جنوبی کوریا میں ہیلووین کی تقریب میں اموات: ’اتنے لوگ تھے کہ ہم فرش پر کچلے چلے جا رہے تھے‘
عینی شاہدین نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل کے معروف علاقے ایٹاون میں انتہائی افراتفری کے مناظر کو بیان کیا ہے۔
یہ ضلع اپنی نائٹ لائف کے لیے مشہور ہے لیکن اس کی تنگ گلیوں میں اس قدر بھیڑ جمع ہو گئی تھی کہ دم گھٹنے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی موت ہو گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 86 زخمی بھی ہیں۔
ایک صحافی رافیل راشد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دسیوں ہزار لوگ تھے، اب تک میں نے کبھی اتنے زیادہ لوگ نہیں دیکھے۔ اتنے لوگ تھے کہ ہم فرش پر کچلے چلے جا رہے تھے۔‘
ہزاروں نوجوان ہیلووین کے ملبوسات میں ایٹاون میں موجود تھے۔ وہ اس بات پر خوش تھے کہ جنوبی کوریا میں کووڈ کی دو سال کی پابندیوں کے بعد بالآخر وہ پارٹی کر سکتے ہیں۔
لیکن ویڈیو کلپس میں کئی خوفناک مناظر سامنے آئے ہیں۔ کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے میں پھنسے ہوئے ہیں اور بہ مشکل حرکت کر سکتے ہیں۔
کچھ لوگ حفاظت کے لیے اوپر چڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ متاثرین کو سی پی آر دینے میں پیرامیڈیکس کی مدد کرنے والے راہگیروں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جبکہ فرش پر لاشوں کی ایک لمبی قطار بھی نظر آتی ہے۔
بظاہر بھیڑ آگے بڑھ رہی تھی، جس میں سامنے والے لوگ گر گئے اور پیچھے والوں نے انھیں روند ڈالا۔
ٹوئٹر پر کچھ ویڈیو کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچاؤ کرنے والے پھنسے ہوئے لوگوں کو بھیڑ میں سے زور سے کھینچ رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک خاتون عینی شاہد کے حوالے سے بتایا جو یہ کہہ رہی تھیں کہ ’مجھ جیسا چھوٹا شخص سانس بھی نہیں لے سکتا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ اس لیے بچ گئیں کیونکہ وہ گلی کے کنارے پر تھیں جبکہ ’درمیان کے لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان ہوا۔‘
رافیل راشد نے کہا کہ ’واقعی کوئی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے‘ اور کچھ ’پولیس والے اپنی کاروں کے اوپر کھڑے ہو کر لوگوں کو جلد از جلد علاقہ چھوڑنے کا کہہ رہے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
جنوبی کوریا میں ہیلووین کے موقعے پر ہجوم کے باعث کچلے جانے سے 151 افراد ہلاک، 355 ابھی تک لاپتہ
ہیلووین: خون کھائیں گے؟ ہمارے اندر خون کی چاہ کہاں سے آئی
اسرائیل میں مذہبی اجتماع کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 44 افراد ہلاک
جائے حادثہ پر موجود ایک ڈاکٹر لی بیوم سک نے مقامی نشریاتی ادارے وائی ٹی این کو بتایا کہ انھوں نے سی پی آر کے ذریعے چند متاثرین کو زندہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ’جلد ہی ان کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ وہاں موجود بہت سے لوگ سی پی آر میں ہماری مدد کے لیے آگے آئے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بہت سے متاثرین کے چہرے پیلے پڑ گئے تھے۔ میں ان کی نبض محسوس یا سانس نہیں سن پا رہا تھا اور ان میں سے کئی کی ناک خون آلود بھی تھی۔‘
ایک نوجوان مون جو ینگ نے یہ بھی کہا کہ ’وہاں بہت زیادہ لوگ تھے اور بہت بڑا ہجوم تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ پولیس اہلکار اور امدادی کارکن سخت محنت کر رہے تھے لیکن میں کہوں گا کہ تیاری کی کمی تھی۔‘


