بس کہانی مکمل کرنے دیجیے
اس تصویر کو غور سے دیکھیے یہ سینتالیس کے بٹوارے کے بعد ہوئے اجاڑے کی تصویر ہے۔ یار لوگ اسے آزادی کہتے ہیں۔ اگر کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ ہمارا یہ موضوع نہیں بلکہ موضوع یہ تصویر ہے۔ میرا مطالعہ یقیناً واجبی سا ہے اور میرے اندازے کے مطابق یہ خاتون ایک غیر معروف خاتون ہے جو ہجرت کی کلفتوں میں نہ جانے کن کن عذابوں میں سے گزر کر اس مقام پر پہنچی ہو گی۔ مجھے یہ نہیں معلوم اس کی منزل آخر کہاں ہوئی ہو گی۔
یا بیس لاکھ سے زائد پنجابیوں اور دیگر بے خانماں اجڑے ہوئے لوگوں کی طرح اس کی لاش بھی کتے بھنبھوڑتے رہے ہوں گے۔ یا انسانی گوشت کی فراوانی دیکھ کر کتوں نے بھی کھانے سے انکار کر دیا ہو گا۔ لیکن اگر یہ بے بسی کی تصویر بنی یہ خاتون زندہ بھی بچ گئی ہو۔ پھر سے آباد بھی ہو گئی تو کہاں ہو گی۔ لیکن میری کہانی یہ عورت بھی نہیں میرا مضمون اس بچے پر ہے۔ یہ انسان کا بچہ کیا معلوم اس کے پیدا ہونے سے پہلے اس کی ماں نے کتنی ہی درگاہوں پر اس کے ہونے کی منتیں مانی ہوں گی۔ عین ممکن ہے یہ ست بھرائی ہو۔ جس کی پیدائش پر اس کے باپ نے اصلی گھی کے موتی چور بنوا کے بانٹے ہوں۔ کیا معلوم اس کی پیدائش سے کسی گھر کا اکلوتا وارث پیدا ہوا ہو۔
یقین مانیں مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ جس کی گود میں یہ بچہ موجود ہے وہ اذیت کی تفسیر بنی عورت اس کی ماں بھی ہے کہ نہیں۔ ہو سکتا ہے کسی بلوے کسی فساد میں اس کی ماں کسی نے اچک لی ہو اور اس ننھی جان کا وزن بے وزن ہڈیوں میں اٹھائے یہ عورت اس بچے کی دادی یا نانی ہو۔ تصویر سے اندازہ ہوتا ہے یہ بچہ یا بچی ایک سال سے زائد نہیں ہے۔ آج پون صدی کے پاکستان کے ساتھ یہ بچہ بھی کہیں چھہتر ستتر سال کا ہو گا۔ ہو سکتا ہے آج بھی یہ زندہ ہو
لیکن سوچیے اگر آج یہ زندہ بھی ہوا تو کس حالت میں ہو گا بہت ممکن ہے درجنوں بیماریوں اور بڑھاپے کا بوجھ اٹھائے گھر میں ایک ریٹائرڈ یا اللہ نہ کرے ریٹارٹڈ لائف گزار رہا ہو گا۔ عین ممکن ہے یہ کسی قبر میں جا سویا ہو۔ فرض کریں یہ بچی ہے۔ ہجرت کے المیے سے گھر کو جبری چھوڑنے والی ان اجنبیوں میں مجبوراً بسی ہو گی جن سے نہ زبان ملتی تھی نہ لہجہ نہ لباس نہ موسم نہ مزاج، لیکن انسان تو انسان ہے نا کہیں بھی عادی ہو جاتا ہے۔
پھر اس پر بھی کبھی جوانی آئی ہو گی ہو سکتا ہے چلمنوں کی اوٹ سے آنکھوں آنکھوں میں محبتوں کے قول قرار ہوئے ہوں گے۔ کیسی کیسی الہڑ سی خواہشات اور حسرتیں پالی ہوں گی۔ تصور کر لیں کہ اس زلفوں پر کئی دل فریفتہ ہوئے ہوں گے۔ اگلے وقتوں کے گھونگھٹ سے آدھا چہرہ دکھاتی نیم وا آنکھوں نے کسی کی دل میں بجلی گرائی ہو گی۔ پھر کبھی چوڑیاں نہ ملنے پر تکیے میں سر دے کر روئی بھی ہو گی۔
ایک وقت آیا ہو گا جب اس گھر سی بھی رخصتی ہو گئی ہو گی جس گھر کو صرف اس نے ہی نہیں اس کے گھر والوں نے ماہ سال کے مرہم لگتے اپنا مانا ہو گا۔ کیسے اس دن پھر اس کا خوشی اور غم سے کلیجہ دہلا ہو گا۔ پھر نئی گھر گرہستی ساس بہو کے طعنے اولاد کے لیے وظیفے کبھی روٹھ کے میکے آنا کبھی چولہے کے دھوئیں میں آنسو چھپانا یہ سب بھی بیت گیا۔
آج یقیناً اس کے پوتیاں پوتے یا نواسیاں نواسے بھی بڑے ہوں گے اس نے اپنے گھر کی بیٹیوں کی بھی رخصتی کر دی ہو گی اور سفر زیست سے آج جسم نڈھال ابدی نیند کا منتظر ہو گا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہیں پہلے سانسوں کی ڈوری ٹوٹ چکی ہو قبر پر پہلے گھاس اگی ہو اور اب قبر بھی زمیں کے برابر ہو گئی ہو۔
لیکن ایک بات طے ہے زندگی کا آخری پڑاؤ آن پہنچا ہو گا۔
اب ایک بار پھر یہ تصویر دیکھیے
یہ ہے انسان کی مختصر سی کہانی۔ اس مختصر سی کہانی کے کرداروں پر ہم انسان ہی کیوں زندگی جہنم بنا دیتے ہیں۔ بٹوارے تقسیم فساد بلوے میں اتنی سی زندگی بھی کیوں چھین لیتے ہیں جنگ کی کوکھ سے موت اگلنے والوں کی اپنی حیات کا دورانیہ کیا اس مختصر سی کہانی سے زیادہ طویل ہے؟ اگر نہیں تو پھر سادہ سا سوال ہے انسان کو زندہ رہنے دینے سے بھی وہ کتنا جی لے گا؟ اس بچی جتنا چلو ایک کہانی تو مکمل ہو گی۔ بس کہانی مکمل کرنے دیجیے۔



