سیاسی دشمنی سے نمٹنے کی اعلیٰ تدابیر


ہماری زیادہ تر سیاسی زندگی محاذ آرائی سے عبارت رہی، تاہم بالغ نظر اور معاملہ فہم راہنما بگڑے ہوئے حالات میں بات چیت اور مفاہمت کے دریچے کھولتے رہے ہیں۔ ان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کا مقام اس لیے ممتاز دکھائی دیتا ہے کہ انہوں نے سیاسی اختلاف کے نہایت عمدہ آداب اختیار کیے، اپنے بدترین مخالفوں سے بھی ایک آبرو مندانہ طرز عمل اپنایا اور وسیع تر ملکی مفاد کی خاطر ان سے تعاون کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔ انہیں پاکستان میں آئے ہوئے دو ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ بھارت نے عیاری اور دیدہ دلیری سے سری نگر ائرپورٹ پر قبضہ کر لیا اور جموں میں مسلمانوں کا بہیمانہ قتل عام شروع ہو گیا۔

قبائلی علاقوں اور پاکستان سے غیر منظم گروہ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے کشمیر جانے لگے اور پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ چھڑ گئی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے جہاد کشمیر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ جہاد کا اعلان کرنے کی مجاز صرف ریاست ہے، کیونکہ اس کے سوا طاقت کا استعمال اسلام کے اندر کسی طور جائز نہیں۔

مولانا کے اس اصولی موقف پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ان کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ انہوں نے جہاد کشمیر کو حرام قرار دے دیا ہے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جب یہ بیان دیا کہ پاکستان کی افواج جنگ میں شریک ہیں، تو مولانا مودودی نے غیر مبہم الفاظ میں بیان دیا کہ اب اہل پاکستان جہاد میں حصہ لے سکتے ہیں اور اپنی جماعت کو حکم دیا کہ وہ اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کی مدد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔ انہوں نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں 1947 ء کے آخر میں جس رائے کا اظہار کیا تھا، وہی رائے پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2021 ء میں بآواز بلند بیان کی تھی، کیونکہ مسلح جتھہ بندی امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی تھی۔

اس کے بعد مارچ 1953 ء میں بڑا ہی سخت مرحلہ پیش آیا۔ پنجاب میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی مجلس احرار کی سرپرستی میں عوامی تحریک زور پکڑتی گئی۔ اس میں جماعت اسلامی نے حصہ نہیں لیا اور جب حالات قابو سے باہر ہو گئے، تو سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ’قادیانی مسئلہ‘ کے عنوان سے کتابچہ شائع کیا جس میں احتجاج کے اسباب کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ مسئلے کا پرامن حل تجویز کیا گیا تھا۔ فوجی قیادت نے اس اقدام کو سراہنے کے بجائے فوجی عدالت کے ذریعے انہیں موت کی سزا سنا دی۔

اس کی توثیق ضابطے کے مطابق کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خاں نے کی۔ وہ جماعت اسلامی کو اپنا حریف سمجھنے لگے تھے، کیونکہ مولانا سول اور ملٹری بیوروکریسی کی جمہوریت دشمن پالیسیوں پر تنقید کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ جب گورنر جنرل ملک غلام محمد نے پہلی دستور ساز اسمبلی تحلیل کی، تو اس کے خلاف منظم احتجاج جماعت اسلامی ہی نے کیا تھا اور دستور ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین خاں کو حکومت کے خلاف مقدمہ لڑنے میں پوری اعانت فراہم کی تھی۔

بدنصیبی سے 27 اکتوبر 1958 ء کو کمانڈر ان چیف جنرل محمد ایوب خاں نے صدر اسکندر مرزا کو معزول کر کے پورے پاکستان کا نظم و نسق خود سنبھال لیا۔ وہ چند ماہ بعد لاہور آئے اور مولانا مودودی کے ہاں ملاقات کے لیے آنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ شدید اختلاف کے باوجود مولانا نے پیغام بھیجا کہ آپ ہماری مملکت کے صدر ہیں، میں آپ سے ملنے آؤں گا، چنانچہ گورنر ہاؤس لاہور میں ان سے ملاقات ہوئی جس میں کمانڈر ان چیف صاحب نے انہیں سیاست کی غلاظت سے نکل جانے اور دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ فرمانے کا نہایت مشفقانہ مشورہ دیا۔ مولانا نے جواب میں کہا ”جنرل صاحب! آپ درست ہی فرماتے ہیں کہ اس وقت سیاست کو غلط کار اور خوف خدا سے عاری لوگوں نے ایک گندا کھیل بنا دیا ہے، اس لیے اجتماعی نظام زندگی کو اس گندگی سے دور کرنا ہمارے لیے ایک دینی فریضہ ہے۔“ انہوں نے بڑی شائستگی سے اپنا مدعا بیان کر دیا تھا۔

ایوب خاں کی حکومت جماعت اسلامی کی طاقت میں ضعف پیدا کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتی رہی اور پھر وہ سخت مقام آیا جو اس کی ذلت کا باعث بنا۔ سیاسی جماعتوں سے پابندی اٹھتے ہی جماعت اسلامی نے اجتماع عام موچی دروازے میں کرنے کی اجازت چاہی۔ حکومت نے انکار کر دیا اور لاؤڈ اسپیکر پر بھی پابندی عائد کر دی۔ ان دنوں نواب آف کالاباغ مغربی پاکستان کے گورنر تھے۔ ان کی طرف سے بھاٹی گیٹ کی پتلی سی پٹی میں جلسہ کرنے کی اجازت دی گئی۔

جماعت اسلامی نے اس پٹی میں خیموں کا ایک شہر آباد کر دیا۔ یہ اجتماع چونکہ کئی برسوں بعد ہو رہا تھا، اس لیے اراکین اپنے کنبوں کے ساتھ شریک ہوئے۔ لاؤڈ اسپیکر کے بغیر سامعین تک تقریریں پہنچانے کے لیے مکبرین کا اہتمام کیا گیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تقریر کے دوران گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔ اس وقت راقم الحروف اسٹیج کی پشت پر خواتین کے خیموں کے قریب کھڑا تھا۔ جماعت اسلامی کے کارکن اللہ بخش گولی کا نشانہ بنے۔ آواز آئی مولانا بیٹھ جائیے۔ انہوں نے جواب دیا اگر میں بھی بیٹھ گیا، تو کھڑا کون رہے گا؟ اجتماع کی کارروائی جاری رہی اور مولانا نے کامل اعتماد سے اپنی تقریر مکمل کی۔ ہماری تاریخ میں نظم و ضبط کا یہ انتہائی حیران کن اور اعلیٰ ترین مظاہرہ تھا۔

اس بہت بڑے سیاسی سانحے کے بعد حکومت نے جنوری 1964 ء میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی جسے چیف جسٹس اے آر کارنیلیس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے کالعدم قرار دے دیا۔ اس دوران اپوزیشن کی امیدوار محترمہ فاطمہ جناح صدارتی انتخاب میں ہار گئیں اور حزب اختلاف نے قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا سوچا، مگر مولانا مودودی نے آئینی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کے فوراً بعد 1965 ء کی جنگ چھڑ گئی اور صدر ایوب خاں نے تمام سیاسی قائدین کو ملاقات کی دعوت دی۔ مولانا نے ایک لمحے کے توقف کے بغیر دعوت پر لبیک کہا۔ ان کے ساتھ یادگار تصویریں کھنچوائیں۔ اس طرح اپوزیشن اور حکومت شیر و شکر ہو گئے اور قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی۔

Facebook Comments HS