مارچ میں جنرل قمر باجوہ کو غیرمعینہ مدت کی توسیع کی پیشکش کی گئی جسے ٹھکرا دیا گیا: ڈی جی آئی ایس آئی
پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس مارچ کے مہینے میں فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کو غیر معینہ مدت کی توسیع کی پیشکش کی تھی جسے قبول نہیں کیا گیا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار اور ڈی جی آئی ایس آئی نے سائفر کے معاملے، اس پر تحریک انصاف کی جانب سے ’گمراہ کن‘ سیاسی بیانیہ ترتیب دینے اور ارشد شریف کی ہلاکت سے متعلق واقعات پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ’مارچ میں اُن کو غیر معینہ مدت کی توسیع کی میرے سامنے پیشکش کی گئی۔ انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا۔‘
ڈی جی آئی ایس آئی کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ کو اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے۔ لیکن اگر آپ کا دل مطمئن ہے کہ آپ کا آرمی چیف غدار ہے تو ماضی میں اُن کی اتنی تعریف کیوں کی گئی اور یہ پیشکش کیوں کی گئی کہ اگر پوری زندگی بھی اس عہدے پر رہنا چاہتے ہیں تو رہ لیں۔‘
انھوں نے کہا ’اب بھی آپ چھپ کر اُن سے کیوں ملتے ہیں؟ رات کو آپ ہم سے غیر آئینی خواہشات کا اظہار کریں، وہ آپ کا حق ہے، لیکن پھر دن کی روشنی میں جو کہہ رہے ہیں وہ نا کہیں۔ آپ کی گفتگو میں کھلا تضاد ہے۔‘


