روس یوکرائن جنگ خطرناک موڑ


یوکرائن میں لڑائی کا آغاز کم و بیش آٹھ ماہ قبل ہوا جو ہنوز جاری ہے اور آئے روز اس میں خوفناک شدت آ رہی ہے۔ فریقین ابھی تک اپنے سابقہ موقف پہ قائم و دائم دکھائی دیتے ہیں۔ جس قدر بڑی لشکر کشی روس کی جانب سے کی گئی تھی مگر اس کا یوکرائن کی نحیف و نزار عوام نے اپنی دفاعی قوت کا ساتھ دے کر نڈر دفاع وطن کیا ہے اس میں کئی ایک اسباق پوشیدہ ہیں۔ مغرب نے روز اول سے ہی کھل کر اس کا ساتھ دیا اور روس پہ بے شمار معاشی اور معاشرتی پابندیاں عائد کر دیں تھی اور روسی اقتصادیات کو بھی بھاری زک پہنچانے کا اہتمام کیا مگر روس ان سے ذرا متزلزل نہ ہوا اور اب جنگ میں شدت بڑھ گئی ہے۔

اب خھرسان شہر کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور جنوبی محاذ خوب گرم ہے۔ ادھر برادران یوسف کی مانند یورپی ہمسائے یوکرائن کی دام درمے سخنے مدد کر رہے ہیں حتی کہ آسٹریلیا سے بھی 70 فوجی مع اسلحہ و بارود سے لیس اجتماع جمع برطانیہ پہنچ کے اکٹھ ہو رہا ہے۔ ایرانی ڈرون جہاز راشد بھی بہت بحث کا باعث بنا ہوا ہے کہ وہ روسی افواج اس کا۔ بے دریغ استعمال کر رہی ہی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کرنے کا سوچ رہے ہیں اور اس کا مطالبہ بھی شدت پذیر ہے۔

اس وقت ڈرٹی بم کی خبر آشکار ہو رہی ہیں۔ یہ بم کوئی عام نہیں ہوتا اس میں ریڈیائی شعاعوں کو چھوڑا جاتا ہے جس سے کوئی خاص ارتعاش بھی پیدا نہیں ہوتا مگر یہ انتہائی مضر صحت ہے اور انسانی جانیں شدید متاثر ہو سکتی ہیں یہ ماحول دشمن بم بھی ہے جس سے خوراک و پانی بھی ناقابل استعمال ہوجاتا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ کہ انسانی تاریخ میں اس طرح کا کوئی بم آج تک استعمال ہوا نہیں بس تجربات ہی کیے گئے ہیں۔ روسی افواج کی اس وقت بھرپور کوشش ہے کہ وہ جنوبی شہر خھرسان پر قبضہ کر کے مزید جنوبی علاقوں تک رسائی حاصل کر سکے جا سے وہ یورپی جانب اپنا دفاعی نظام قائم کرسکے کہ کوئی یورپی و ناٹو یا دیگر غیر ملکی امداد پہنچ نہ سکے اس طرح مشرقی علاقوں ڈانباس کی جانب بھی پیش قدمی واضح ہے جس سے بحری راستے تک رسائی بذریعہ بحر احمر سے قائم کرنا آسان ہو جائے گا۔ بہرحال صورتحال خاصی گمبھیر ہو چکی ہے۔ عالمی امن کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS