ایماندار پاکستانی اور سمندری دیوتا کی کہانی


ایک پاکستانی بحیرہ عرب کے ساحل پر کھڑا پانی میں پتھر پھینک پھینک کر لطف اندوز ہو رہا تھا۔ بنجر بیابان دبئی کی ریت دیکھ دیکھ کر اسے اپنا گاؤں یاد آ رہا تھا جہاں وہ سبزے میں گھرے جوہڑ میں پتھر پھینک پھینک کر لوگوں پر کیچڑ اچھالا کرتا تھا۔ نوے میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پتھر پھینکتے ہوئے اس نے بازو گھمایا تو اس پر بندھی سلور رنگ کی کیسیو گھڑی سمندر میں جا گری۔ وہ سمندر کے کنارے بیٹھ کر رونے لگا۔ اس کا گریہ سن کر سمندر سے ایک دیوتا نکلا اور پوچھا کہ رونا پیٹنا کیوں مچایا ہوا ہے، مجھے چین سے سونے کیوں نہیں دے رہے؟ پاکستانی نے بتایا کہ میری گھڑی سمندر میں گر گئی ہے۔ دیوتا نے یہ سن کر غوطہ لگایا اور ایک چاندی کی بنی گھڑی نکال کر لے آیا۔

کیا یہ تمہاری گھڑی ہے؟ دیوتا نے پوچھا۔
اتنی دور سے مجھے پتہ نہیں چل رہا۔ میری عمر اب ستر برس ہو چکی ہے اور میری دور کی نظر خراب ہے۔ مجھے قریب سے دیکھنے دو۔ پاکستانی نے گھڑی ہاتھ میں تھامی اسے خوب غور سے دیکھا اور کہنے لگا یہ میری گھڑی نہیں۔ دوبارہ غوطہ لگا کر دیکھو۔

دیوتا کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے سوچا کہ کتنا ایماندار پاکستانی ہے۔ اس نے سمندر میں دوبارہ غوطہ لگایا اور اب ایک وائٹ گولڈ کی بنی جڑاؤ گھڑی لیے باہر نکلا۔
پاکستانی نے گھڑی ہاتھ میں تھامی اور اسے غور سے دیکھ کر کہا ”یہ میری گھڑی نہیں ہے“ ۔

دیوتا اس پاکستانی کی ایمانداری سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے پھر سمندر میں غوطہ لگایا اور اس مرتبہ پلاٹینم کی بنی ہیرے جواہرات سے سجی گھڑی لیے باہر نکلا۔
پاکستانی نے گھڑی کو ہاتھ میں پکڑا اور مایوسی سے سر ہلا دیا۔

دیوتا یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے دوبارہ سمندر میں غوطہ لگایا اور اس مرتبہ وہ پاکستانی کی سلور کلر کی کیسیو گھڑی ہاتھ میں لیے سمندر سے برآمد ہوا۔ لیکن وہ باہر کا منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔

پاکستانی غائب ہو چکا تھا۔ ۔ ۔ چاندی، سونے اور پلاٹینم کی جڑاؤ گھڑیوں سمیت۔ وہ اس وقت دبئی کی سب سے بڑی گھڑیوں کی دکان میں کھڑا پلاٹینم کی گھڑی کا ریٹ لگوا رہا تھا۔ دکان دار نے اس سے قیمت پوچھی تو وہ بولا پچاس لاکھ ڈالر سے ایک پیسہ کم نہیں لوں گا۔ دکاندار نے کہا کہ ابے چریے، دماغ چل گیا ہے کیا؟ پچاس لاکھ ڈالر کی کون سی گھڑی ہوتی ہے؟ میں دس لاکھ ڈالر سے اوپر ایک روپلی نہیں دینے کا۔ کچھ دیر کی سودے بازی کے بعد بیس لاکھ پر سودا مک گیا۔

پاکستانی اپنے بریف کیس میں نوٹ ڈال کر خوش خوش باہر نکلا اور سوچنے لگا کہ شکر ہے کہ پرائمری سکول میں غریب لکڑہارے اور دیوتا کی ایمانداری بہترین پالیسی ہے والی کہانی پڑھ رکھی تھی، دیوتا کو کیسا بڑھیا چونا لگایا۔
دکاندار جڑاؤ گھڑی کو تجوری میں رکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ سوا کروڑ ڈالر کی گھڑی بیس لاکھ میں خرید کر پاکستانی کو کیسا بہترین چونا لگایا۔

دیوتا سمندر کی تہ میں سلور کلر کی کیسیو گھڑی ہاتھ میں تھامے بیٹھا سوچ رہا تھا کہ پاکستانی بہت ایماندار ہے، بے ایمان ہوتا اور اس نے مجھے چونا لگانا ہوتا تو چاندی، وائٹ گولڈ اور پلاٹینم والی جڑاؤ گھڑی کو اپنا بتا کر لے جاتا۔ ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔ ممکن ہے کہ اس نے کسی چھابڑی والے سے کچھ الٹا سیدھا لے کر کھا لیا ہو اور اسے ایمرجنسی میں ٹائلٹ جانا پڑ گیا ہو۔ مجھے اس کی ایمانداری پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ غلطی میری ہی ہے۔ مجھے مزید کچھ دیر اس کا انتظار کر لینا چاہیے تھا۔ کیا پتہ اپنی حق حلال کی کمائی سے خریدی ڈیجیٹل کیسیو گھڑی یوں کھونے کا صدمہ وہ برداشت نہ کر پایا ہو اور اس نے سرف کھا لیا ہو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1516 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments