سالا نظر نہ لگے
ایک دفعہ اپنے استاد جی سے عرض کیا کہ آپ کو جس پر غصہ آئے اسے سالا کہتے ہیں یہ تو صنفی مساوات کے فلسفے کے خلاف ہے یعنی آپ شادی کے سماجی بندھن میں عورت کی کم تری کے قائل ہیں اس لیے شادی شدہ عورت کے بھائی کے رشتے کو بطور گالی استعمال کرتے ہیں۔
استاد جی نے ساری گفتگو بڑے تحمل کے ساتھ سننے کے بعد فرمایا کہ ہر لفظ کا جملے کے ساتھ تعلق اس کے معنی کا تعین کرتا ہے ہر جملہ زمان و مکان کے اندر ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے جو ایک ہی جملے کو دہرائے جانے پر بھی ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا لفظ سالا کو اتنا جامد دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
استاد جی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ساری خدائی ایک طرف جورو کا بھائی ایک طرف“ سے آپ سالے کی حیثیت کا اندازہ کریں۔ یہ سن کر میں نے ہلکا سا اعتراض کیا کہ اس ضرب المثل میں تو مرکزی مدعا زن مریدی ہے۔ میرے اعتراض کو رد کرتے ہوئے بولے، یار! زن مریدی بھی ہو گا لیکن سردست ہمارے موضوع کو سامنے رکھتے ہوئے یہ ازدواجی زندگی میں اس رشتے کے لامحدود اختیارات کا بیان ہے۔
کچھ توقف کے بعد فرمایا، دکان دار لوگ معاملات کو بڑی باریک بینی سے دیکھتے ہیں ان کا مقصد صرف منافع کمانا ہوتا ہے۔ جب میاں بیوی کچھ خریدنے جاتے ہیں تو انھیں پتہ ہوتا ہے کہ خاتون کو بھابھی کی بجائے بہن جی یا باجی کہنا ہے۔ دکاندار اگر آپ کی طرح سوچنے لگ جائے تو سالا ہو جانے کے خوف سے گاہک گنوا بیٹھے اور نفع ضائع کر بیٹھے۔
کہتے ہیں آ ملے کے اچار کا سواد اور بزرگوں کی باتیں دیر سے سمجھ میں آتی ہیں۔ لفظ سالا کے متعلق ایک دانش ور دوست کا خیال ہے کہ یہ ہر اس شخص پر صادق آتا ہے جسے ”لتھی چڑھی“ کا خوف ہو نہ عزت بے عزتی کا بھار۔ یعنی ایک شخص اگر سالا ہے تو آپ مزید اسے ایسا کیا دیں گے کہ وہ سالار ہو جائے اور اس میں سے کیا کم کر دیں گے کہ وہ مقام سالیت سے گر جائے۔ یعنی کسی بھی معاملے میں عملی یا فکری طور پر خود کو ساری خدائی کے مقابل دیکھنے والا دراصل سالا ہی ہوتا ہے۔
اس دانشور دوست کا خیال ہے کہ سالا ویلا ہوتا ہے ہر معاملے پر ایک جذباتی موقف رکھتا ہے۔ کچھ کرنے کا ہنر نہیں رکھتا لیکن سب کرنے کے جذبے سے سرشار ہوتا ہے۔ میرے دانش ور دوست نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یار! تو ذرا موٹے دماغ کا ہے تیری آسانی کے لئے بتا دیتا ہوں کہ جب ایک نیم خواندہ شخص ملکی معیشت کو چٹکیوں میں راہ راست پر لانے کی بات کرتا ہے۔ جب ایک شخص اپنے عقیدے کی عینک سے دوسروں کے کفر تعین کر کے ان کی زندگی موت کا فتوٰی صادر کرتا ہے۔
جب کوئی جاہل صدی ڈیڑھ صدی کی تحقیق کو اس لئے جھٹلا دیتا ہے کہ وہ اس کے جہل سے مطابقت نہیں رکھتی جب۔ ایک فوجی افسر آئین کو محض کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دے کر چوب آمری سے سب درست کرنے کی بات کرتا ہے۔ تو دراصل یہ اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ سالا صرف اپنی بیوی کے بھائی کو نہیں کہتے یہ ایک رویے کا بھی نام ہے۔ میں نے اس اصول کو سامنے رکھ کر اردگرد نظر دوڑائی ہے نتائج مایوس کن ہیں آپ سے بھی گزارش ہے کہ احتیاط کیجیئے۔


