راجہ قاسم محبوب اور انتظامی نا اہلی


سنہ 2007 کی بات ہے کہ میری ملاقات جامعہ ذریعہ کے
Institute of Soil and Environmental Science
کے ایک کلاس روم میں راجہ قاسم محبوب جنجوعہ سے ہوئی۔ درمیانے قد اور تیز نین نقش والا یہ نوجوان ہمیشہ کلاس کے پہلے بنچوں پر بیٹھنا پسند کرتا۔ وہ ایک خاموش طبع، حساس، محنتی اور ذہین طالب علم تھا۔ اپنی قابلیت کی بدولت قاسم نے جلد ہی اپنی ایک الگ پہچان بنا لی اور دوسرے کلاس فیلوز سے وہ ہمیشہ منفرد اور نمایاں دکھائی دیتا۔ اس کے علاوہ وہ ہمیشہ ادارے کی ہر قسم کی تقریبات میں پیش پیش رہا کرتا تھا۔ سنہ 2011 میں ایم فل کے بعد میرا قاسم کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ منقطع ہو گیا تھا۔

سنہ 2013 میں سردیوں کی ایک حسین و سرد شام کو میں اور مظفر مختار  فورٹریس کی راہداری میں آوارہ گردی کر رہے تھے کہ اچانک وہاں قاسم محبوب سے ملاقات ہو گئی۔ ہم نے پھر چائے کی پیالیوں پر اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے وہ شام خوب بتائی۔

جاتے ہوئے قاسم محبوب نے بتایا کہ وہ مقابلے کے امتحان کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کو الوداع کہے ہوئے میں نے نوٹ کیا کہ اس کی گاڑی کتابوں سے بھری پڑی تھی۔ اسی جدوجہد میں اس نے مقابلے کا امتحان دینے والے نوجوانوں کے لیے دو چار کتابیں بھی لکھ ڈالیں۔ پھر ایک دو بار مقابلے کے امتحان میں ناکامیوں کے بعد سنہ 2015 میں اس نے  پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منعقد ہونے والے پی ایم ایس کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کر لی۔ صوبہ پنجاب کی مختلف تحصیلوں میں وہ بطور اسسٹنٹ کمشنر اپنے فرائض تندہی سے سر انجام دیتا رہا۔

14 / 11 / 2022 کی صبح سید زبیر حبیب گیلانی نے مجھے قاسم محبوب کی حادثے میں المناک موت کا بتایا تو یہ افسوس ناک خبر مجھ پر آسمانی بجلی کی طرح گری۔ جواں سالہ نوجوان کی موت نے مجھے ایک دم جھنجھوڑ ڈالا۔ قاسم محبوب کے اپنی وفات سے چند ایام پہلے کے وائس میسج نے ہمارے انتظامی ڈھانچے کو چھپے ہوئے الفاظ میں عیاں کر دیا ہے۔ بطور اسسٹنٹ کمشنر پتوکی وہ کتنے کرب میں تھا اس کی آواز دکھ درد سے بھری ہوئی تھی۔ وہ بالکل بھی مطمئن نہیں تھا۔ در حقیقت، انتظامی معاملات میں بعض اوقات نا چاہتے ہوئے بھی افسران بالا جونیئرز سے غیر قانونی کام کروانے کے لیے ناجائز دباؤ ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔

اس پس منظر میں شریف گھرانوں کے باضمیر نوجوان تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ادارے کس کس طرح غریبوں، ناداروں اور لاچاروں کا استحصال کر رہے ہیں، اور وہ اختیار رکھنے کے باوجود مظلوموں کا دکھ درد نہیں بانٹ پا رہے، بلکہ الٹا اس ظالم نظام کا حصہ ہوتے ہوئے عام آدمی پر ظلم ڈھانے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ پھر ایک عجیب قسم کی کربناکی اور تلخی ان کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور ان کی روح بے چینی اور بے قراری کا شکار ہو جاتی ہے۔

وہ پل پل جیتے اور مرتے ہیں۔ وہ بے چارے ادھر کے رہے سکتے ہیں، نا ہی ادھر کے۔ بس درمیان میں پستے چلے جاتے ہیں۔ اگر کھڈے لائن لگ جائیں تو ان کے اپنے ہی پیٹی بھائی انہیں نا اہلی، سستی اور بیوقوفی کے طعنے دیتے ہیں اور اگر تعیناتی کروا لیں تو پھر انہیں مکروہ انتظامی ڈھانچے کا حصہ بن کر غریبوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کی بجائے ان کا استحصال ہی کرنا پڑتا ہے، ورنہ انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جاتا

بدقسمتی سے یہ انتظامی بدعنوانی کا گھناؤنا کھیل اس ملک کے ساتھ پچھلے پچھتر سالوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ اور جو بھی اس کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، اس پر بدعنوانی کا الزام لگا کر پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے، یا پھر ملازمت سے نکال کر ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے ، یا پھر وہ بے چارہ پاک سر زمین چھوڑ کر غیروں کے دیس میں دھکے کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اور کچھ بے چارے اپنے ضمیر کی آواز کے ہاتھوں رسوا ہوتے ہوئے یوں قاسم محبوب کی طرح اچانک ٹریفک حادثے کا شکار ہو کر جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔

الغرض! یہ ملک اب شریف انسانوں کے رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ یا تو آپ لچے لفنگوں کا حصہ بن کر غریبوں ناداروں پر ظلم ڈھانا شروع کر دیں، قبضہ مافیاز کو پروموٹ کریں اور ظالم کو ظالم کہنا بند کر دیں۔ اور اگر آپ کی تربیت اور ضمیر کی آواز یہ گھناؤنا کھیل کھیلنے سے روکتی ہے تو پھر یہ ملک چھوڑ جائیں۔

کسی بزرگ نے بجا ہی فرمایا ہے کہ اب میرے ملک میں، ”لچا سب توں اچا“ ۔

Facebook Comments HS