، بیوروکریسی کے فیصلوں کو نیب سے تحفظ حاصل، مطلب کوئی بھی دونمبری کرو اسے کابینہ، ایکنک، ریگولیٹری اتھارٹی سے منظور کروا لو یا بیوروکریسی جو دونمبری کرے، دونوں صورتوں میں نیب منہ دیکھتا رہ جائے گا“ ۔

ایک تو یہ کہ یہ ترمیم بھی عمران دور میں ہوئی۔ دوسرے یہ کہ اس میں ”بیوروکریسی“ کا لفظ جو کہ ساری افسر شاہی کو ظاہر کرتا ہے لاعلمی یا بد دیانتی سے ڈالا گیا ہے، اور تیسرے یہ کہ موصوف کی بات سے تاثر یہ ملتا ہے کہ اتنے بڑے بڑے ملکی ادارے جو قومی پالیسیاں بناتے اور ان کا نفاذ کرتے ہیں وہ سب تو کرپٹ ہیں، لیکن نیب میں جنید بغدادی اور بایزید بسطامی بیٹھے ہیں۔ جبکہ حقیقت یوں ہے کہ ان اداروں کے فیصلہ ساز یک رکنی نہیں ہوتے کئی افراد پر مشتمل کمیٹی یا بورڈ ہوتا ہے جو ایک دوسرے کی رائے کو وزن دینے سے انکار نہیں کر سکتے، دوسری طرف نیب کے تمام فیصلے چیئرمین کی انفرادی صوابدید پر ہوتے ہیں۔

جدید فیصلہ سازی میں ایک شخص کی بجائے زیادہ لوگوں پر مبنی اداروں پر انحصار کیا جاتا ہے، کیونکہ ایک فرد کو کمپرومائز کرنا، پورے بورڈ کو کمپرومائز کرنے سے زیادہ آسان ہوتا ہے۔

( 8 ) ”ایک ترمیم ہوئی، نیب کو صدر کے دائرہ اختیار سے نکال کر وزارت داخلہ کے ماتحت کر دیا گیا، مطلب نیب کی خودمختاری ختم، اب یہ ایک وزارت کا ذیلی ادارہ، آسان لفظوں میں نیب اب ایف آئی اے ٹو“ ۔ یہاں وزارت داخلہ کہنا غلط ہے، وفاقی حکومت کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے، جس کا مطلب پوری کابینہ ہے، لیکن تنہا کابینہ نہیں، قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت بھی ضروری ہے ؛ اگر وہ متفق نہ ہوں تو ماضی کی طرح معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا۔

یہاں بھی غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے، کہ صدر تو صد فیصد دیانتدار اور غیرجانبدار ہوتا ہے اور حکومت اور اپوزیشن مل کر بھی نری بدعنوان ہوتی ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2