شکست کے اسباب تلاش کرنے کی ضرورت ہے
ایک سچے اور پکے مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی شکست کے اسباب خود ہی تلاش کر کے آئندہ ان اسباب سے بچا رہے، پھونک پھونک کر قدم رکھے اور پلٹ کر بازی لے جانے کے لیے مزید محنت کرے۔ قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی سیرت سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں غزوہ احد میں مسلمانوں کی ظاہری اور وقتی شکست کے ان اسباب کی تفصیل سے نشاندہی کی گئی ہے جن کے نتیجے میں مسلمانوں کو خسارے سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ ان میں سب سے واضح اور بنیادی سبب ایک تو یہ تھا کہ تیر اندازوں کو اپنے مرکز پر ڈٹے رہنے کا جو حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہ سکے۔ سو اللہ تعالی نے بتا دیا کہ میرے حبیب ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کا انجام کتنا المناک ہو سکتا ہے۔
دوسرا اس وقتی اور ظاہری شکست میں ایک حکمت یہ بھی پوشیدہ تھی کہ اللہ تعالی پہلے اپنے برگزیدہ بندوں کو ابتلاء اور آزمائش سے گزارتا ہے لیکن پھر انجام کار کامیابی انہیں کی مقدر ہوتی ہے۔ اگر انہیں ہمیشہ کامیابی ہی کامیابی حاصل ہو تو اہل ایمان کی صفوں میں منافقین بھی گھس آئیں گے اور پھر سچے مسلمان اور جھوٹے میں تمیز نہ ہو سکے گی اور اگر ہمیشہ شکست ہی شکست سے دوچار ہوں تو ان کے آگے بڑھنے کا مقصد ہی پورا نہ ہو سکے گا۔
شکست نہ ہوتی تو وہ منافقین جو مال غنیمت کے حصول کے لیے مسلمانوں کے ساتھ جنگوں میں شریک ہوتے تھے، ان کا نفاق کبھی مسلمانوں پر ظاہر نہ ہوتا اور نہ کبھی انہیں یہ معلوم ہوتا کہ خود ہمارے اندر بھی آستین کے سانپ چھپے ہوئے ہیں۔ میدان جنگ میں شہسوار ہی گرتے ہیں، شکست سے نفس کا غرور بھی ٹوٹتا ہے اور انسان کے اندر عاجزی اور خاکساری بھی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ذکر کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہمارے ہاں رائج جمہوریت میں انتخابات کی جنگ حق اور باطل کی جنگ ہے، نہیں نہیں، بلکہ یہ کرسی (اختیار) کے حصول کی جنگ ہے۔
حق اور باطل کا پتہ تو اختیار ملنے کے بعد ہی چلتا ہے کہ کون اپنے اختیارات کا درست استعمال کرتا ہے اور کون غلط۔ کون حق کے لیے کرتا ہے اور کون باطل کے لیے۔ کون اختیار حاصل کر کے موسی کا کردار ادا کرتا ہے اور کون فرعون کا؟ عرض کرنے کا مقصد مگر یہ ہے کہ شکست کے بعد شکست کے اسباب ڈھونڈنے کی بجائے رونا دھونا اور عوام کے سامنے کسی کی سفید ریش، علم، تقدس اور بزرگی کے حوالے دے کر انہیں کوسنا کسی طرح بھی لائق تحسین عمل نہیں ہے۔
اس سے قربت نہیں بلکہ مزید دوری ہی پیدا ہوگی۔ اس کے برعکس شکست کی وجوہات تلاش کر کے ان کو نہ دہرانے کا عزم کرنا ہی مستقبل کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ لائق طالب علم وہ ہوتا ہے جو امتحان میں فیل ہونے سے سبق سیکھ کر اگلے راؤنڈ کے لیے تیاری کرے۔ پھر انتخابات کو حق اور باطل کی جنگ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے کہ ایک امیدوار کی آپ تائید کرتے ہیں جو ڈھول ڈھمکے کو عام کرنے کا عزم بار ہا کرچکا ہے اور دوسرے مد مقابل کی مخالفت کرتے ہیں جو اقتدار سے پہلے اور بعد میں لڑکیوں کو نچانے کا کام بخوبی انجام دے چکا ہے۔
بتائیے اس میں حق کس کو کہا جائے، باطل کس کو، اور کس قانون کے تحت؟ شکست کی وجوہات ڈھونڈنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر عوام آج علماء طبقے کو ووٹ نہیں دیتے، ان سے دور بھاگتے ہیں اور ان سے بدظن ہو چکے ہیں تو اس کے اسباب کیا ہے؟ کیا انہیں گالی کا جواب گالی سے دینے سے وہ قریب ہوں گے یا پھر دلیل کی بنیاد پر شائستگی سے انہیں قائل کرنا زیادہ مناسب ہو گا؟
جمعیت کے بعض امیدواروں کے ہارنے کے اور بھی اسباب ہو سکتے ہیں لیکن میرے خیال سے ایک بڑی وجہ ورکرز کا انتہائی غیر مناسب رویہ بھی ہے جو فیس بک پر آئے دن ہم دیکھتے رہتے ہیں اور جس کی وجہ سے نوجوان نسل صرف جمعیت سے ہی نہیں بلکہ دیگر علماء سے بھی بدظن ہوتی جا رہی ہے۔ انتخابات سے قبل دو امیدواروں کی تصاویر شیئر کر کے ان کے ماضی کا موازنہ کرنا، فریق مخالف جیسے لاکھوں کو اپنوں کے جوتوں پر قربان کرنا اور ایک کو حق سے اور دوسرے کو باطل سے تعبیر کرنا کون سی معقول کمپین ہے؟ اس میں شک نہیں کہ بدتہذیبی اور بدزبانی میں پی ٹی آئی کے بعض ورکرز نے حد کردی ہے اور اس کا اظہار تقریباً سب ہی ان کالم نگاروں نے کیا ہے جنہوں نے تحریک انصاف کے خلاف کبھی لکھا ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی تو نہیں کہ گالی کا جواب گالی سے اور بدکلامی کا بدکلامی سے دیا جائے۔
عوام کی ایک بڑی تعداد علماء کی سرے سے سیاست میں موجودگی ہی کو درست نہیں سمجھتی۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ مولوی کو تو فقط اپنی مسجد اور مدرسہ تک محدود ہونا چاہیے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مذہبی طبقے کو بھی انتخابات میں بھرپور ووٹ ملے تو پہلے اس سوچ کے خلاف کام کرنا ہو گا۔ سیاست میں علماء کی موجود گی کی ضرورت پر بات کرنی ہوگی، اچھے اخلاق کی اہمیت اور گالم گلوچ اور بد زبانی کا وبال عوام کو بتانا ہو گا
انہیں اس بات کی آگہی دینا ہوگی کہ اس ملک میں جمہوریت رائج ہے اور جمہوریت میں جس طرح ایک عام آدمی کو انتخابات لڑنے کا حق حاصل ہے اسی طرح ایک عالم دین کو بھی ہے۔ قرآن کریم کی یہ آیت علماء ہی تو دہراتے ہیں ”کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہو سکتے“ پھر خود کو اہل علم کہنے اور کردار ایک عام آدمی کی طرح ادا کرنے میں کیا کھلا تضاد نہیں؟ قرآن کریم نے تو مشرکین کے جھوٹے معبودوں کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے حالانکہ جن دیوتاؤں کو کافر و مشرک لوگ خدا مانتے تھے وہ باطل ہی تھے لیکن پھر بھی مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کافروں کے سامنے ان کے لیے نازیبا الفاظ استعمال نہ کیا کریں، کیونکہ کافر لوگ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کر سکتے ہیں، اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو اس کا سبب گالی دینے والا بنے گا۔ خلاصہ یہ کہ ذہن سازی کی ضرورت ہے الجھنے کی نہیں، ورنہ یہ جمہوریت ہماری وحدت کو مزید پارہ پارہ کر دے گی۔


