حکومت پنجاب اور انکروچمنٹ


پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس ”2019 کے سیکشن 277 کے تحت شیڈول نمبر 15“ جو بلدیاتی جرائم کے متعلق ہے۔ اس کی ابتداء میں بلدیہ کی طرف سے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وقف خالی سرکاری اراضی کی حدود کے غیر قانونی استعمال کے متعلق درج جرائم کی سیریل نمبر تین کی روح کے مطابق لوکل گورنمنٹ کی ملکیت کی حدود وہ چاہے کوئی سڑک ہو، گلی ہو، قبرستان ہو، غیر آباد اوپن کھلی جگہ ہو یا اس کی حد بندی کی گئی ہو، تعمیر شدہ ہو یا غیر تعمیر شدہ اس اراضی حدود کے اوپر، زیر زمین اور اس کی فضائی حدود میں لوکل گورنمنٹ کی تحریری اجازت کے بغیر رکاوٹ تعمیر کرنا یعنی گھر کے باہر دہلیز، سیوریج ہودیاں، تھڑے اور فضائی حدود میں مکان کی بالائی منزل پر شیڈ اور اس کے اوپر بالکونی بنانا بلدیاتی جرم ہے۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایسی انکروچمنٹ کے خلاف بھرپور کارروائی کے ساتھ بھاری جرمانہ اور دوران کارروائی ہونے والے سرکاری اخراجات کا معاوضہ وصول کرنے مکمل کا اختیار رکھتی ہے۔

ریاستی قوانین کے باوجود تجاوزات کے حوالے سے جنوبی کی تحصیلوں کا جائزہ لیا تو بازاروں میں دکانوں کی مخصوص حد کے آگے سامان رکھے جانے سے راستے تنگ اور دشوار ملیں گے۔ عام پبلک مقامات پر گزر گاہیں تنگ دشوار اور تکلیف دہ دکھائی دیں گی۔ گلیوں، محلوں میں گھروں کے آگے عوام کے لیے وقف شارع عام کی سرکاری حدود میں ناجائز لمبے چوڑے تھڑے بنے ہوئے دکھائی دیں گے۔ یہ تجاوزات خطرناک جانی اور مالی حادثات کا باعث بنتی ہیں اور جب کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو محلے دار افسوس اور اظہار تعزیت بھی کرتے ہیں لیکن اپنی بنائی ہوئی ناجائز تجاوزات کو پھر بھی جوں کا توں برقرار رکھتے ہیں۔ سرکاری شارع عام کی فضائی حدود میں مکانوں کے فرسٹ فلور پر ناجائز اور غیر قانونی بالکونیاں بجلی کے کھمبوں کے درمیان الیکٹرک تاروں کی سپلائی میں رکاوٹ سے سینکڑوں خطرناک جانی مالی حادثات رونما ہوچکے ہیں۔

جن سے ارد گرد اور آس پاس کے گھروں کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے اور بے پردگی کے واقعات گلی محلوں میں شر اور فساد کا باعث بنتے ہیں۔ گلی محلوں اور شاہراہوں پر ان بالکونیوں کے گرنے سے انسانی آئے روز عام راہ گیروں زندگیاں کچلی جاتی ہیں۔ جبکہ ارد گرد اور آس پاس کے گھروں کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے اور بے پردگی کے واقعات گلی محلوں میں شر اور فساد کا باعث بنتے ہیں

لیکن پھر بھی اچھے پڑھے لکھے تعلیم یافتہ، دین و دنیا کا علم کھنے والے با شعور لوگ بھی اپنے گھر کے آگے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وقف بلدیہ کی زمینی و فضائی حدود میں جان بوجھ کر غیر قانونی تھڑے اور بالکونیاں بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ اور بلدیہ افسران شکایت کے باوجود محکمانہ کارروائی کے بجائے متاثرہ شخص کو صبر و برداشت کی مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ بہت سے لوگ بلدیہ قوانین کو جانتے ہوئے بھی اطمینان سے ناجائز تعمیرات کا غیر قانونی اقدام اس لئے کرتے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ بلدیہ کا کوئی ملازم ان سے ناجائز تجاوزات کے معاملے میں کبھی پوچھ گچھ کی زحمت نہیں کرے گا۔

عمارتوں کی تعمیر کرنے والے کاریگر حضرات بھی گلیوں محلوں میں ناجائز تجاوزات کی تعمیرات بے دھڑک اطمینان سے کر دیتے ہے۔ بلدیہ سے منظور شدہ نقشے کی اپروول کے بغیر عمارت یا بلڈنگ کی ناجائز تجاوزات کی تعمیر اور کنسٹرکشن کرنے والے کاریگر حضرات کو بھی قانونی لحاظ سے واضح طور پر صرف منظور شدہ نقشے کی حدود کے اندر تعمیرات کرنے کا سختی سے پابند بنایا جاتا تو کاریگر حضرات بھی گلیوں محلوں اور بازاروں میں ناجائز تجاوزات کی تعمیر کرنے سے باز رہتے اور آج گلیوں محلوں اور بازاروں میں گزر گاہیں اس قدر تنگ اور دشوار نہ ہوتیں اور نہ ہی ناجائز تجاوزات کے مسائل سے پیدا ہونے والے نتائج اس قدر بھیانک اور شر انگیز ہوتے۔

ملک کی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کی طرف سے انکروچمنٹ کے حوالے سے بڑے واضح اور دلیرانہ فیصلے موجود ہیں۔ جس سے بلدیہ حکام بخوبی آگاہ ہیں۔ لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ عدالت ہائے کے فیصلہ جات کے باوجود بھی ناجائز تجاوزات کے خلاف اطمینان بخش کارروائی کے بجائے محض دکھاوے کی حد تک نامکمل اور ادھوری کارروائی کی ہی زحمت کی جاتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بنا کسی جھجک کے جلد ہی ناجائز تجاوزات پھر سے کھڑی کردی جاتی ہیں اور صورت حال جوں کی توں رہتی ہے۔

حال ہی میں ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کے علاقے رحمان کالونی میں بلڈنگ کی سیکنڈ فلور پہ بالکونی میں کھیلتے ہوئے دو پھول سے پیارے معصوم بچے بالکونی کے قریب سے گزرتی بجلی کی تاروں کا کرنٹ لگنے سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس المناک حادثے سے پورا شہر سوگوار ہوا۔ لیکن مجال ہے کہ ایسے ہولناک حادثات پر بھی حکومت پنجاب نے بلا تفریق ناجائز تھڑوں اور بالکونیوں کی انکروچمنٹ کے خلاف کوئی قابل ذکر اقدام اٹھانے کی زحمت کی ہو۔

پنجاب کی تحصیلوں میں کروڑوں اربوں روپے کی قیمتی سرکاری اراضی پر بھی غیر قانونی قابضین مسلط ہیں۔ شاید اس ایک وجہ یہ بھی ہو کہ خود پنجاب حکومت بھی ناجائز تجاوزات کے خلاف ایکشن کے لئے کبھی سنجیدہ نہیں رہی۔ جبکہ ناجائز تجاوزات کے سبب خطرناک حادثات کی وجہ سے نہ جانے کتنے ہی سے معصوم اور بے قصور انسانی زندگیاں جان سے گزر چکی ہیں۔

اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ جات اور ریاستی قوانین ناجائز تجاوزات کے خلاف بھرپور قانونی کارروائیوں کا بھر پور تقاضا کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کو اس حقیقت پر توجہ دینی چاہیے کہ ناجائز تجاوزات کے خلاف بلدیہ افسران بھرپور قانونی اختیارات رکھنے کے باوجود بھی آخر کیوں از خود کارروائی کرنے سے گریز کرتے ہیں؟ بلدیہ ملازمین کے یہ ہی وہ افسوس ناک غیر ذمہ دارانہ رویے ہیں جن کی وجہ سے جنوبی پنجاب کی تحصیلوں میں عوام کی بڑی اکثریت کے نزدیک بلدیہ قوانین کی کوئی اہمیت نہیں۔

وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو چاہیے کہ انکروچمنٹ کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر پنجاب بھر میں تحصیل سطح پہ انکروچمنٹ کے معاملات اور مسائل کے لئے سپیشل افسران پہ مشتمل الگ ڈیپارٹمنٹ اور ٹیمیں تشکیل دے دی جائیں جو از خود انکروچمنٹ اور جدید کمپیوٹرائز طرز پہ نقشہ جات کی جلد سے جلد فراہمی کے لئے مخصوص ہوں۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ بلڈنگ اور عمارتوں کی تعمیر کرنے والے کاریگر حضرات کو بھی غیر قانونی ناجائز تجاوزات کی تعمیر کی روک تھام کے لئے قانونی طور پابند کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔

پنجاب حکومت اگر مکانوں عمارتوں کے نقشہ کی شیڈول فیسوں میں خصوصی رعایت اور نقشہ جات کے حصول کو ذلالتوں کی بجائے جدید کمپیوٹرائز طریقہ کار کے تحت شہریوں کے لئے فوری اور آسان کردے تو صرف نقشہ جات سے ہی قومی خزانے کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت پنجاب کو اندازہ ہونا چاہیے کہ ریاست میں انسانی طرز رہائش اتنا بنیادی، حقیقی اور مستقل مسئلہ ہے کہ معاشی اور سیاسی حالات جیسے بھی ہوں لیکن سماج میں لا قانونیت کی بے ہنگم حیوانی صورت حال کب تک گوارا کی جا سکتی؟

Facebook Comments HS