عمران خان، مستری کا موچھا اور اخیر عمر میں مایوسی کی باتیں


ہمارے محلے میں ایک استاد بڑھئی رہا کرتے تھے۔ اپنے پیشہ میں خاصے نامور اور ماہر تو وہ تھے ہی لیکن ساتھ ہی تمام سماجی و سیاسی مسائل کے حل لیے ”موچھے“ کے استعمال کو باعث برکت اور اکسیر و مجرب گردانتے۔ دیسی زبان میں موچھا آری یا آرے کو کہا جاتا ہے۔ اسی تسلسل میں انہوں نے بعد میں باقاعدہ اپنے آپ کو آری بلکہ آرا اور اچھے بھلے دوسرے لوگوں لکڑی سمجھنا شروع کر دیا۔ اس طرح کی بنیادوں پر لگنے والی ہر سماجی بازی میں وہ مات ہو جاتے۔

اپنے سیکھے ہوئے ایک آدھ فن یا سبق کو فلسفہ حیات ہی سمجھ لینا انسانوں کا کوئی انوکھا مشغلہ یا مغالطہ نہیں ہے۔ اس کی تازہ ترین اور بڑی مثال عمران خان صاحب کی ہے جو صدق دل سے دنیا یا سیاست کو کرکٹ کا میدان، اپنے آپ کو اس کا کپتان اور لاکھوں تماشائیوں کو کھلاڑی وغیرہ سمجھ کر بلا زنی کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ انہوں نے قومی پیمانے پر سیاسی اصطلاحات بھی بدل ڈالیں اور اب میڈیا پر گیند یہ اور وکٹیں وہ وغیرہ کا ذکر عام ہونے لگا۔

اپنے شعوری ارتقائی سفر میں جب انسان جنگلی جانوروں سے سیکھ رہا تھا تو اکثر انسان شیر سے متاثر ہو جاتے اور دوسرے انسانوں کو بھیڑ بکری سمجھ کر ان پر حکومت کرنے کو اپنا حق تصور کر لیتے۔ اسی طرح جب انسان نے علم کی تلاش میں ستاروں کی طرف دیکھنا شروع کیا اور اس علم کی روشنی میں جونہی دوسرے انسانوں کو جانچنے کی کوشش کی گئی تو سماجی طور پر اس کا نتیجہ اس صورت میں برآمد ہوا کہ آج دنیا میں لاکھوں جوتشی خوب مال کما رہے ہیں۔

شیکسپیئر مرتے دم تک اس دنیا کو سٹیج ڈرامہ قرار دیتے رہے، مرزا غالب نے دنیا کو بازیچہ اطفال سے تشبیہ کیا اور علامہ اقبال کے نزدیک انسانیت کی معراج عقاب یا عقاب کی طرح بن جانے میں ہے۔ علامہ صاحب تو اس حد تک بھی چلے گئے کہ ممولہ بھی عقاب کے خصائل اپنا کر اپنے دنیاوی معاملات کو بہتر کر سکتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ محلے کا مستری ہی اس طرح سے نہیں سوچتا بلکہ بڑے بڑے نامی بھی اسی طرح کی سوچیں سوچ کر اور عوام کو فکری بکھیڑوں ڈال کر سورگ پدھارے ہوئے ہیں۔

ایک عمومی وتیرہ کے طور پر ہر قسم کے دنیاوی و الوہی حاصل شدہ علوم و شعور کو انسانوں نے دوسرے انسانوں کو سکھانے اور لاگو یا دبانے کے لیے استعمال کیا لیکن اپنی ذات کے لیے ہمیشہ اپنے جبلی تقاضوں کی تسکین کو ہی فوقیت دی۔ ہزاروں سال کی اس مشق کا نتیجہ کہ آج کی دنیا میں لاکھوں بڑے لوگ باقی کے اربوں انسانوں کو سرمائے اور اختیار کے ساتھ ساتھ ناقص علم کی بھی چکی میں بھی پیس رہے ہیں۔

تقریباً ہم سب ہی اپنی ”بات یا لوہا“ منوانے کے لیے کسی مناسب علم میں سے موزوں منطق تلاش کر کے دنیا کو پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر نوجوان عام طور پر لڑکی پٹانے کے لیے شاعری یا ادب کی کسی اور صنف کو استعمال کرتے ہیں۔ لڑکی پٹ جائے تو بیوی بصورت دیگر ادب اور شاعری وغیرہ تو گھر کی لونڈیاں ہیں ہی۔

علم کو اپنی زندگی یا ذاتی معمولات پر لاگو کرنا تو دور کی بات ہم روز مرہ زندگی میں علم کے محض استعمال میں بھی ڈنڈی مار جاتے ہیں۔ سائنسی ذہن رکھنے والے لوگ روحانی استدلال سے پرہیز اور اسی طرح روحانی لوگ سائنسی اصطلاحات سے دور بھاگتے ہیں۔ بہرحال یہ طے ہے کہ ہم سبھی علم کے صارف تو ضرور ہیں۔ علم کی کس شاخ کو انسانوں نے اپنے مذموم اور معاشی، سماجی، سیاسی مقاصد کے لیے جن علوم کا کم سے کم استعمال کیا گیا ہو۔ اس سوال پر ہماری ریسرچ کے مطابق تاریخ اور ارتقاء یا ارتقائی نظریات کو فکری سطح پر بھی استعمال کرنے سے اچھے خاصے باشعور دانشور بھی شاید ڈرتے ہیں۔ لطیفے کے طور پر کی گئی بات کہ ہر امیر آدمی تاریخ سے نفرت کرتا ہے۔ عملی طور پر ہمیں یہ بات خاصی معقول اور سنجیدہ لگتی ہے۔ ارتقائی نظریات کو سمجھے بغیر کسی بھی دنیاوی معاملے کو سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ دنیا ان علوم سے کیوں خائف ہے اس پر اگر موقع ملا تو پھر کبھی تفصیل سے بات ہو گی۔

انسان علم خواہ جنگل، مظاہر قدرت، توہمات یا انسانی تجربات و مشاہدات سے حاصل کرے اسے من عن یا فارمولہ کی شکل میں اس کا اطلاق دوسرے انسانوں پر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ہو نا ہی ہونا چاہیے۔ ہر علم کا دائرہ کار اور زمان و مکاں مختلف ہو سکتا ہے۔

دنیا میں بہت کم انسان ہی اپنے اوپر سے جبلت کا خول توڑ پانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور اگر غلطی سے کوئی علم یا فن ہتھے لگ جائے تو ہمارے مذکورہ مستری طرح آری بسولا لے کر دوسرے انسانوں کانت نئے طریقوں سے مولی کنڈا کرنے میں مشغول رہتے ہیں اور اپنی آخری زندگی میں پھر مایوسی کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔

Facebook Comments HS