عمران خان کی نا اہلی، لانگ مارچ اور ارشد شریف کا قتل


بظاہر ضمنی انتخابات میں عمران خان کی شاندار کامیابی کا ”غلغلہ“ الیکشن کمشن کی جانب سے ان کی نا اہلی کی دھول میں دب کر رہ گیا ہے۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ لانگ مارچ بھی شروع کر دیا ہے۔ سر دست اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خان ریفرنس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کو فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست پر اعتراضات ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم عدالت نے کہا ہے کہ عمران انتخاب لڑ سکتے ہیں، الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، فیصلہ کیسے تبدیل ہو سکتا ہے؟ چیئرمین پی ٹی آئی واپس پارلیمنٹ تو جانا نہیں چاہتے، جس وجہ سے جلدی ہے۔ عمران خان این اے 95 میانوالی کی سیٹ سے ڈی نوٹیفائی ہوئے ہیں۔ نا اہلی اسی حد تک ہے۔ ہم نئی مثال قائم کرنا نہیں چاہتے پہلے بھی نا اہلی ہوتی رہی، کوئی سیاسی طوفان نہیں آتا۔ الیکشن کمیشن کا مصدقہ فیصلہ آنے سے پہلے حکم امتناع جاری نہیں کر سکتے۔

عمران خان نے طے شدہ پروگرام سے دو روز قبل ہی لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دیا اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔ ارشد شریف کے قتل کی وجہ سے لوہا گرم ہے۔ گزشتہ جمعہ کو عمران خان کا لانگ مارچ لبرٹی چوک لاہور سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہو گیا ہے۔ عمران خان کا قافلہ جی ٹی روڈ کے راستے 4 نومبر 2022 کو پہنچنے کا امکان ہے۔ جہاں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ عمران خان کا ”استقبال“ کرنے کے لئے کھڑے ہوں گے۔

عمران خان نے ”لانگ مارچ“ کو ”جہاد“ کا درجہ دے دیا ہے جو یہ فیصلہ کرے گا۔ پاکستان نے کدھر جانا ہے۔ عمران خان کے لانگ مارچ کا کوئی ٹائم فریم نہیں ہے۔ عمران خان نے ایک بار پھر اپنی پوری سیاست داؤ پر لگا دی ہے۔ عمران خان کو لاہور سے اسلام آباد کے دوران جی ٹی روڈ پر عوام کی جانب سے بے پناہ رسپانس ملنے کا امکان ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف نے قدم جما لئے ہیں۔ دوسری یہ کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ لانگ مارچ کے شرکا  کا بلا روک ٹوک اسلام آباد کی طرف بڑھنے کا امکان ہے۔

اسی طرح خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں سے لوگ بھی اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بھی پی لانگ مارچ روکنے کے لئے 10 گنا زیادہ ریاستی قوت استعمال کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ شاید اسی لئے اب عمران خان ریڈ زون کی بجائے اس مقام پر ”پکنک“ منانے کا اعلان کیا ہے۔ جہاں بہت پہلے سپریم کورٹ مشروط طور پر جلسہ کی اجازت دے چکی ہے جسے اس وقت عمران خان نے مسترد کر دیا اب بوجوہ پرامن اجتماع کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بات کا قوی امکان ہے۔ رانا ثنا ء اللہ عمران خان کو پریڈ گراؤنڈ یا ایف نائن پارک میں اجتماع کرنے کا رسک نہیں لیں گے۔

فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار اور ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی مشترکہ پریس کانفرنس کی غیر معمولی پریس کانفرنس میں جہاں عمران کے بیانیہ کی دھجیاں اڑا دی گئیں وہاں فوج نے مختلف معاملات پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کر دی پچھلے 6 ماہ سے عمران خان فوج اور اس کی قیادت کے خلاف اشاروں اور کنایوں پر الزام تراشی کر رہے تھے۔ بالآخر جب بہت ہو گیا تو فوج نے عوام کے سامنے حقائق رکھ دیے اگر کم از کم الفاظ میں کہا جائے کہ فوج نے عمران خان کے سازشی بیانیہ کو بے نقاب کر دیا ہے۔

قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی تو حاصل ہوئی ہے لیکن اس کے نتیجے میں وہ دو نشستوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے اور پی ڈی ایم کی پارلیمانی قوت میں دو نشستوں کا اضافہ کر دیا ہے لیکن پی ٹی آئی پنے ہی خالی ہونے والی 8 نشستوں میں سے 6 نشستوں پر خوشی کے شادیانے بجا رہی ہے۔ اسی کامیابی نے لانگ مارچ کے لئے عمران خان کا حوصلہ بڑھایا دیا عمران خان نے جہاں یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ ناقابل شکست ہیں۔ وہاں انہوں نے نوجوان ووٹرز کو اپنی طرف مزید راغب کر لیا

ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے کم و بیش ساڑھے پانچ لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں جب کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں پونے پانچ لاکھ ووٹ حاصل کر سکی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی نے 2018 ء کے انتخابات کے مقابلے میں صرف 3 فیصد زائد ووٹ حاصل کیے ہیں جب کہ مسلم لیگ (ن) کا 4 فیصد ووٹ بینک کم ہوا ہے۔ اسی طرح جہاں پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ووٹ بینک میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وہاں اسی قدر مسلم لیگ (ن) کے ووٹوں میں کمی آئی ہے۔ سوال یہ ہے۔ کیا پی ٹی آئی عمران خان کے بغیر ان حلقوں سے کامیابی حاصل کر پائے گی۔ ماہانہ 5 لاکھ 25 ہزار نوجوان ووٹر لسٹ کا حصہ بن رہے ہیں۔ یہ تعداد ہر سال 63 لاکھ ہو رہی ہے۔ عمران خان نے اس عمر کے ووٹر کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ عمران خان نے ضمنی انتخابات کے دوران 55 جلسے کیے جبکہ پی ڈی ایم کے جلسے نہ ہونے کے برابر تھے۔ پی ڈی ایم نے بے دلی سے انتخاب لڑا مریم نوازنے جتنے جلسوں سے خطاب کیا انہیں رسپانس ملا لیکن پاسپورٹ ملتے ہی وہ لندن چلی گئیں نواز شریف کے بغیر مسلم لیگ (ن) جم نہیں پا رہی مہنگائی نے لوگوں کو پی ڈی ایم سے بد ظن کر دیا ہے۔

حیران کن بات ہے۔ لوگوں نے عمران خان کے ایک کروڑ نوکریوں، پچاس لاکھ مکانات اور 350 ڈیم تعمیر کرنے اور دودھ اور شہد کی نہریں بہا نے کے جھوٹے وعدوں کے باوجود انہیں ووٹ دیا پی ڈی ایم کی اعلیٰ قیادت ملک میں انتخابی ماحول بنانے میں کلی طور پر ناکام رہی عمران خان نے ضمنی انتخابات میں کامیابی سے پی ڈی ایم کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کر دیا لیکن عمران خان کی کامیابی نے اپنی مخالف تمام جماعتوں کو ان کے مقابلے میں متحد رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب آئی جے آئی کی طرز پر نیا انتخابی اتحاد بنتا نظر آ رہا ہے۔

گزشتہ ہفتہ دنیائے صحافت کا ایک دمکتا ستارہ کینیا کی سرزمین پر ڈوب گیا سینئر اینکر پرسن ارشد شریف کینیا کے دار الحکومت نیروبی میں پولیس کے ہاتھوں قتل پر صحافتی برادری کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے جن حالات میں پولیس نے انہیں اپنی گولیوں کا نشانہ بنا یا ہے۔ اس بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اگرچہ نیروبی پولیس نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں کچھ عناصر ان کے قتل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ”اشاروں کنایوں“ میں الزام تراشی کر رہے ہیں لیکن کسی میں اخلاقی جرات نہیں کہ وہ اس کا نام لے۔

فوج کی جانب سے پریس کانفرنس میں بھی اس معاملہ پر کھل کر بات کی گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس المناک واقعہ کی تحقیقات کے جوڈیشل کمشن قائم کر کے اپوزیشن کے مطالبہ کو تسلیم کر لیا ہے۔ ارشد شریف کی والدہ محترمہ نے بھی تمام لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ارشد شریف کے قتل کے حوالے قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔

Facebook Comments HS