اعظم سواتی: غیرت کا جنازہ
غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے اس سمراٹی حکومت اور اس کے زر خرید کٹھ پتلی ادارے اپنی آخری سانسوں پر ایسے گھٹیا اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے پر اتر آئیں گے کوئی بھی باشعور اور باغیرت انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔
اعظم سواتی جو کہ پی ٹی آئی گا ایک نہایت اہم اور باوقار رکن ہے۔ پچھلے دنوں ان کی ایک ٹویٹ کی وجہ سے ان کو گرفتار بھی کیا گیا۔ سیاست میں گرفتاریاں ’پیشیاں اور پرچے ایک عام سی بات ہے۔
مگر اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کچھ ایسی کالی بھیڑیں بھی ہمارے سیاستدانوں اور حکومتی اداروں سے منسلک ہیں جو کہ پیدا تو مسلمان ملک میں ہوئے ہیں مگر ان کی سوچ تیسرے درجے کی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جب کسی کو کسی حکمران کے خلاف اس کو گرانے کے لیے کوئی ٹھوس کرپشن کا ثبوت نہیں ملتا تو ایک نیا رواج یہ ہے کہ اس کی غیر اخلاقی ویڈیوز منظر عام پر لائی جاتی ہیں۔
اعظم سواتی کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا جب کسی قسم کا کوئی غیر قانونی کام کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی حرکت کی کوئی ویڈیو سامنے نہ لا سکے تو مخالفت میں ان کی ذاتی زندگی کو ویڈیو کی شکل میں منظر عام پر ان کی عزت و غیرت کی دھجیاں اڑانے کے لیے لایا گیا۔ کسی بھی عزت دار شخص کے لئے اس کی غیرت اس کی کل کمائی ہوتی ہے اور کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ اس کی پرسنل لائف اور خاص طور پر اس کے کمرے کی زندگی عام کرے۔ جس رشتے کو حجاب میں رکھنے کا خدا کا حکم ہے اس رشتے کو کسی کی اجازت کے بغیر سرعام صرف کسی سے بدلہ لینے کے لیے سرعام پامال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔
یہ وہ تیسرے درجے کی گری ہوئی حرکت ہے جو صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس کا اخلاق اور دین سے کوئی تعلق نہیں۔
ایسے لوگ ناسور ہیں اس ملک کے لئے جو کسی کی ساکھ کو گرانے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔
سیاست سے تعلق اعظم سواتی کا تھا اس کی بیوی جو کہ با حیا عورت ہے کی اپنے شوہر کے ساتھ غلط تصاویر اور ویڈیوز کا اسی کے نمبر پر بھیجے جانے کا مطلب؟ اس عورت سے کس بات کا بدلہ لیا گیا؟ یہ سیاست نہیں ہے۔ یہ جہالت ہے اور جہالت سے بڑھ کر یہ وہ گناہ ہے جس کی معافی خدا بھی نہیں دیتا۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں میری تمام انصاف کے علمبردار اداروں سے درخواست ہے کہ اس مسئلے کو معمولی نہ سمجھا جائے اور اس کے خلاف ایسا ایکشن لیا جائے کہ آئندہ کوئی بھی ایسی غیر اخلاقی حرکت کرنے سے پہلے دس بار سوچے کیونکہ یہ جرم نہیں گناہ ہے۔


