حقیقی آزادی کی راہیں

انگریز نسل پرست تھے۔ مکر و فریب، جبر اور طاقت کے زور پر ہندوستان پہ قابض ہوئے۔ اپنے سو سالہ دور حکومت میں ہندوستان کو اپنے رنگ میں رنگنے کی ہزار کوششوں میں لگے رہے۔ لیکن آخر ناکام ہوئے تو عزت بچا کر نکلنے کی فکر میں مبتلا ہوئے۔
ہندوستان میں سنسکرت اور فارسی جیسی قدیم اور وسیع زبانوں کو کم تر قرار دے کر لارڈ میکالے کا تجویز کردہ تعلیمی نظام جاری کیا۔ سکولوں، کالجوں، جیلوں، بازاروں اور مقامی مذہبی سماجی تہواروں میں عیسائیت کے پرچار کی کھلی چھٹی دی گئی۔
برطانوی اشیاء کی مہنگے داموں فروخت کے لئے ہندوستانی سوتی کپڑے کی صنعت جو اپنی نرمی اور نفاست کی وجہ سے مشہور تھی مسمار کر کے رکھ دی۔ اور جو کارخانے تباہ و برباد ہونے سے بچ گئے ان پہ بھاری ٹیکس عائد کر دیے تا کہ وہ برطانوی اشیاء کا مقابلہ ہی نہ کر سکیں۔
کاشتکاروں سے سابقہ ہندوستانی روایات کے برعکس کئی گنا بھاری لگان وصول کیا گیا لیکن ملکی زراعت کی ترقی اور آبادی پر خرچ کرنے کی بجائے لگان کی یہ بھاری رقوم بوریوں میں بھر کر برطانیہ بھیج دی جاتیں۔ یعنی صرف حکومت ہی نہیں کی بلکہ کاروباری اجارہ داری بھی کی۔
ان کی سیاسی، معاشی، کاروباری بدمعاشی کے خلاف آواز اٹھانے والے بے شمار لوگ ماورائے عدالت قتل ہوئے یا پھر عدالت کے ذریعے پھانسی چڑھائے گئے۔ گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز تو اتنا مہذب نکلا کہ خاندانی خواتین کے زیور کی معمولی سی بھنک پڑ جاتی تو ہتھیانے کے لئے اوچھی حرکتوں اور کمینگی پہ اتر آتا۔
انگریزوں کے خلاف عام لوگوں میں جوش انتقام اور جذبہ نفرت کی آگ بھڑکی تو 1857 آزادی کی جنگ میں بدل گئی۔ جنگ کی ابتداء میرٹھ سے ہوئی اور صبح کا سورج چڑھنے سے پہلے مجاہدین انگریزوں سے دہلی چھین چکے تھے۔
بہادر شاہ ظفر جس کی شہنشاہیت انگریز اقتدار میں لال قلعے کی چار دیواری میں مقید تھی، جنرل بخت خان کے اصرار پر دہلی سے دکن چلے جاتے تو مجاہدوں کو ایک مضبوط لیڈر شپ میسر ہو سکتی تھی لیکن انگریز حکومت کے خلاف انھوں نے اس حد تک قدم اٹھانے سے گریز کیا۔
مضبوط پلاننگ اور لیڈر شپ کے بغیر محض جذبات سے لڑی گئی آزادی کی جنگ ناکام ہوئی تو بہادر شاہ ظفر لال قلعہ چھوڑ کر مقبرہ ہمایوں میں پناہ نشیں ہوئے لیکن گرفتار ہوئے۔ ان کے چاروں بیٹوں کے سر کاٹ کر ان کے سامنے رکھے گئے اور یوں ہندوستان میں لیڈر شپ کی رہی سہی آخری آس رنگون میں دفن ہو گئی۔ لیکن عوام کے دلوں میں آزادی کی چنگاریاں مسلسل سلگتی رہیں۔ ٹھیک پچپن ساٹھ سال کے بعد ہندوستان کے سیاسی افق پر مہاتما گاندھی کی بڑی سیاسی سماجی شخصیت نمایاں ہوئی۔ وہ عظیم روسی ادیب ٹالسٹائی کے عدم تشدد اور عدم تعاون کے فلسفے سے متاثر تھے۔
1920 میں گاندھی جی نے انگریز سرکار کے خلاف سیاسی، سماجی عدم تعاون یعنی بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ اعلان ہوتے ہی غم و غصے کا اظہار انگریز حکومت نے متعدد سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال کر کیا۔ کسی جابر حکومت کے خلاف جب عوام بغیر ہتھیار اٹھائے سیاسی و سماجی تعاون سے انکار کر دیں تو پھر حکومت کے پاس دو ہی راستے باقی رہتے ہیں یا تو حکومت سے دستبردار ہو جائے اور اقتدار عوام کے سپرد کردے یا پھر عوام پہ جبر اور تشدد پہ اتر آئے۔
انگریز سرکار نے جبر و تشدد کا راستہ اپنایا۔ لیکن جلد ہی تشدد کے خلاف ہندوستان کی چالیس کروڑ عوام کے شدید رد عمل کا خوف لاحق ہوا تو گرفتاریوں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ یاد رکھنے کی مضحک بات یہ ہے کہ انگریز سرکار کو غم و غصہ تو بہت تھا لیکن چالیس کروڑ عوام کے سامنے ان کا زور بہت کم تھا۔
مشہور برطانوی بادشاہ چرچل ہندوستان کو مکمل آزادی کی بجائے ادھوری اور زنجیروں میں جکڑی ہوئی آزادی دینا چاہتے تھے گویا وہ آزادی کی آڑ میں اقتدار کی فیصلہ کن مداخلت کی طاقت کی لگام ہر حال میں اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے تھے۔
بٹوارے سے پہلے انگریز گورنر جنرل لنلتھگو اور سٹیفورد کرپس جیسے دور اندیش جنگی سیاسی ماہرین کے برصغیر کے ہندو مسلم سیاسی لیڈروں سے جتنے بھی مذاکرات ہوئے وہ سب چرچل کے حکم پر اقتدار کی فیصلہ کن مداخلت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لئے کیے گئے لیکن آخر ناکام ہوئے۔
اسی دوران دوسری جنگ عظیم 1939 سے 1945 میں جرمنی کو شکست تو ہوئی مگر ہٹلر نے انگریزوں کو بھاری مالی فوجی نقصان کی ذلت سے دوچار ضرور کیا تھا۔
لیکن جاپانی حملے کا خطرہ سر پہ سوار تھا۔ برما پہ قابض ہونے کے بعد جاپانیوں کا اگلا ہدف ہندوستان تھا۔ انگریز بوکھلائے ہوئے تھے۔ کیونکہ ہندوستانی عوام کی حمایت کے بغیر جاپانی حملے کے سامنے ٹھہرنا انگریزی فوج کے بس کی بات نہیں تھی۔ گویا سو سال تک جن کی نسل کشی کی جن کو حقیر سمجھا جن پہ بھوک اور محرومیت مسلط کی تھی اب انھی لوگوں سے مدد کے طلب گار تھے۔
ہندوستان کی تعمیر و ترقی کے لئے انگریزوں نے مفید کام اور خدمات بھی انجام دی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کا اقتدار عوام پہ ایک جبر تھا۔ ایک طرف تو ان کے یادگار مفید کام اور خدمات تھیں لیکن ترازو کے دوسرے پلڑے میں لاکھوں ہندوستانیوں کا ابلتا ہوا لہو تھا۔
جاپان پہ ایٹمی حملہ ہوا تو انگریز سرکار کے سر سے جاپانی حملے کا خطرہ ٹل گیا۔ لیکن انگریز بھانپ چکے تھے کہ اب وہ زیادہ دیر ہندوستان میں اپنے قدم جمانے کے قابل نہیں رہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ کہ تقسیم سے قبل کے طویل سیاسی مذاکراتی ادوار میں گاندھی کی عدم تشدد اور عدم تعاون کی زبردست حکمت عملی کا اثر انگریز سرکار کی پشت پہ زور دار تازیانے کی طرح پڑا تھا۔
قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت مسلمانوں کا الگ مسلم ریاست کا مطالبہ بھی اتنی شدت پکڑ چکا تھا کہ اس کی تکمیل میں مزید تاخیر کی غلطی سے پورے ہندوستان میں آگ بھڑک سکتی تھی اور انگریز اس کی لپیٹ میں بے توقیر ہو سکتے تھے۔ انگریز، اس سے پہلے کہ عوام کے غیظ و غضب کا نشانہ بنتے اور بے آبرو ہو کر نکلتے انھوں نے اقتدار ہندوؤں اور مسلمانوں کے حوالے کیا اور برصغیر سے عزت بچا کر چلے گئے۔
آزادی کی یہ مختصر داستان ہمارے ماضی کی ایک حقیقت ہے اور ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہم سے سوال کرتی ہے کہ ایک اسلامی آئینی جمہوری ریاست میں فرد اور ریاستی اداروں کے درمیان حقوق و احترام کی ضرورت کس قدر زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
لیکن اس کے برعکس اگر سیاسی، انتظامی اور معاشی عدم استحکام کی نوبت جب عوام کے دلوں میں مایوسی، بے یقینی اور نفرت کی حد تک پہنچ جائے تو پھر ملکی قومی مفاد میں کون سی تھیوری اتنی اہمیت رکھتی ہے جو اقتدار کو ایمانداری سے عوام کی مرضی کے سپرد کرنے سے زیادہ اہم ہو؟

