عالمی امن کا منظرنامہ

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انسان زیادہ طویل امن و سکون برداشت نہیں کرتا اور جنگ و جدل میں ہی شاید عافیت تلاش کرتا ہے۔ ویسے کسی سیانے نے یہ صحیح ہی کہا تھا کہ امن دو جنگوں کے درمیانی عرصہ کو کہا جاتا ہے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد کچھ عرصہ گرم محاذ کچھ خنک ہوئے البتہ سرد جنگ جاری رہی اور اس کے خاتمے کی کوششوں میں مشغول عالمی رہنماؤں کی بھی تضحیک کی گئی۔ اس دوران انسان کی سائنسی ایجادات و اختراعات کو خاصی تیز رفتار ترقی ہوئی خاص طور ذرائع آمدورفت میں اور ٹیلی کمیونیکیشن میں ناقابل یقین ترقی ہوئی مگر اس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ ہر طرح کی معلومات تک رسائی ہر ایک کے ہاتھ لگ گئی جس کا کچھ عرصہ پہلے تصور بھی ناممکن تھا۔
اس سے علاقوں، قوموں اور مختلف گروپوں کے ہاتھوں ایک سافٹ ہتھیار آ گیا جس سے نفرتوں اور باہمی رقابت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ بڑھتی معلومات کی بناء عوامی شعور جب بڑھا تو عوامی جذبات برانگیختہ ہوئے جس سے حکام بالا پہ ایسا پریشر پڑا کہ انہوں نے اپنے اڑوس پڑوس میں جنگی کیفیت پیدا کردی۔ اب روس یوکرائن جنگ دیکھ لیجیے، امریکی تائیوان میں جس طرح کی دراندازی کر کے چین کا ناطقہ بند کرنا چاہا رہا ہے وہ چین کو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
حال ہی چینی کانگرس کا ایک طویل اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ صدر شی جنپنگ کو اگلے پانچ سال کے لیے پھر منتخب کیا اب وہ عسکری وردی میں اگلے مورچوں کا دورہ کر رہے ہیں اور اپنے فوجیوں کا خون گرما رہے ہیں یعنی طفل جنگ بج چکا اب محض اعلان جنگ باقی ہے۔ اس طرح اگر کوئی چینی امریکی برائے راست تصادم ہوا تو اس کے مہلک اثرات کا تصور ہی خوفناک ہے۔ صنعتی، زرعی مصنوعات کی قلت ہوگی جس سے پوری کی خودساختہ ترقی کا تختہ دھڑام ہو جائے گا شاید کوئی اس قابل بھی نہ ہو کہ کسی ساتھی کی تیمارداری بھی کرسکے۔ بڑے ممالک کی باہمی رقابت عالمی امن و سلامتی کے درپے ہے۔ صنعتی ترقی اور یک طرفہ خوشحالی کا یہی منطقی انجام ہونا ہی تاریخ کا جبر ہے۔

