صوبہ قبائلستان


جمعیت علماء اسلام، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی، قبائلی ملکان، فاٹا انضمام کے مخالفت میں پیش پیش تھیں، ہر کسی کے مفاد الگ الگ مگر جب سے تحریک طالبان پاکستان نے یہ کہا ہے کہ ہم فاٹا انضمام کو نہیں مانتے، ان کے شرائط میں فاٹا کو واپس ایف سی آر دور میں لانا شامل تھا۔ اس دن سے صوبہ قبائلستان والے بشمول سیاسی جماعتیں بھی سوچ سمجھ کر باتیں کرتی ہیں۔

باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک جو ملکان صاحبان صوبہ قبائلستان بنانے کی ضد کرتے ہیں وہ حقیقت میں قبائلیوں کے غم خوار روز اول سے نہیں ہیں، ان کے پیچھے ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور لوکل خان، مشر بھی ملوث ہیں۔ اقتدار کا نشہ ایک مضر لت ہے۔ برطانیہ دور حکومت سے لے کر پاکستان بننے کے بعد 2018 تک یہ طبقے قبائلی خطے میں برسر اقتدار تھے۔

بعض ملکان و ریٹائرڈ بیوروکریٹس صوبہ قبائلستان میں وزیر اعلیٰ، گورنر اور دیگر اعلیٰ عہدے کے لئے تیار بیٹھے تھیں۔ وہ قبائلیت کو بطور جذباتی بلیک میلنگ استعمال کرتے تھے اور کر رہے ہیں، قبائلیت کو دین اسلام سے دانستہ یا نادانستہ طریقے سے جوڑ رہے ہیں۔ حقیقت میں قبائلیت مذہب اسلام سے یکسر مختلف ہیں۔

قبائلی خطے کی تباہی میں دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ قبائلیت نے بھی ایک خاص کردار ادا کیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اکثر صوبہ قبائلستان نعرہ لگانے والے قبائلی خطے کی بجائے پشاور اور اسلام آباد میں خاندانوں سمیت رہتے ہیں، اور مستقل طور پر وہاں آباد ہو چکے ہیں۔

ہم سابقہ قبائلی علاقہ جات کے باشندے حکومت پاکستان سے مودبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اس خطے کو ترقی دینے میں سنجیدگی ظاہر کریں۔ تعلیم، صحت، آمد و رفت، قانون نافذ کرنے والے ادارے، عدلیہ، کارخانے بنانا، بہتر سرحداتی نظام پر خصوصی توجہ دیں۔ مملکت خداداد کے دانشوراں، پالیسیاں بنانے والوں مزید قبائلیت کو ہوا نہ دیں، ہمیں اس برہمن، شودر، اچھوت، قبائلیت کھیل سے چھٹکارا دلانے میں مزید نہ دھکیلیں۔ ہمیں آئینی و قانونی حقوق و اختیارات دیں۔ ہم آج بھی ترقی پسند علماء کرام، ملکان و قبائلی مشران کی قدر کرتے ہیں مگر جو لوگ قبائلیت کے پس پردہ کھڑے ہیں ہم آج بھی ان کے خلاف ہیں کل بھی ہوں گے۔

Facebook Comments HS