پاکستان میں گیس کی لوڈشیڈنگ: ایل این جی کیا ہے اور یہ اتنی اہمیت کیوں اختیار کر چکی ہے؟


گیس
پاکستان میں گیس کی قلت کے باعث گذشتہ کئی برسوں کی طرح رواں سال بھی گھریلو اور انڈسٹریل صارفین کو مشکل کا سامنا ہے۔

حال ہی میں پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے قومی اسمبلی کی ایک قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ ملک میں گھریلو صارفین کو موسم سرما کے دوران تقریبا 16 گھنٹے کی گیس لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام کے مطابق گھریلو صارفین کو دن میں تین اوقات پر گیس کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ کھانا پکا سکیں۔

ادھر پاکستان کی انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے مطابق سوئی سدرن گیس نے کراچی میں صنعتوں کو گیس کی فراہمی معطل کر دی ہے اور یہ معطلی 28 فروری 2023 تک نافذ العمل رہے گی۔

گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں تقریباً ہر سال موسم سرما میں گیس کا بحران دیکھنے کو ملتا ہے جس کی وجہ حکام کے مطابق مقامی قدرتی گیس کے ذخائر میں تیزی سے ہونے والی کمی ہے۔ پاکستان نے ماضی میں اس کمی کو پورے کرنے کے لیے ایل این جی کا سہارا لیا لیکن اس بار حکام کا کہنا ہے کہ عالمی صورتحال کی وجہ سے ایل این جی مہنگے داموں بھی دستیاب نہیں ہو رہی۔

روس کی جانب سے یورپ کو مہیا کی جانے والی قدرتی گیس کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے متعدد ممالک توانائی کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہیں۔

ایسے میں کئی ممالک مائع قدرتی گیس یا ایل این جی پر انحصار کر رہے ہیں لیکن اس کی طلب میں اضافے کی وجہ سے بندرگاہوں پر ایل این جی ٹینکرز کی قطاریں لگ چکی ہیں۔ مگر یہ ایل این جی آخر ہے کیا اور اتنی اہمیت کیوں اختیار کر چکی ہے؟

ایل این جی

ایل این جی کیا ہے؟

ایل این جی میتھین یا پھر ایتھین اور میتھین کا مرکب ہوتی ہے جسے صاف کرنے کے بعد منفی 160 ڈگری درجہ حرارت تک ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔

اس عمل سے یہ گیس ایک مائع کی شکل اختیار کر لیتی ہے جو تقریبا 600 فیصد کم جگہ لیتی ہے۔
پھر اسے خام تیل کی طرح ٹینکرز کے ذریعے سپلائی کر دیا جاتا ہے۔

جب یہ مائع گیس اپنی منزل پر پہنچتی ہے تو اسے دوبارہ گیس کی شکل میں لا کر ایندھن کے طور پر استعمال کر لیا جاتا ہے۔

کرسٹول انرجی کمپنی کی کیرول نکھلے کا کہنا ہے کہ ایل این جی سے پہلے گیس صرف پائپ لائن کے ذریعے فراہم کی جا سکتی تھی اور اسی وجہ سے اس کو فروخت کرنا جغرافیائی اعتبار سے ایک مشکل عمل تھا۔

ایل این جی کو سمندروں کے پار لے جایا جا سکتا ہے اور کسی بھی جگہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

ایل این جی فراہم کرنے والے ممالک کون سے ہیں؟

ایل این جی

دنیا میں ایل این جی سپلائی کرنے والے بڑے ممالک میں آسٹریلیا، امریکہ اور قطر شامل ہیں۔

امریکہ نے حال ہی میں یورپ کو اپنی ایل این جی برآمدات دگنی کر دی ہیں۔ 2022 کے پہلے نو ماہ کے دوران امریکہ نے یورپ کو 46 ملین ٹن ایل این جی فراہم کی گئی۔ اس کے مقابلے میں 2021 میں امریکہ نے مجموعی طور پر 22 ملین ٹن ایل این جی یورپ برآمد کی تھی۔

اس وقت امریکہ یورپ کو ایل این جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا سپلائر بن چکا ہے۔

آسٹریلیا اپنی تمام ایل این جی ایشیائی ممالک کو فروخت کرتا ہے۔ دوسری جانب قطر ایشیا کے علاوہ برطانیہ، بیلجیئم اور اٹلی جیسے یورپی ممالک کو بھی ایل این جی فروخت کرتا ہے۔

جنوری 2022 سے اکتوبر کے مینے کے درمیان قطر نے یورپ کو 13 ملین ٹن ایل این جی فراہم کی لیکن اہم بات یہ ہے کہ قطر طویل مدتی معاہدے کرتا ہے۔ اسی لیے قطر سے مختصر نوٹس پر اضافی ایل این جی حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

الجزائر بھی رو س کی طرح یورپ کو ایل این جی فراہم کرتا ہے تاہم روس نے اس وقت گیس کی سپلائی کافی حد تک کم کر دی ہے۔

ایل این جی نے یورپ کی کیسے مدد کی؟

ایل این جی

جب روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تو یورپی ممالک نے اس کی مذمت کی۔

جواب میں روس نے یورپ کو قدرتی گیس کی فراہمی میں 80 فیصد تک کٹوتی کر دی جس سے عالمی منڈی میں گیس کی قیمت چار گنا بڑھی اور گھریلو صارفین کے بل بھی آسمان کو چھونے لگے۔

بجلی کی بندش کے ڈر سے یورپی یونین نے امریکہ سے ایل این جی زیادہ فراہمی کا معاہدہ کر لیا۔

اس وقت یورپی یونین میں استعمال ہونے والی گیس کا 40 فیصد حصہ ایل این جی پر مشتمل ہے۔

ایل این جی کی اضافی فراہمی کی وجہ سے گیس کی قیمت میں مذید اضافہ رک گیا ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس کی فراہمی کے مقابلے میں ایل این جی کی پیداوار اور ٹرانسپورٹیشن سے 10 فیصد زیادہ کاربن کا اخراج ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

روس روزانہ ایک کروڑ ڈالر مالیت کی گیس جلا کر ضائع کیوں کر رہا ہے؟

خیبر پختونخوا میں بڑے ذخائر کی دریافت کے باوجود گیس کی فراہمی کا منصوبہ ٹھپ کیوں پڑا ہے؟

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: ایف پی اے کیا ہے اور اس سے آپ کے بجلی کے بل میں کیسے اضافہ ہو رہا ہے؟

یورپ مزید ایل این جی کیوں نہیں لے سکتا؟

انرجی انسٹیٹیوٹ کی کیٹ ڈوریئن کا کہنا ہے کہ امریکی ایل این جی نے ایک مشکل صورتحال سے نکلنے میں یورپ کی مدد کی۔

لیکن اب یورپ مزید ایل این جی نہیں لے سکتا کیوںکہ اس سے زیادہ کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔

جو ممالک ایل این جی استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کو پلانٹس کی ضرورت ہوتی ہے جہاں ایل این جی کو دوبارہ گیس کی شکل دی جا سکے۔

فرانس، برطانیہ، اٹلی اور سپین میں تو ایسے پلانٹ موجود ہیں لیکن جرمنی، جو یورپ میں گیس درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، کے پاس ایسا کوئی پلانٹ موجود نہیں ہے۔

یورپ میں ایل این جی ٹرمینلز کی کمی کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔

اکتوبر کے آخر میں رپورٹس کے مطابق یورپی سمندروں میں 51 ٹینکر بندرگاہوں میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔

جرمنی اور ہالینڈ جیسے مملک نے اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے ایسے ٹرمینلز ادھار لیے ہیں جو پانی میں تیر سکتے ہیں اور ایل این جی کو گیس کی شکل بھی دے سکتے ہیں۔

تاہم اس کے باوجود ان کے پاس اتنی استعداد نہیں کہ وہ وصول ہونے والی تمام ایل این جی کو گیس میں بدل سکیں۔
نکھلے کا کہنا ہے کہ تیرنے والے ٹرمینل بہت چھوٹے ہیں۔ وہ زیادہ مقدار میں ایل این جی کو کم وقت میں گیس کی شکل میں نہیں لا سکتے۔ اور اسی وجہ سے جہازوں کی قطاریں لگ رہی ہیں۔

چند اور وجوہات بھی ہیں جو یورپ میں ایل این جی کے مکمل استعمال کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

ڈوریئن کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں ایل این جی سٹور کرنے والی تمام تنصیبات مکمل طور پر بھر چکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک سرد موسم میں استعمال کے لیے گیس محفوظ رکھے ہوئے ہیں لیکن اس سال اتنی سردی نہیں پڑی۔

یورپی ممالک کا ارادہ ہے کہ وہ 17 نئے ایل این جی ٹرمنلز خریدیں گے جن کی مدد سے ایل این جی استعمال کرنے کی 40 فیصد اضافی صلاحیت حاصل ہو گی۔

تاہم یہ ٹرمینل 2026 میں کام کرنا شروع کریں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26837 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments