دی لیجنڈ آف مولا جٹ


کچھ سال قبل جب پہلی دفعہ بلال لاشاری کی فلم ”دی لیجنڈ آف مولا جٹ“ کا ٹیزر دیکھا تو یوں محسوس ہوا کہ یہ چند خوشحال، شوقیہ انگریزی تھیٹر کرنے والے سپوتوں کے اذہان کی اس حالت میں پیداوار ہے جب رات کے تیسرے پہر، دنیا و مافیا کے مسائل سے بے پرواہ، اسلام آباد کے کسی پوش علاقے کے ہاٹ سپاٹ ٹائپ کیفے میں ”دی لارڈ آف دی رنگز“ اور ”گلیڈیئٹر“ فلمیں ڈسکس کرتے کرتے سلطان راہی کے کسی پوسٹر پر دھیان پڑ جائے۔

مارکیٹ میں نام، ملک کی انتظامی مشینری کے زیر سایہ کیے گئے بڑے پراجیکٹس (جن کے فیل ہونے کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے ) ، حلقہ احباب کے بڑے بڑے اداروں کے ساتھ تعلقات، ملک کی بڑی کاروباری شخصیات تک اپروچ اور ان کا کسی بھی صورت آپ کے لیے مدد گار ہونے کے لئے اتاولا پن اور اس پر آپ کا خود پر (بڑوں کی طرف سے دیا گیا بیوروکریٹک) بے پناہ اعتماد، کسی بھی قسم کی مہم شروع کرنے اور مکمل کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔

گزشتہ دن فلم دیکھی، ایک ایک سین اور ایک ایک کیریکٹر کا بغور مطالعہ کیا، تکنیکی طور پر ساونڈ اور ویژول ایفیکٹس کا جائزہ لیا، اس کو ایک انتہائی عمدہ کوشش پایا، ویسے تو بھارت میں یہ ٹرینڈ ”بہو بلی“ کی کامیابی کے بعد چل نکلا ہے اور حال ہی میں ”برہما شٹرا“ اور ”شمشیرا“ جیسی فلموں کے پردہ سکرین پر آنے کے بعد ”دی لیجنڈ آف مولا جٹ“ کسی صورت ان فلموں سے کم نہیں، لیکن یہاں کریڈٹ لاشاری کو جاتا ہے کیونکہ یہ فلم 2016، 17 میں بنائی گئی ہے، اگر یہ اپنے ٹھیک وقت پر ریلیز ہوتی تو یقیناً بھارتی فلمیں اسی کا ٹرینڈ یا تسلسل معلوم ہوتیں۔

ہاں جہاں تک بات ہے ”کاسٹنگ“ کی تو کچھ کردار (جو بہت اچھے ایکٹر تھے ) لیکن پنجابی معلوم نہیں ہو رہے تھے، مرکزی کردار بہت اچھے تھے اور ان کی کاسٹ ویلیو کی وجہ سے ان کو تھوڑا بہت لیوریج بھی دیا جاسکتا ہے، مگر شاید کچھ کیریکٹر رولز میں بہتر لوگوں کو کاسٹ کیا جا سکتا تھا۔

خبروں کے مطابق ناصر ادیب شاید شروع دن سے اس پراجیکٹ کا حصہ نہیں تھے، کیونکہ وہ بعد میں شامل ہوئے اس لیے بہت سے مشہور (پنچ) ڈائیلاگز اصل پرانی ”مولا جٹ“ کے مطابق فلم میں شامل کیے جا سکتے تھے، جو فلم کو مزید خوبصورت بنا دیتے، لیکن اس کے باوجود فلم کی کہانی اور ڈائیلاگز اچھے تھے۔

اوور آل جدید تقاضوں کے مطابق یہ ایک عمدہ تفریحی فلم ہے، انٹر مشن سے دس منٹ پہلے تک فلم گرتی ہوئی محسوس ہوئی لیکن انٹر مشن کے بعد فلم اٹھی اور اختتام تک جاذب نظر رہی۔

Facebook Comments HS