کیا ’دلت مسلمانوں‘ کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوششیں بی جے پی کی ’چالاکی پر مبنی سیاسی چال‘ ہے؟


بی جے پی
انڈیا میں پارلیمانی انتخابات سنہ 2024 میں ہوں گے اور ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں کی ناصرف ان پر نظر ہے بلکہ اس سلسلے ووٹرز کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

اس دوران انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اب مسلمانوں کے ایک بڑے حصے ووٹ بینک کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کوشاں ہے۔ یاد رہے کہ مبینہ ہندو بنیاد پرستی پر مبنی سیاست کے باعث بی جے پی کے لیے مسلمانوں کی کھلے عام حمایت کرنے کا ماحول کچھ اتنا سازگار نہیں ہے مگر اگر وہ اس میں کامیاب ہوئے تو یہ ایک اہم سیاسی فیصلہ ہو سکتا ہے۔

عام طور پر انڈیا میں مسلمان تمام معاشی اور سماجی معیارات کے پیمانے پر نسبتاً کمتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن پسماندہ مسلمان طبقہ جسے بی جے پی اپنا حامی بنانا چاہتی ہے، اس کی حالت مزید ابتر ہے۔

یہ مسلمان انڈین معاشرے میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد سمجھے جاتے ہیں اور اگرچہ کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ انڈین مسلمانوں کی اکثریت پسماندہ یعنی ’نچلی ذات‘ سے ہے۔

’پسماندہ‘ مسلمان

یہ لفظ انڈیا کے آئین میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک معاشرتی اصطلاح ہے جس کا استعمال سابق صحافی اور سیاست دان علی انور انصاری نے سماج کے پسماندہ طبقات کی نشاندہی کرنے کے لیے نوے کی دہائی میں پہلی بار کیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد مذہب پر مبنی سیاست سے مایوس تھے اور معاشرے کی طبقاتی خطوط پر نشاندہی کر کے مذہب کی بنا پر ہونے والی سیاست کو چیلنج کرنا چاہتے تھے۔

علی کہتے ہیں کہ ’پسماندہ لفظ طبقے کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ ذات کو۔‘ ان کے مطابق ’میں مسلمانوں کے درمیان کام کر رہا تھا تو مجھے ان کی تہذیب کا کوئی لفظ چاہیے تھا۔ اس لیے میں نے پسماندہ چُنا۔‘

لیکن برسوں بعد عملی طور پر اس کی تعریف بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ پسماندہ گروپ کا اس کی موجودہ شکل میں ہندوؤں میں نچلی ذات کے ’ادر بیکورڈ کلاس (او بی سی)، شیڈیولڈ کاسٹ (ایس سی) اور شیڈیول ٹرائیب (ایس ٹی) سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔‘

یہ تمام ذاتیں معاشی، سماجی، سیاسی طور پر ’اعلی‘ ذات کے لوگوں سے نیچے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کی عدم موجودگی میں ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انڈیا میں 80 سے 90 فیصد مسلمان پسماندہ ہیں۔

بی جے پی کے لیے ’پسماندہ مسلمان‘ کیوں اہم ہیں؟

انڈین مسلمان

انڈیا کی 1.4 ارب آبادی میں تقریباً 15 فیصد مسلمان ہیں۔ یہ اعداد و شمار آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ملک کی ہر سیاسی جماعت کے لیے اہم ہیں، بشمول بی جے پی کے جو کہ مرکز میں مسلسل تیسری بار اقتدار میں آنے کی کوشش کرے گی۔

پروفیسر خالد انیس انصاری پسماندہ طبقے کے حقوق کے ایک ممتاز حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بی جے پی کی اس کوشش کا مقصد مسلم ’مسئلے‘ کا حل تلاش کرنا ہے جو کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے اہم ہے۔

 جبکہ دوسری جانب پسماندہ مسلم گروپوں کا کہنا ہے کہ صرف ’اعلیٰ‘ ذات کے مسلمانوں نے قوم کے تمام وسائل پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ سیاسی نمائندوں، سرکاری افسران اور سرکاری ملازمین کی اکثریت ’اونچی‘ ذات کے مسلمانوں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے ’نچلی‘ ذات کے یعنی پسماندہ مسلمان اپنے جائز مواقع سے محروم ہیں۔

اس حقیقت نے بی جے پی کو ایک اہم موقع فراہم کیا ہے۔

واضح رہے کہ مرکزی حکومت، گذشتہ حکومتوں کی متعارف کروائی گئیں فلاحی سکیموں میں کچھ حد تک بہتری لانے میں کامیاب ہوئی ہے اور اس کے ساتھ خود بھی کئی سکیموں کو متعارف کروایا ہے۔

 ان میں سے بہت سی فلاحی سکیمیں جیسا کہ رہائش اور بیت الخلا کی تعمیر اور کھانے کی سکیمیں انڈین معاشرے کے سب سے نچلے طبقے تک پہنچی ہیں۔

اس نے دلتوں جیسے کمزور طبقات میں بی جے پی کی انتخابی رسائی میں مدد کی ہے۔ اب بی جے پی مسلمانوں کے ساتھ اس کی تقلید کرنا چاہتی ہے۔

بی جے پی رہنما عاطف رشید، جو کہ بی جے پی سے منسلک ’راشٹروادی مسلم پسماندہ محاز‘ کے صدر ہیں، کہتے ہیں کہ ’فی الحال بی جے پی سے مسلمان بڑے پیمانے پر نہیں جڑ رہے ہیں۔ تو اب ہماری کوشش ہے کہ حکومت کی سکیموں کا براہ راست فائدہ اٹھانے والے لوگوں تک پہنچیں جو کہ زیادہ تر پسماندہ مسلمان ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے اپوزیشن جماعتوں کو بڑے پیمانے پر ووٹ دیا ہے لیکن ان جماعتوں نے ہمیشہ ’نچلی ذات‘ کے مسلمانوں کو نظر انداز کرتے ہوئے انتخابی ٹکٹوں یا آئینی تقرریوں کے لیے ’اونچی‘ ذات کے مسلمانوں کو ترجیح دی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کے برعکس بی جے پی انھیں مدرسہ بورڈ، وقف بورڈ، اردو بورڈ سب میں جگہ ​​دے رہی ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں ’ہم کوئی نئی چیز نہیں دے رہے ہیں، ہم وہی چیز دے رہے ہیں جو پہلے 15 فیصد لوگوں کو دی جاتی تھی اب وہ 85 فیصد لوگوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔‘

ہندوتوا کا پرچار کرنے والی بے جے پی نے یہ راستہ کیوں اختیار کیا؟

انڈیا

پسماندہ مسلمانوں کو راغب کرنے کی بی جے پی کی کوشش فی الحال زیادہ تر شمالی ریاستوں بہار اور اتر پردیش میں مرکوز ہے، جہاں مشترکہ طور پر پارلیمنٹ کی 543 نششتوں میں سے 120 ہیں۔

توقع ہے کہ پارٹی اس ماہ کے آخر میں بہار میں پسماندہ مسلمانوں کے لیے ایک کنونشن منعقد کرے گی۔

بی جے پی رواں اور گذشتہ مہینوں میں اتر پردیش میں متعدد کنونشن منعقد کر چکی ہے۔

جولائی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی پارٹی کے کارکنوں سے پسماندہ مسلمانوں تک پہنچنے کی اپیل کی تھی۔ انھوں نے پارٹی سے یہ بھی کہا کہ وہ سماج کے تمام طبقات کو اکٹھا کرنے کے لیے ’سنیہ یاترا‘ یعنی محبت یاترا نکالیں۔

مسلمانوں کی طرف اس طرح کی رسائی بی جے پی کی سیاست کے برعکس ہے جس نے سخت گیر ہندوتوا کی سیاست کا راستہ اختیار کیا ہے اور جس سے اسے بھرپور انتخابی فائدہ ہوا ہے۔

پارٹی 1984 کے پارلیمانی انتخابات میں دو سیٹوں پر منتخب ہوئی تھی، اب 12 ریاستوں میں اس کی حکومت ہے اور مرکز میں یہ مسلسل دوسری مرتبہ حکمراں ہے ۔

بھارتیہ جنتا  پارٹی کو 2014 میں 543 پارلیمانی سیٹوں میں سے 282 نشستیں حاصل ہوئی تھیں جس میں 2019 میں مزید اضافہ ہوا۔

پسماندہ مسلمان ’سمان‘ چاہتے ہیں ’سنیہ‘ نہیں

لیکن پسماندہ طبقات کی مہم کی شروعات کرنے والے علی انور انصاری اسے ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔

پسماندہ مسلمانوں سے قربت بڑھانے کی مودی کی تقریر کے فوراً بعد علی انصاری نے وزیر اعضم کو ایک خط لکھا جس میں کہا کہ ’آپ کو ’پسماندہ مسلمانوں‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سُن کر خوشگوار حیرت ہوئی لیکن پسماندہ مسلمان ’سمان‘ (مساوات اور عزت) چاہتے ہیں ‘سنیہ’ (محبت) نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’سنیہ‘ کا ایک خاص مفہوم ہے: پسماندہ مسلمانوں کو ’سنیہ‘ کی ضرورت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کمتر ہیں جنھیں اعلیٰ ترین لوگوں کی سرپرستی کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے اپنے خط میں گذشتہ برسوں میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافے کی نشاندہی کی اور کہا کہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پسماندہ مسلمان ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر نفرت انگیز بیانات اور بلڈوزر بھی چلتے رہے تو ’سنیہ یاترا‘ نکالنے کا کیا فائدہ؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کے واقعات میں مارے جانے والے، جلائے جانے والے، معذور ہونے والے، پولیس مقدمات میں پھنسائے جانے والے اور جیل جانے والے زیادہ تر پسماندہ مسلمان ہیں۔

حالانکہ ایک طرف بی جے پی اب پسماندہ طبقات کی بہبود کی بات کرتی ہے دوسری طرف اس کے زیر قیادت مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں مسلم دلتوں کے لیے ’ایس سی‘ (نیچی ذات) کا درجہ مانگنے کے لیے ایک درخواست کی مخالفت کی ہے۔

’ایس سی‘ درجہ ملنے سے دلت ہندوؤں کی طرح دلت مسلمانوں کو بھی نوکریوں اور تعلیم میں مخصوص کوٹے کا فائدہ مل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 1950 کا ایک صدارتی حکم نامہ ان دلتوں کو، جو کہ عیسائی اور مسلم مذہب اختیار کر چکے ہیں، ’ایس سی‘ قبول نہیں کرتا ہے۔

ساتھ ہی پارٹی نے ایک کمیشن بھی قائم کیا ہے جو کہ یہ جانچ کرے گا کہ کیا عیسائیت اور اسلام مذہب میں تبدیل ہونے والے دلتوں کو ’ایس سی‘ کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔

علی انصاری بی جے پی کی اس دوہری پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایک طرف کمیشن بنایا ہے اور ایک طرف (عدالت میں) لکھ کر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: ’میرے ابو راتوں رات پتھراؤ اور تشدد کیس کے ماسٹر مائنڈ کیسے بن گئے؟‘

بی جے پی رہنما نوپور شرما کا پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان، قطر کا انڈیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی انڈیا کی سب سے مقبول جماعت کیسے بنی؟

غلام نبی آزاد: بی جے پی کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلمان لیڈر کی ضرورت کیوں ہے؟

انڈیا

انڈیا کی اپوزیشن پارٹیاں کہاں ہیں؟

یہ عام طور پر ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ انڈیا کی سیاست میں جن پارٹیوں کو روایتی طور پر مسلمانوں کا ووٹ حاصل ہوتا رہا ہے، انھوں نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے۔

ساتھ ہی مسلم اشرافیہ کے ساتھ انھوں نے اپنے مفاد کے لیے مسلمانوں کے اندر ذات پات اور طبقاتی عدم مساوات کو بھی نظر انداز کیا ہے۔

علی انصاری اس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’کانگریس کے دور حکومت میں سیاسی لیڈر کبھی (جامع مسجد کے امام) بخاری کے پاس چلے گئے، کوئی دیوبند چلا گیا، کوئی بہار میں امارت شرعیہ گیا اور یہ مذہبی لوگ ٹکٹیں بانٹنے اور پیروی میں جڑ گئے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ برسوں میں ’نچلی ذات‘ میں ایک ایسہ طبقہ ابھرا ہے جو کہ سیاست اور معاشرے سے پہلے سے زیادہ واقف ہے، اور وہ ایک مساوی اور منصفانہ معاشرے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مہم پسماندہ مسلمانوں کے درمیان بھی جاری ہے۔

خالد کہتے ہیں، ’پہلے مثلا 32 سیٹوں میں 30 اشراف کو ملتے تھے۔ اس پس منظر میں اگر مسلم کی نمائندگی ملک میں کم ہوئ ہے تو اس سے ہمارے پاسماندہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس پس منظر میں بی جے پی اگر دو چار پسماندہ مسلمانوں کو اہم پوزیشن دے دیتی ہے تو ان کو لگتا ہے کہ ان کی نمائندگی ہو گئی۔ ’وہ سوچتے ہیں کہ اگر ان کی (اشراف کی) نمائندگی صفر ہو گئی ہے تو ہم کیا کریں۔‘

حالانکہ مسلم مخالف سیاست اور مسلمانوں پر تششد کے خلاف عام مسلمان، بشمول ’اونچی ذات‘ کے مسلمان آواز اٹھاتے رہتے ہیں، لیکن پسماندہ مسلمانوں کی جدوجہد کی کئی پرتیں ہیں۔ 

ایک ایسے طبقے کے لیے جو بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، ان کے لیے شناخت اور ثقافت کی لڑائی ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے لیے ایسے طبقے کے لوگ زیادہ آواز اٹھاتے ہیں جن کی بنیادی ضروریات پہلے سے پوری ہو رہی ہیں، چاہے وہ ’اعلی‘ ذات ہندو ہوں یا مسلمان یا پسماندہ مسلمان۔

پروفیسر خالد انیس  کا کہنا ہے کہ ’ہماری اور ان کی زندگی میں فرق ہے جب کہ ہم ان کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور آر ایس ایس اور بی جے پی اسے اچھی طرح سمجھتے ہیں کی جتنے بھی دانشور ہیں، بشمول دلت دانشور یا پسماندہ مسلم دانشور، ان میں سے کوئی بھی زمینی سطح پر نہیں ہے۔ زمین پر آر ایس ایس کے پرچارک ہیں۔‘

کیا بی جے پی اپنے مقصد میں کامیاب ہو گی؟

یوں تو تاریخ کے تناظر میں ہندوتوا کی سیاست میں مسلمانوں کے لیے جگہ کم ہے لیکن یہ آر ایس ایس اور بی جے پی اس عملی حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتے ہیں کہ ملک میں تقریباً 200 ملین مسلمان ہیں۔

خالد انیس کہتے ہیں ان کی کوشش ہے کہ ’کہیں نہ کہیں مسلم سوال کو اس طرح سے سلجھایا جائے کہ وہ کنٹرول میں بھی رہیں اور پارٹی کے لیے ہندو مسلم بائنری بھی جاری رہے۔‘

یہ ظاہر ہے کہ بی جے پی یہ سمجھتی ہے کہ ان کے لیے مسلمانوں کے ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنا مشکل ہے لیکن بی جے پی کا وہ مقصد بھی نہیں ہے۔ حالانکہ اس کی پسماندہ پر مبنی سیاست دوسری جماعتوں کی قسمت پر نمایاں اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پروفیسر خالد انیس گذشتہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’قریب 80 سے 85 سیٹوں پر محض 500 سے 5000 ووٹوں کے فرق سے جیت ہوئی ہے۔ اگر ہر حلقہ میں بی جے پی 5000 ووٹ بھی لے آتی ہے تو اپوزیشن کا کھیل ختم ہو جائے گا۔‘

لیکن سیاسی مبصرین یہ کہتے ہیں یہ ایک ’چالاکی پر مبنی سیاسی چال‘ ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26839 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments