مملکت خداداد تھیٹر: قائم شدہ 1947
آپ نے کبھی ایسا تھیٹر ڈرامہ دیکھا ہے جس کے اداکار سٹیج پر بیٹھے پنڈال میں موجود ناظرین کی جنگلی پرفارمنس سے محظوظ ہو رہے ہوں؟ جب سٹیج واسیوں کے لطف میں کوئی کمی واقع ہو، ان میں سے کچھ اٹھیں تین چار طنابیں ہلائیں اور عوامی ڈرامہ پھر سے پرجوش ہو جائے؟ نہیں؟ تو پاکستان کے سیاسی سٹیج اور اس کے ناظرین کو دیکھئے۔ یہ ویسے یہ بھی عجب نگری، انوکھا راج ہے۔ یہاں ’لانے والے‘ اداکاروں کو لاتے ہیں، پہلے سے لائے گئے ہووں کے سامنے اتار دیتے ہیں اور پھر ہوتا ہے تماشا ۔
جمہوریت، ووٹ کو عزت، حقیقی آزادی وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ کبھی ایک کوئی ایک چیخ مارتا ہے تو سنائی دیتا ہے کہ عوام چارج ہیں۔ چارج کچھ کم ہونے ہی لگتا ہے تو کوئی دوسرا کراہتا ہے اور عوام میں پھر سے ہلچل۔ یہ یونہی چلتا ہے۔ عوام سر دھنتے ہیں تقسیم در تقسیم ہوئے چلے جاتے ہیں، ایک دوسرے کو نوچتے ہیں۔ اور پھر پردہ گرتا ہے اور نیا کھیل نئے کردار۔ آج کل جس موضوع کے ڈرامے پر عوام ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں وہ ہے ’لانے والوں‘ کی ’اداکاری‘ میں مداخلت، اس کی روک تھام اور مستقبل کے لئے پیش بندی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حقیقی آزادی گروپ نامی ’اداکاروں‘ کا گروہ اور ووٹ کو عزت دو گروپ نام بدل کر ایک ہی طرح کا سکرپٹ بول رہے ہیں۔ گو کہ ووٹ کو عزت دو گروپ نے میلہ پہلے لگا کر سٹیج پر بیٹھ کر عوامی پنڈال کا مزہ لیا لیکن اب حقیقی آزادی گروپ یہ موضوع لے کر عوام کا شغل دیکھ رہا ہے۔ عوامی پنڈال میں ہونے والی مار دھاڑ کے پیچھے ایک سوال مرکزی حیثیت کا حامل ہے کہ آیا ان دونوں گروپوں میں سے کس کی وجہ سے لانے والے عوام کے سامنے اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں۔
حقیقی آزادی گروپ کے مداح ناظرین سمجھتے ہیں کہ اب کہ جو زک پہنچی ہے گویا لانے والے کٹے ہوئے سانپ ہو گئے ہیں نہیں بچتے۔ عزت لٹ گئی ہے، نام خراب ہو گیا ہے کوئی ان کی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اور یہ سب گروپ پیشوا ’خان خاناں‘ حقیقی آزادی والے کی بدولت ہے جس نے روز نت نئے القابات سے پکار پکار کر لانے والوں کو جانے والے کر دیا ہے۔ دوسری جانب ووٹ کو عزت دو گروپ کے مداح ہیں۔ لانے والے چونکہ گروپ پر آج کل مہربان ہیں تو ان کے مداح بھی کہتے تو ہیں کہ دیکھیے ’لانے والوں‘ کو بے آبرو کرنے میں اگر کسی کا کردار ہے تو وہ ہم ہیں۔
ہمارے ’باپ بیٹی‘ کے کرداروں والے ڈرامے ووٹ کو عزت دو نے جو طوفان مچایا اسی نے لانے والوں کے قدم اکھیڑ دیے مگر یہ کہ اس معاملے کو اب کیا اٹھانا دفع کرو جی۔ چھوڑو۔ اس لڑائی میں جب جب عوامی پنڈال میں ہیجان کم ہونے کو ہوتا ہے دونوں گروپوں میں سے کوئی ایک کردار اٹھ کر ایک اور ’شدنی‘ چھوڑ دیتا ہے۔ ہیجان پھر سے عروج کو چھوتا ہے، یہ پھر سٹیج پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اتنے میں بیک سٹیج میں لانے والوں کی جانب سے اداکاروں کو لے جانے کی خاطر گاڑی کی آمد بارے اطلاع دی جاتی ہے، چار کوس کا کرایہ بچانے واسطے اس پیش کش کو فوری طور پر قبول کرتے ہی سٹیج خالی کر دیا جاتا ہے۔ عوامی پنڈال میں لانے والوں سے ’ٹکٹ‘ پر لکھے جملہ حقوق پورے کرنے کے نعرے گونجتے ہیں۔ لانے والے بطور ضامنین ’ٹکٹ‘ اگلی شفٹ کی تیاری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔


