ایک فروخت شدہ گھڑی کا مضحکہ خیز قصہ


عمر فاروق ظہور ناروے کے قانون سے بھاگا ہوا ایک مجرم ہے جس کی دھوکہ دہی کی کہانیاں سال ہا سال تک ناروے کے میڈیا میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ ناروے کے علاوہ سوٹزرلینڈ میں بھی اس پر فراڈ اور دھوکہ دہی کے متعدد مقدمے قائم ہیں۔ اس کے باوجود وہ دوبئی میں آرم دہ اور پرتعیش زندگی گزار رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس مجرمانہ پس منظر کے باوجود عمر ظہور دوبئی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے با اثر حلقوں میں تعلقات اور دوستیاں بنانے میں کامیاب ہے۔ اب اسے عمران خان کو سعودی ولی عہد سے ملنے والی گھڑی کے بارے میں دعویٰ کرنے پر میڈیا کی توجہ حاصل ہوئی ہے۔

جیو نیوز کے ایک پروگرام میں عمر ظہور نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے خرید کر دوبئی میں جو گھڑی فروخت کی تھی، وہ دراصل اس نے خریدی تھی اور اس کے عوض بیس لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ گھڑی اسے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست اور معتمد فرح خان نے فروخت کی تھی جن سے اس کا تعارف وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ذریعے ہوا تھا۔ شہزاد اکبر کے علاوہ فرح گجر کے شوہر اس قسم کے کسی لین دین یا فرح کے عمر ظہور سے کسی رابطہ کی تردید کرچکے ہیں۔ عمر ظہور کا کہنا ہے کہ اس نے یہ گھڑی خریدنے کے لئے بیس لاکھ ڈالر کی کثیر رقم نقد فرح خان کو ادا کی تھی کیوں کہ انہوں نے اس پر اصرار کیا تھا۔ ملکیت کے ثبوت کے طور عمر ظہور نے وہ گھڑی پروگرام میں دکھائی اور دعویٰ کیا کہ یہ نایاب گھڑی اب اس کی ملکیت ہے۔

عمر ظہور کے ماضی کو پیش نظر رکھا جائے تو اس کا یہ دعویٰ صریحاً جھوٹ بھی ہو سکتا ہے جو اس نے اپنے کسی مفاد کے لئے کیا۔ یا ہو سکتا ہے کہ وہ اس طریقہ سے عمران خان کا براہ راست نام لے کر میڈیا میں آنے کی خواہش پورا کرنا چاہتا ہو۔ اس کی وجہ کوئی بھی ہو اس دعوے پر عمران خان اور تحریک انصاف کے فوری اور شدید ردعمل نے اس معاملہ کو مضحکہ خیز حد تک سنسنی خیز اور قابل توجہ بنا دیا ہے۔

عمران خان الیکشن کمیشن کو دیے گئے بیان حلفی میں توشہ خانہ سے قیمتی تحائف خریدنے کا اعتراف کرچکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ان میں سے کچھ قیمتی تحائف فروخت کر دیے گئے تھے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان سے موصول ہونے والی رقم کو باقاعدہ ٹیکس گوشواروں میں ڈکلیئر کیا گیا تھا۔ البتہ عمران خان نے یہ معلومات انتخابی قوانین کے تحت الیکشن کمیشن کو فراہم نہیں کی تھیں جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت سے نا اہل قرار دے چکا ہے۔

اس سارے معاملہ میں صرف یہ نکتہ قابل غور ہے کہ عمران خان اس واقعاتی سچائی سے تو انکار نہیں کرتے کہ انہوں نے مذکورہ گھڑی توشہ خانہ سے خریدی اور اسے فروخت کر کے رقم حاصل کی۔ عمر ظہور کا بیان تو محض یہ بتاتا ہے کہ یہ گھڑی کسے فروخت کی گئی تھی یا اب یہ کس کے پاس ہے۔ ان معنوں میں عمران خان کا شدید رد عمل ناقابل فہم ہے۔ جب وہ خود گھڑی فروخت کرنے اور رقم وصول کرنے کا اعتراف کر رہے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ گھڑی کس نے خریدی اور اب یہ کس کے پاس ہے۔ فروخت کرنے والے کو اس سے بھی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ خریدار کوئی باعزت تاجر ہے یا کوئی عالمی شہرت والا اٹھائی گیرا۔ اسے تو مال بیچ کر اس کی قیمت وصول کرنے سے غرض ہے۔

عمران خان اس بنیادی سچائی سے انکار نہیں کرتے لیکن جیو نیوز پر عمر ظہور کا بیان نشر ہونے کے بعد سے عمران خان سمیت تحریک انصاف کے لیڈروں کے شدید اور اشتعال انگیز بیانات سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہے کہ عمران خان کو اندیشہ ہے کہ اس قسم کی بیان بازی سے ان کی سیاسی شہرت کو نقصان پہنچے گا۔ اب وہ اسی کی تلافی کے لیے تلملا رہے ہیں۔

عمران خان نے عمر ظہور کے علاوہ جیو نیوز، حکومت اور نام نہاد ’ہینڈلرز‘ کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں عمر فاروق ظہور اور لندن میں جیو نیوز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بھی ان کا قانونی حق ہے۔ لندن میں جیو کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا فیصلہ بھی اسی لئے کیا گیا ہے کہ برطانوی عدالتیں پاکستانی چینلز کے ذریعے برطانوی پبلک کو فراہم کی گئی معلومات کو جانچنے اور ان کے ذریعے کردار کشی کی کوششوں کے بارے میں حساس ہیں اور کسی برطانوی قانون کی خلاف ورزی پر متعلقہ چینل کے خلاف کارروائی کر سکتی ہیں۔ ماضی میں اے آر وائی نیوز کو ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عمران خان اب اس ’ناقص‘ خبر نشر کرنے پر جیو کو لندن کی عدالت سے سزا دلوا کرا سے مالی طور سے عاجز کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔

تاہم عمران خان نے شدید غم و غصہ کے عالم میں اس معاملہ پر بیان بازی کرتے ہوئے پاکستانی نظام عدل اور عدالتوں پر براہ راست الزام تراشی کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس لئے متحدہ عرب امارات اور لندن میں قانونی کارروائی کریں گے کیوں کہ انہیں پاکستانی عدالتوں پر اعتبار نہیں ہے۔ عمران خان جس نظام عدل اور قانون کی بالادستی کے اصول کی بات کرتے رہتے ہیں، اس کی روشنی میں بھی یہ بیان قابل گرفت ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال قانون و آئین کی بالادستی کے دعوے کرتے رہتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے عدالتیں وہی فیصلہ کریں گی جو قانون کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔ اب ایک قومی لیڈر نے ایک معمولی معاملہ پر آگ بگولہ ہو کر ملکی عدالتی نظام کو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس بے بنیاد بیان کے خلاف یو اے ای اور برطانیہ کی عدالتوں سے انصاف مانگیں گے کیوں کہ پاکستانی عدالتیں انہیں انصاف فراہم نہیں کر سکتیں۔

عمران خان تو عمر ظہور کو سزا دلوانے کے لئے غیر ملکی عدالتوں میں چلے جائیں گے لیکن پاکستان کے بائیس کروڑ عوام اپنی داد رسی کے لئے کہاں جائیں؟ اس کا جواب دینا یا تلاش کرنا بہر حال چیف جسٹس پر واجب ہے۔ اب یہ انہیں دیکھنا ہے کہ وہ اس بیان کو ’توہین عدالت‘ سمجھتے ہوئے عمران خان کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ہدایت کرتے ہیں یا عمران خان کی طرف سے دائر متعدد درخواستوں پر غور کے دوران اس سوال کا شافی جواب فراہم کیا جاتا ہے۔

یہاں اس سوال کا جواب تلاش کرنا بھی اہم ہے کہ اگر عمران خان کو ایک ’جھوٹے‘ بیان کو مسترد کرنے میں عدالتی تعاون ملنے کی امید نہیں ہے تو وہ کسی گمان پر چیف جسٹس سے موجودہ سیاسی حالات میں مداخلت کرنے اور اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔ اگر عدالتیں انصاف ہی فراہم نہیں کرتیں اور ایک ٹی وی پروگرام کی جانچ کرنے کا فریضہ بھی عمران خان کی امید و خواہش کے مطابق کرنے کی اہل نہیں ہیں تو وہ آئین کے مطابق سیاسی نظام کی اصلاح، ایف آئی آر کے اندراج یا متعدد دیگر معاملات میں سچائی تک پہنچنے کا کام کیوں کر کر سکتی ہیں۔

اس صورت حال میں یا تو سپریم کورٹ میں عمران خان اور تحریک انصاف کی دائر کردہ درخواستوں کو سیاسی ہتھکنڈا ماننا پڑے گا یا یہ سمجھا جائے گا کہ عمر ظہور کے بیان پر عمران خان کے پاس مناسب شواہد اور دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ عدلیہ پر الزام لگا کر بیرون ملک انصاف حاصل کرنے کا اعلان کر کے ایک ہی تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی اس بیان سے عمران خان کی سیاسی بیان بازی کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی بھی کرلی جائے اور عدلیہ کو دباؤ میں لانے کا مقصد بھی حاصل ہو جائے۔ اب اس گتھی کو ہماری اعلیٰ عدالتیں ہی سلجھا سکتی ہیں تاکہ پاکستانی عوام کو کسی طرف سے تو کچھ اطمینان نصیب ہو۔

جہاں تک عمر ظہور کے الزام اور عمران خان کے انکار کا تعلق ہے تو اس میں بھی معاملہ بہت پیچیدہ اور مشکل نہیں ہے۔ وہ یہ سچائی تو تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے گھڑی اور دیگر تحائف دوبئی میں فروخت کیے۔ انہیں عمر فاروق ظہور سے بس یہ اختلاف ہے کہ یہ گھڑی انہوں نے فرح نامی ایک خاتون کے ذریعے اسے نہیں بیچی تھی۔ اس موقف کو سچ ثابت کرنے کے لئے عمران خان کو محض یہ بتانا ہو گا کہ یہ قیمتی گھڑی جو اب بظاہر عمر فاروق کی ملکیت ہے، انہوں نے دوبئی کے کس شخص یا کمپنی کو فروخت کی تھی۔ وہ یہ معلومات عام کر دیں تو انہیں قانونی کارروائی میں بھی آسانی رہے گی کیوں کہ جب کسی بھی عدالت میں یہ کہا جائے گا کہ عمر فاروق جھوٹا ہے تو یہ تو بتانا پڑے گا کہ پھر سچ کیا ہے؟ یہ بھی تو ممکن ہے کہ جس شخص یا کمپنی کو عمران خان کے نمائندے نے یہ گھڑی فروخت کی تھی، وہ عمر فاروق ہی ملکیت ہو یا اس کے کسی نمائندے نے یہ ڈیل کی ہو؟

اس معاملہ میں عمر ظہور کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے اس کے ماضی کے جرائم کا ذکر کافی نہیں ہو گا بلکہ کسی بھی عدالت میں اس کے موجودہ بیان کو غلط ثابت کرنے کے لئے متبادل سچ یا حقائق منظر عام پر لانا ہوں گے۔ یعنی کون شخص عمران خان کی طرف سے یہ گھڑی دوبئی لے کر گیا اور یہ کتنی رقم میں کس کمپنی کو فروخت کی گئی۔ اور اس کی قیمت کس کرنسی میں، کس اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔ اگر یہ حقائق بتا دیے جائیں تو عمر فاروق ظہور کے بیان سے ہونے والے سیاسی نقصان کی تلافی کسی عدالتی چارہ جوئی کے بغیر ہی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر معاملہ واقعی کسی عدالت میں پہنچتا ہے تو یہ سارے دستاویزی شواہد وہاں بھی عمران خان کے موقف کو درست ثابت کر کے عمر ظہور اور جیو نیوز کو جھوٹا ثابت کرسکیں گے۔

عمران خان اگر اس معاملہ میں اب بھی صاف گوئی سے کام نہیں لیں گے تو غیر ملکی عدالتیں تو نہ جانے کب انصاف کریں، پاکستانی عوام دیانت، امانت اور شفافیت جیسی اعلیٰ اخلاقی اقدار پر عمران خان کے کردار کو جانچتے ہوئے، سیاسی رائے قائم کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ کیوں اپنی ایمانداری کا پاٹھ انہوں نے خود پاکستانی عوام کو ازبر کروایا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2332 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments