اسلام آباد یا کنٹینر آباد


شہر اقتدار اسلام آباد کے باسیوں کی قسمت ہی شاید ایسی ہے کہ انہیں ہر دو چار ماہ بعد کسی نہ کسی غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس وقت بھی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ممکنہ لانگ مارچ اور دھرنے کو روکنے کے لئے کنٹینرز نے وفاقی دارالحکومت کو چاروں اطراف سے ”گھیرے“ میں لیا ہوا ہے۔ گھر سے باہر نکلیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اسلام آباد میں نہیں بلکہ کنٹینر آباد میں رہائش پذیر ہیں۔ مصدقہ حکومتی ذرائع کے مطابق اس وقت شہر بھر میں 1230 سے زائد کنٹینرز روزانہ صبح و شام رہائشیوں کو منہ چڑاتے ہوئے آدھا خون خشک کر دیتے ہیں کہ کوئی وقت جا رہا ہے جب ہم تمہارا نظام زندگی مفلوج کر دیں گے۔

مہنگائی کی چکی میں پسے عوام سڑکوں پر خواری کے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار کر نے میں مصروف ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آنے والا لانگ مارچ دھرنے شکل میں طوالت اختیار کر جائے۔ ایک طرف وفاقی حکومت اور دوسری طرف عمران خان ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر ایک دوسرے کو ”ٹیسٹر“ لگا رہے ہیں کہ آیا رد عمل کیا ہو گا۔ لانگ مارچ یا دھرنوں کا راستہ روکنے کے لئے ماضی میں تواتر سے کنٹینرز کا استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن اس ہونہار حکومت کے وزیر داخلہ نے تو ”خندقیں“ کھود کر ”مکو“ ٹھپنے کا نیا راستہ بھی تلاش کر لیا ہے۔

پر امن احتجاج اور لانگ مارچ کسی بھی جمہوری معاشرے میں جمہور کا حق ہیں، انہیں بزور طاقت تمام تر ریاستی مشینری استعمال کرتے ہوئے دیوار سے لگانے کی سعی کرنا کسی بھی طور دور اندیشی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے دھرنوں اور لانگ مارچ کی وجہ سے معیشت پر ہمیشہ خاصا بوجھ پڑا ہے۔ سیکورٹی انتظامات، کنٹینرز کا کرایہ، ریاستی مشینری، انتظامیہ کے اخراجات اور دیگر نقصانات کا تخمینہ لگانا مشکل ہے البتہ محتاط اندازے کے مطابق ایسی سیاسی سرگرمیاں وطن عزیز کو اربوں روپے میں پڑتی ہیں۔

ایک خبر کے مطابق خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر سے 12 سو سے زائد کنٹینرز اسلام آباد پہنچانے کی وجہ سے سپلائی کا نظام معطل ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں تاجروں نے اربوں روپے ڈوبنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تاجر رہنماؤں کے مطابق وفاقی حکومت نے جلد بازی میں جو کنٹینرز اسلام آباد میں جمع کیے ہیں ان میں خالی اور سامان سے بھرے کنٹینرز بھی شامل ہیں جس میں تمام سامان پھنس گیا ہے۔ ان کنٹینرز میں تاجروں کا اربوں روپے کا سامان لدا ہے جس کو روکنے کی وجہ سے ٹریڈرز کے اربوں روپے ڈوب جائیں گے کیونکہ یہ کنٹینر شپنگ کمپنیوں کے ہیں جو مقامی تاجروں نے آٹھ سے 10 لاکھ روپے کی سکیورٹی رقم کی ادائیگی کے بعد حاصل کیے ہیں۔

یومیہ حساب سے ایک سو ڈالر یعنی تقریباً 22 ہزار پاکستانی روپے کرایہ ہے جب یہ کنٹینرز واپس شپنگ کمپنی کے وئیر ہاؤس میں پہنچ جاتے ہیں تو سکیورٹی کی مد میں جمع کی گئی رقم واپس کردی جاتی ہے۔ اس تمام تر صورتحال سے کے براہ راست ملکی معیشت اور عوام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سلسلے میں نقصانات اور تصادم سے بچاؤ کے لئے حکومت کو متبادل حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے مذاکرات میں پہل کرنی چاہیے۔ عمران خان کی اقتدار سے علیحدگی پر برہمی اپنی جگہ تاہم انہیں تھوڑی لچک کا مظاہرہ ضرور کرنا ہو گا، ابھی تک چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ یا دھرنے بارے حتمی اعلان کے نہ ہونے سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ وہ کسی ”اشارے“ کے منتظر ہیں۔

حکومت اور عمران خان دونوں کو چاہیے کہ آنے والا طوفان روکنے کے لئے کوئی درمیانی راستہ نکالیں۔ لانگ مارچ، دھرنے، گالم گلوچ، نت نئے انکشافات ملک کو بند گلی کی جانب دھکیل دیں گے۔ اشاروں کنایوں کی سیاست نے ہمیشہ ملکی حالات میں بگاڑ پیدا کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر کے حالیہ بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 25 ارب بارے نشاندہی نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ سیاسی گرما گرمی میں ”بھڑوں“ کے چھتے کو چھیڑ دیا گیا ہے جو فریقین کے چہرے ”سجا“ سکتے ہیں، ستم بالائے ستم کہ ہاتھیوں کی اس لڑائی میں عوام کا کسی کو خیال نہیں اور ہو گا بھی کیوں؟ جمہور تو ہمیشہ سے قربانی کا بکرا ہیں۔

Facebook Comments HS