گجرات: موربی میں دریا پر بنا پل گر گیا، کم از کم 60 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ
انڈیا کی ریاست گجرات کے علاقے موربی میں دریا پر بنا ایک پل گرنے سے اب تک کم از کم 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تقریباً ایک صدی پرانے اس پل کو حال ہی میں مرمت کے بعد عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔
اتوار کو گجرات کے علاقے میں ماچھو ندی پر ایک جھولنے والا پل گرنے سے کئی لوگ دریا میں گر گئے ہیں۔
راجکوٹ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ موہن بھائی کلیان جی کنڈاریا نے بی بی سی کے نامہ نگار دلنواز پاشا کو بتایا کہ اب تک 60 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’زخمیوں کی تعداد اب بھی کم ہے۔ لیکن پانی میں ڈوبے ہوئے لوگوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔‘
بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر بچے ہو سکتے ہیں۔
کنڈاریا کا کہنا ہے کہ 15 منٹ میں 50 سے زیادہ ایمبولینسیں موقع پر پہنچ گئیں۔
برسوں سے بند پُل کو تزئین و آرائش کے بعد کھولا گیا تھا
انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ پل پر زیادہ لوگ موجود تھے جس کی وجہ سے پل ٹوٹ گیا، اب پل پر جانے کے لیے کتنے ٹکٹ کٹے ہیں اس کی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔‘
اطلاعات کے مطابق جس وقت پل گرا اس وقت اس پر 400 کے قریب افراد موجود تھے۔
راجکوٹ ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے بتایا گیا کہ موربی کے سسپنشن پل کے جائے حادثہ کے لیے راجکوٹ ضلع سے 22 ایمبولینس، 7 فائر بریگیڈ اور چھ کشتیاں بھیجی گئی ہیں۔
یہ پل برسوں سے بند تھا۔ اسے حال ہی میں تزئین و آرائش کے بعد عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔
یہ نیا پل گجراتی نئے سال پر دیوالی کے بعد کھولا گیا تھا۔
دیوالی کی تعطیلات اور اتوار کی وجہ سے پل پر لوگوں کی کافی بھیڑ تھی۔
تاہم یہ صدیوں پرانا پل گرنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ پل گرنے کی وجوہات جاننے کے لیے پانچ رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
انتظامیہ فی الحال امدادی کاموں میں مصروف ہے۔ این ڈی آر ایف کے ڈائریکٹر جنرل اتل کروال نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ این ڈی آر ایف کی تین ٹیمیں موقع پر روانہ کی گئی ہیں۔ دو ٹیمیں گاندھی نگر اور ایک بڑودہ سے بھیجی گئی ہیں۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے ٹویٹ کیا، ’میں موربی میں معلق پل کے گرنے سے غمزدہ ہوں۔ حکام کی طرف سے راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ میں نے زخمیوں کے فوری علاج کے انتظامات کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ میں مسلسل فکر مند ہوں۔ یہ ضلعے میں ہے۔ میں انتظامیہ سے رابطے میں ہوں۔‘
گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 4 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
موربی میں دریائے ماچھو پر بنایا گیا یہ جھولتا پل جدید یورپی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے جس کا مقصد موربی کو ایک منفرد شناخت دینا ہے۔
موربی شہر کی سرکاری ویب سائٹ پر دی گئی معلومات میں اس پل کو انجینئرنگ کا معجزہ بتایا گیا ہے۔
یہ پل 1.25 میٹر چوڑا اور 233 میٹر لمبا تھا اور دریائے ماچھو پر واقع دربار گڑھ پیلس اور لکھدھیر جی انجینئرنگ کالج کو جوڑتا تھا۔
صدر اور وزیراعظم سمیت اعلیٰ شخصیات کا اظہار افسوس
اس حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے گجرات کے وزیر داخلہ ہرش سنگھوی نے کہا کہ یہ پل شام 6.30 بجے گرا۔ اس دوران وہاں 150 لوگ موجود تھے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کا دستہ 15 منٹ میں وہاں پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ ہی کلکٹر، ضلع کے ایس پی، ڈاکٹر اور ایمبولینس بھی وہاں پہنچ گئے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ بھی فوراً موقع پر پہنچ رہے ہیں۔
صدر دروپدی مرمو نے ٹویٹ کرکے اس واقعے پر غم کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کیا ہے کہ انھوں نے اس معاملے پر گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل اور دیگر حکام سے بات کی ہے۔
انھوں نے لکھا، ’انھوں نے امدادی کاموں کے لیے ٹیمیں بھیجنے کو کہا ہے۔ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کو متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔‘
وزیر اعظم ریلیف فنڈ سے مرنے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ امیت شاہ نے ٹویٹ کیا، ’موربی میں ہونے والے حادثے سے انتہائی غمزدہ ہوں۔ میں نے اس سلسلے میں گجرات کے وزیر مملکت برائے داخلہ ہرش سنگھوی اور دیگر حکام سے بات کی ہے۔ مقامی انتظامیہ پوری تیاری کے ساتھ امدادی کاموں میں مصروف ہے، این ڈی آر ایف بھی پہنچ رہی ہے۔ انتظامیہ کو زخمیوں کو فوری علاج فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘




