تشدد یا انسانوں سے جنسی تعلق، قدیم نینڈرتھل کی نسل کیسے ختم ہوئی؟


 نینڈرتھل
ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پتھر کے زمانے کی نینڈرتھل نسل کے خاتمے کی ایک وجہ انسانوں سے رشتہ قائم کرنا تھا۔

واضح رہے کہ کی نینڈرتھل پتھر کے زمانے کے دوسرے مرحلے میں یورپ اور مغربی ایشیا میں پائے جانے والے انسان نما تھے جن کی جسمانی اور ذہنی ساخت انسان سے مختلف تھی۔

پیلیو انتھروپولوجی جرنل میں شائع ہونے والی تازہ ترین تحقیق کے مطابق انسانوں سے جنسی تعلق قائم کرنے کی وجہ سے نینڈرتھل کا آپس میں تعلق کم ہوتا چلا گیا جس کی وجہ سے آخر کار ان کی نسل ختم ہو گئی۔

ڈاکٹر لوسیل کریٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کافی عرصے تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ نینڈرتھل اور انسانوں کے درمیان وسائل کی جنگ رہی تھی۔‘

تاہم ڈاکٹر کریٹ اور پروفیسر کرس سٹرنگر کے مشترکہ تحقیقی مقالے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نسل کا خاتمہ تشدد کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانی آبادی سے میل جول کا بڑھ جانا تھا جس کی وجہ سے نینڈرتھل کی جینیات معدوم ہوتی چلی گئیں۔

پروفیسر سٹرنگر نے اس تحقیق کے شائع ہونے کے بعد کہا کہ ’ہمارے خیال میں ان کی معدومیت کی یہی وجہ تھی کیوںکہ اگر وہ انسانوں سے جنسی تعلق قائم کیے ہوئے تھے تو رفتہ رفتہ ان کی آبادی ختم ہوتی چلی گئی۔‘

نینڈرتھل

نینڈرتھل کے جینیاتی ڈی این اے آج ہر زندہ شخص میں پائے جا سکتے ہیں، بشمول افریقی نسل کے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کا پتھر کے زمانے کے انسان سے کوئی براہ راست رابطہ ہی نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ سائنسی نظریے کے مطابق نینڈرتھل اور انسان تقریباً چھ لاکھ سال قبل ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے جس کے بعد دونوں کی نشوونما دنیا کے مختلف علاقوں میں ہوئی۔

انسان افریقہ میں جا بسے جبکہ نینڈرتھل یورپ اور ایشیا میں۔

تاہم ڈاکٹر کریٹ کا کہنا ہے کہ حالیہ دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ انسان بھی یورپ میں 50 سے 60 ہزار سال قبل موجود تھا۔ ’اس کا مطلب ہے کہ انسان نے نینڈرتھل کے ساتھ زیادہ وقت گزارا۔‘

انسانوں اور نینڈرتھل کا تعلق کیسے قائم ہوا؟

تحقیق کے مطابق نینڈرتھل کا جینوم تو انسانوں میں ملتا ہے لیکن اس کا الٹ نہیں ہوا، یعنی انسان کا جینوم نینڈرتھل میں نہیں ملتا۔

ڈاکٹر کریٹ کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ جینیات کا تبادلہ تو ہوا لیکن صرف ایک ہی رخ پر۔‘

یہ بات پہلے سے ہی تسلیم شدہ ہے دونوں انواع کے درمیان جنسی تعلق قائم ہوا۔ اگر آپ افریقہ سے باہر پیدا ہوئے ہیں، تو آپ کے جسم کا دو فیصد جینوم نینڈرتھل سے آیا ہے۔

لیکن ڈاکٹر کریٹ اور ڈاکٹر سٹرنگر نے اس معاملے کو مزید گہرائی میں جا کر جانچا۔ انھوں نے اب تک دریافت ہونے والے نینڈرتھل کے 32 جینوم کا تجزیہ کیا۔

دونوں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس جنسی تعلق کی کامیابی کا دارومدار انفرادی جوڑوں پر تھا۔

’لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ اس کی وضاحت کیسے کی جائے۔ اس کی وجہ ہمارے پاس موجود ڈیٹا ہو سکتا ہے، یا پھر ہائبرڈائیزیشن کا عمل جس میں دو انواع کا تعلق قائم ہوتا ہے۔‘

چند پرندوں اور ممالیہ میں ہائبرڈائزیشن دونوں اطراف میں کام نہیں کرتی۔ ایک نوع کے لیے نسل بڑھانا مشکل ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر کریٹ کو امید ہے کہ نینڈرتھل کے مزید فوسل یا باقیات مل سکیں گی۔ ’ہمیں جتنا زیادہ مواد ملے گا، ہم اس نظرے کو اتنا زیادہ ٹیسٹ کر سکیں گے۔‘

نینڈرتھل

یہ بھی پڑھیے

اسرائیل میں نئی قسم کے قدیم انسان کی باقیات دریافت

اٹلی کے ایک غار سے قدیم دور کے انسانوں ’نینڈیرتھل‘ کی باقیات برآمد

ارتقا اور معدومیت: اگر انسانوں کی دوسری انواع بھی ہمارے گرد موجود ہوتیں۔۔۔

زبردستی کا جنسی تعلق؟

ڈاکٹر کریٹ اور ڈاکٹر سٹرنگر نے ایک اور نظریہ بھی پیش کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس جنسی تعلق میں ہمیشہ دونوں فریقین کی رضامندی شامل نہیں ہوتی تھی۔

’ہو سکتا ہے کہ انسان مادہ کی تلاش میں نکلے یا پھر اس کا الٹ معاملہ ہو، اور زرخیز نسل کی تلاش میں طاقت کا استعمال کیا گیا ہو۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ اس طرز کا رویہ چند چمپینزیز میں پایا جاتا ہے۔

’اگر کسی گروپ میں مادہ نسل بڑھانے کے قابل نہ ہو، تو اس گروہ کے چمپینزی دوسرے گروہ کی مادہ چرا سکتے ہیں۔‘

تاہم ایسے جنسی تعلقات کے بارے میں کم ہی معلومات ہیں۔

نینڈرتھل

سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ نینڈرتھل اور انسانوں کا آپس میں رابطہ آسان نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ وہ ایک دوسرے سے کافی مختلف تھے۔

ڈاکٹر کریٹ بتاتی ہیں کہ ’وہ ایک جیسی آوازیں بھی نہیں نکال سکتے تھے کیونکہ ان کے دماغ مختلف طریقے سے بنے تھے۔‘

ان کی جسمانی ساخت بھی ایک دوسرے سے مختلف تھی۔

نینڈرتھل بہت مضبوط تھے، ان کے بازو اور ٹانگیں چھوٹی تھیں اور آنکھوں کے اوپر پیشانی ابھری ہوئی تھی۔

تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ نر اور مادہ نینڈرتھل میں کتنا فرق تھا۔

ڈاکٹر کریٹ کے مطابق ’اب تک جتنے ڈھانچے دریافت ہوئے ہیں وہ ٹوٹے ہوئے ہیں اور ہمارے پاس زیادہ کمر کے نچلے حصے کے کم ٹکڑے ہیں جن سے یہ پتہ چلایا جا سکے کہ دونوں میں کتنا فرق تھا۔‘

ان تمام مسائل کے باوجود ڈاکٹر کریٹ مستقبل کی دریافت کے بارے میں کافی پرامید ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک پہیلی کی طرح ہے۔ نئے سائنسی طریقوں کی وجہ سے اب ایسی چیزیں جاننا ممکن ہو رہا ہے جو پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26815 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments