’میرا بیٹا میرا ہیرو تھا‘: قطر میں روزگار کے سلسلے میں جانے والوں کی اموات پر اٹھتے سوالات


10 نومبر کی صبح قطر ایئر لائن کی پرواز کیو آر 644 نیپال کے کھٹمنڈو ہوائی اڈے پر اُتری۔

ہوائی جہاز کے سامان والے سیکشن سے جو سامان اُتارا گیا اُن میں ایک بڑا سفید لکڑی کا ڈبہ بھی تھا۔ اس ڈبے پر لکھا تھا ’امیش کمار یادو کی انسانی باقیات، 32 سال مرد، نیپالی شہری۔‘

کھٹمنڈو سے 250 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع گول بازار میں اُن کے والد اپنی بھینسوں کو اپنے اینٹوں سے بنے  گھر کے باہر باندھ رہے ہیں۔ وہ دنیا کی غریب ترین ملکوں میں سے ایک یعنی نیپال کے غریب ترین علاقے میں رہتے ہیں جہاں روزگار کے مواقع نا ہونے کے برابر ہیں۔

جب اُن کے بیٹے امیش کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک قطر میں جا کر کام کرنے کا موقع ملا تو لکشمن یادیو نے کچھ بھینسیں بیچ کر ایک ایجنٹ کو 1500 ڈالر ادا کرنے کا وعدہ کیا جس کے عوض ایجنٹ نے قطر میں نوکری کا بندوبست کرنے کا وعدہ کیا۔

امیشن

لکشمن اور سمترا نے اپنے بیٹے امیش کی قطر میں نوکری کا بندوبست کرنے کے لیے اپنے مویشی بھی فروخت کیے تھے

ایجنٹوں کا نہ صرف نیپال بلکہ بنگلہ دیش اور انڈیا میں غریب علاقوں کا دورہ کرنا عام بات ہے، جو نوجوانوں کو ویزہ حاصل کرنے کے لیے بڑی رقم کے عوض بیرون ملک منافع بخش ملازمت کی پیشکش کرتے ہیں۔

ورکرز کو اکثر ایک کنٹریکٹ سے دوسرے کنٹریکٹ پر منتقل کر دیا جاتا ہے، جس سے خاندانوں کے لیے یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کے رشتہ دار کہاں اور کس کے لیے کام کر رہے ہیں۔

دھنوشہ ضلع میں دو گھنٹے کی مسافت پر کرشنا منڈل کا گھر ہے۔ اُن کے والد سیتیش چار سال قبل قطر میں کام کرنے گئے تھے۔

سیتیش کو 12 اکتوبر کو چھٹی پر واپس آنا تھا۔ لیکن کچھ دن پہلے کرشنا کو ایک فون آیا جس میں بتایا گیا کہ ان کے والد ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان کے خاندانی دوست نے بتایا کہ سیتیش دارالحکومت دوحہ میں زمین سے سات فٹ نیچے سیوریج کے پائپوں پر کام کر رہے تھے کہ مٹی کا ایک تودا اُن پر گر گیا۔ ان کی موت کے سرٹیفکیٹ میں کہا گیا ہے کہ انھیں ’ٹھوس چیز لگنے کے اثر کی وجہ سے متعدد اندورنی زخم آئے۔‘

کرشنا کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے والد کے آجر کی طرف سے ایک بھی فون کال موصول نہیں ہوئی، یا معاوضے کی پیشکش نہیں ہوئی۔ بی بی سی نے اس واقعے پر تبصرے کے لیے سیتیش کی کمپنی سے رابطہ کیا، لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ادھر گول بازار کے لکشمن کو قطر میں اپنے بیٹے کی زندگی کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا، ان کے پاس سمارٹ فون نہیں ہے اور وہ روزانہ اپ ڈیٹس کو فالو نہیں کر سکتے جو امیش ٹک ٹاک پر پوسٹ کرتا تھا۔

اس کی ویڈیوز میں، اسے قطر کی بڑی بڑی عمارتوں کے سامنے یا دیگر تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

 قطر میں پاکستان سمیت مختلف ملکوں سے آنے والے مزدوروں سے کیسا سلوک کیا جاتا ہے؟ 

قطر کرین حادثے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی: ’چھٹی ملنا مشکل ہے، فٹبال ورلڈ کپ کے بعد آنے کی کوشش کروں گا‘ 

’بیٹے کو قرض لے کر سعودی عرب بھیجا اور اب اس کی لاش لانے کے لیے قرض جمع کر رہے ہیں‘

امیش نے تعمیراتی منصوبوں پر کام کے دوران اپنے کلپس بھی شیئر کیے۔ ایک سیڑھی کے اوپر سے مسکراتے ہوئے، یا یہاں تک کہ ایک چیلنج کے طور پر بھاری کنکریٹ بلاکس کو اٹھاتے ہوئے۔

26 اکتوبر کو امیش نے کچھ فلک بوس عمارتوں کے سامنے رات کے وقت رقص کرتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جن پر آنے والے ورلڈ کپ کے اشتہارات چل رہے تھے۔

امیش کے کزن لکشمن بھی قطر میں کام کرتے ہیں انھیں 27 اکتوبر کو فون آیا کہ امیش وفا پا گئے ہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ تعمیراتی مقام پر گئے تاکہ یہ معلوم کر سکیں کہ کیسے ان کی وفات ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ امیش لفٹ سے اوپر جا رہے تھے، جب وہ کسی چیز سے ٹکرا کر ٹوٹ گئی اور وہ نیچے گر گئے۔‘

قطر

امیش کے کزن کو بھیجی گئی تصویر میں کئی منزلہ اونچی عمارت کے ساتھ ٹوٹی ہوئی لفٹ کو لٹکا ہوا دکھایا گیا ہے

لکشمن کہتے ہیں کہ ’انھیں کام کی جگہ پر حفاظت کا خیال رکھنا چاہیے تھا، انھیں سب کچھ چیک کرنا چاہیے تھا اور تب ہی لوگوں کو کام کرنے کی اجازت دینا چاہیے تھی۔‘

بی بی سی اس تعمیراتی کمپنی سے رابطے میں ہے جس کے لیے امیش کام کرتا تھا۔ وہ سختی سے انکار کرتے ہیں کہ حفاظتی بندوبست میں کوتاہی اُن کی موت کا سبب بنی۔

ان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حادثہ خود امیش کی غفلت اور لاپرواہی کے نتیجے میں پیش آیا۔ ’مرنے والا کارکن سائٹ پر بہت لاپرواہ تھا اور اسے اپنے باقی ساتھیوں کی طرح حفاظتی آلات کی پابندی کرنے کے لیے کئی بار مطلع کیا گیا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘

جب سے قطر میں ورلڈ کپ کے سلسلے میں تعمیراتی منصوبوں کا آغاز ہوا ہے، تارکین وطن کارکنوں کے لیے مشکل حالات اور اُن کی ہلاکتوں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔

قطر کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ’اپنے منصوبوں پر کام کرنے والے تمام کارکنوں کی صحت، حفاظت اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔‘ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ قطر اپنے صحت اور کام کی جگہ پر حفاظت سے متعلقہ ضوابط میں بہتری لایا ہے۔

لیکن بزنس اینڈ ہیومن رائٹس ریسورس سینٹر کی جانب سے بی بی سی کو دیے گئے تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ ایک سال میں کارکنوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے تقریباً 140 کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے نصف صحت اور حفاظت کے مسائل سے متعلق ہیں۔

امیش

امیش کمار یادو کے تابوت کو نیپال واپس لانے کے بعد ان کے اہلخانہ نے آخری رسومات ادا کیں

ان کا خیال ہے کہ انتقامی کارروائی کے ڈر سے رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے حقیقی اعداد و شمار زیادہ ہو سکتے ہیں۔

بی بی سی نے چھ سال کے عرصے میں پورے جنوبی ایشیا سے کارکنوں کے ایک درجن سے زیادہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ دیکھے ہیں۔ بہت سے لوگوں کی موت کی وجہ ’متعدد اندرونی چوٹیں‘ بتائی گئی تھیں۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی جواب چاہتے ہیں۔

جب امیش کا تابوت ہوائی اڈے سے گول بازار تک پہنچا، ان کے والد لکشمن اور دیگر درجنوں گاؤں والوں نے ان کی آخری رسومات کے لیے تیاریاں کیں اور چتا جلانے کے لیے لکڑیاں اور گھاس جمع کی۔

نیپال میں روایت ہے کہ مرنے والا اگر صاحب اولاد ہے تو اس کا بڑا بیٹا چتا جلاتا ہے۔ لکشمن نے اُمیش کے بیٹے 13 ماہ کے سوشانت کے چھوٹے سے ہاتھ میں لکڑی تھمائی تاکہ وہ اپنے والد کی چتا کو آگ لگائے۔

امیش کی والدہ سمترا کا کہنا تھا کہ ’وہ ہماری مدد کرتا تھا۔ ہم پر قرض بھی ہیں اور اس کے بچے کفالت کی ذمہ داری بھی ہے۔‘ اُن کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ ’وہ میرا ہیرو تھا۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26815 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments