تصدیقی بلیو ٹک کے معاملے نے ٹوئٹر پر افراتفری پھیلا دی


ٹوئٹر
بااثر افراد اور برانڈز کے  جعلی لیکن تصدیق شدہ بلیو ٹک اکاؤنٹس اب ٹوئٹر کی طرف سے تصدیقی رقم کی ادائیگی کے اعلان کے بعد افراتفری کا شکار ہیں۔

جمعرات کو سوشل پلیٹ فارم پر سیاست دانوں، مشہور شخصیات، بڑی تنظیموں اور کاروباری اداروں کے ناموں کے جعلی ’تصدیق شدہ‘ اکاؤنٹس سامنے آنے لگے۔

ٹوئٹر نے ان میں سے بہت سے لوگوں کو معطل کر دیا لیکن جعلی اکاؤنٹس کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کمپنی کی تیزی سے بدلتی ہوئی کوششوں نے صارفین کی الجھن میں اضافہ کر دیا ہے۔

ماہرین نے پہلے خبردار کیا تھا کہ ٹوئٹر کے نئے چیف ایلون مسک کی جانب سے اعلان کردہ نئی ٹوئٹر بلیو سبسکرپشن سروس سے، جس کے لیے صارفین کو بلیو ٹک کے لیے ماہانہ 7.99 ڈالر ادا کرنا ہوں گے، دھوکے باز فائدہ اٹھا سکتے ہیں جس سے لوگوں کا اس پلیٹ فارم پر سے اعتماد ختم ہو جائے گا۔

بدھ کو شروع ہونے والے فیچر کے بعد نئے جعلی بلیو ٹک اکاؤنٹس کے مسئلے کے شدیت کھل کر سامنے آئی ہے۔

بڑے برانڈ کے اکاؤنٹس جیسے کہ ایپل، ننٹینڈو، بی پی اور چیکویٹا کے بلیو ٹک ورژن کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ میٹا چیف مارک زکربرگ، موجودہ اور سابق امریکی صدور جو بائیڈن، ڈونلڈ ٹرمپ اور جارج ڈبلیو بش اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر جیسے ہائی پروفائل افراد کے جعلی اکاؤنٹس کو بھی ہٹا دیا گیا۔

ایک مرتبہ ایریزونا کے گورنر کے لیے ریپبلکن امیدوار کیری لیک کے نام پر ایک اکاؤنٹ نے ٹویٹ کیا کہ وہ اپنے ڈیموکریٹک مخالف کو تسلیم کر رہی ہیں، اس حقیقت کے باوجود کہ ووٹوں کی سخت دوڑ میں گنتی جاری ہے۔ ٹوئٹر نے کئی گھنٹوں بعد یہ ٹویٹ اور جعلی اکاؤنٹ ہٹایا۔

ایک جعلی ٹیسلا اکاؤنٹ نے، جو ایلون مسک کی ملکیت ہے، نائن الیون کے بارے میں مذاق اڑایا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ایلون مسک کا بھی ایک جعلی اکاؤنٹ تھا۔

سب سے زیادہ پریشانی کا باعث بننے والے والے اکاؤنٹس میں سے ایک امریکی فارماسیوٹیکل کمپنی ایلی للی کا جعلی اکاؤنٹ تھا جس نے یہ اعلان کریا کہ ’انسولین اب مفت ہے‘۔

کمپنی کو بتانا پڑا کہ یہ جعلی اعلان تھا۔

رقم دے کر بلیو ٹک حاصل کرنے کو بھی سازشی ذہن رکھنے والے اور انتہائی دائیں بازو کے کارکن غلط طریقے سے استمعال کر رہے ہیں۔

بی بی سی نے  پایا کہ امریکی سیاسی تحریک کیو این نون QAnon   کے کم از کم تین انفلواینسرز کے ایسے جعلی اکاؤنٹس ہیں جنھوں نے ٹوئٹر پر بلیو ٹِکس خریدے لیے ہیں۔

انتہائی دائیں بازو کے کارکن جیسن کیسلر اور رچرڈ سپینسر جنھوں نے شارلٹس وِل میں 2017 کی یونائٹ دی رائٹ ریلی کا اہتمام کیا تھا دونوں نے بلیو ٹِکس خریدے ہیں۔

ٹوئٹر نے اس سے قبل پانچ سال قبل پرتشدد ریلی کے بعد کیسلر اور  سپینسر کے اکاؤنٹس سے تصدیقی بیجز ہٹا دیے تھے۔

محققین نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے خریدے گئے بلیو ٹک والے متعدد جعلی شخصیات کے اکاؤنٹس بھی دیکھے ہیں۔ یہ تشویش کی بات ہے کیونکہ اس طرح کے غیر مستند اکاؤنٹس کو معمول کے مطابق اثر و رسوخ کی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اکاؤنٹس بعض اوقات دوسرے ممالک کی حکومتوں کی جانب سے کسی ملک میں سیاسی واقعات کو متاثر کرنے کے مقصد سے استعمال ہوتے ہیں۔

ٹوئٹر نے بہت سے جعلی بلیو ٹک اکاؤنٹس کو معطل کر دیا ہے لیکن یہ نئے بننے والے جعلی اکاؤنٹس کے معاملے میں ابھی مشکلات کا شکار ہے۔

کچھ ہائی پروفائل اکاؤنٹس کے ہینڈلز کے نیچے نئے سرمئی ’آفیشل‘ بیجز  شامل کیے گئے تھے لیکن ایلون مسک نے فوری طور پر انھیں بھی ختم کر دیا تھا۔

تاہم جمعے کو کچھ ٹوئٹر پروفائلز پر نئے سرمئی سرکاری بیجز دوبارہ ظاہر ہونا شروع ہوئے۔  

امریکہ میں مقیم کچھ صارفین نے رپورٹ کیا کہ ٹوئٹر کا بلیو سبسکرپشن سسٹم اب ان کے لیے دستیاب نہیں ہے۔

ایلون مسک نے پہلے کہا تھا کہ ہائی پروفائل ٹوئٹر صارفین کےتصدیق شدہ پیروڈی اکاؤنٹس کو اپنے طور پر یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ حقیقی نہیں ہیں۔

بعد میں انھوں نے اعلان کیا کہ لفظ پیروڈی کو اکاؤنٹ کے ناموں میں بھی شامل کرنے کی ضرورت ہوگی، انھوں نے مزید کہا کہ ’لوگوں کو دھوکہ دینا ٹھیک نہیں ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26838 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments