دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح کیا خطرے کی گھنٹی ہے؟


آبادی
اقوام متحدہ کے جاری کردہ نئے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی آبادی آٹھ ارب کا ہندسہ عبور کر گئی ہے اور اس آٹھ ارب میں سے تقریباً تین فیصد پاکستان کی آبادی پر مشتمل ہے۔

پاکستان دنیا کے ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جو 2050 تک دنیا میں بڑھنے والی کل آبادی میں پچاس فیصد حصہ ڈالیں گے۔

پاکستان کے علاوہ ان ممالک میں کانگو، مصر، ایتھوپیا، انڈیا، نائیجیریا، فلپائن اور تنزانیہ شامل ہیں۔

اس وقت آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ چین، انڈیا، امریکہ اور انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے بالترتیب پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔

اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ساٹھ کی دہائی کے بعد سے پوری دنیا میں آبادی میں اضافے کی شرح میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور 2020 میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی ہے۔

1962 اور 1965 کے درمیان یہی شرح سب سے زیادہ 2.1 فیصد رہی تھی۔

جہاں پوری دنیا میں آبادی میں اضافے کی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی پاکستان میں یہی شرح 1.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

تیزی سے بڑھتی آبادی

جس شرح سے پاکستان کی آبادی بڑھ رہی ہے کیا یہ پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور کیا مستقبل میں پاکستان میں اتنی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وسائل بھی دستیاب ہوں گے؟

پاپولیشن کونسل کے سینیئر ڈائریکٹر پروگرامز اینڈ ریسرچ، ڈاکٹر علی محمد میر سمجھتے ہیں کہ اس شرح سے آبادی میں اضافہ پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستا ن کی آبادی میں تیزی سے اضافہ اس لحاظ سے خطرہ ہے کیونکہ آبادی اور وسائل کے درمیان توازن نہیں۔

’تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے قدرتی اور معدنی وسائل کم ہو رہے ہیں جس کی سب سے بڑی مثال پانی کی کمی ہے۔ اسی طرح تیل اور گیس جیسے دیگر وسائل میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو توانائی کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ ملک کا انفراسٹرکچر بھی آبادی کے حجم کے لحاظ سے ناکافی ہے اور اتنی بڑی آبادی کے لیے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور سڑکوں کی مناسب تعداد مہیا کرنا کسی بھی حکومت کے لیے بے حد مشکل ہے۔‘

ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب،  ڈاکٹر علی محمد میر کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس شرح سے آبادی میں اضافہ پاکستان کے لیے مشکل حالات پیدا کر رہا ہے اور پاکستان کو آبادی میں اضافے کی اس رفتار کے متعلق سوچنا ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ ہرسال تقریباً 20 لاکھ نوجوان پاکستان کی جاب مارکیٹ میں شامل ہو رہے ہیں اور یہ بڑھتی ہوئی آبادی کا ہی نتیجہ ہے۔

’اگر پاکستان کی معیشت ہر سال چھ سے آٹھ فیصد کے حساب سے بڑھے تب ہی ہم اتنی نوکریاں  پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ پاکستان کے باقی وسائل جیسا کہ پانی، توانائی، اور شہروں میں دوسری بنیادی ضروریات پر آبادی کا بے تحاشا بوجھ پڑ رہا ہے۔ اس وقت وسائل بالکل نہیں بڑھ رہے۔ اگر مستقبل کی فکر ہے تو ہمیں اس متعلق سوچنا ہو گا۔‘

آبادی

یہ بھی پڑھیے

پاکستان: بڑھتی آبادی فائدہ بھی اور نقصان بھی

پاکستان کی بڑھتی آبادی اور مانع حمل ذرائع کا فقدان: ’مانع حمل کے طریقے اپنانا ابارشن سے بہتر ہے‘

خاندانی منصوبہ بندی ’کا بوجھ عورت کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔۔۔ زیادہ تر مرد اس معاملے میں کاہل ہیں‘

انڈیا آئندہ برس آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا

’حکومت جان بوجھ کر آبادی زیادہ بتاتی ہے‘

لیکن ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن اقوام متحدہ کے ان جاری کردہ اعداد و شمار کو زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک تو یہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار نہیں اور دوسرا یہ ہماری آبادی کی ٹھیک تصویر نہیں دکھا رہے۔

’اقوام متحدہ یہ اعداد و شمار خود جمع نہیں کرتا۔ یہ حکومت پاکستان کے ہی فراہم کردہ اعداد و شمار ہیں کہ پاکستان کی آبادی 1.9 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ دوسرا پاکستان کی آبادی اتنی نہیں، جتنی حکومت بتاتی ہے۔ ہم نے جان بوجھ کر اپنی آبادی کو زیادہ دکھایا ہوا ہے۔ ایک ایسا ملک جس میں صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم آبادی کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہو وہاں صوبے اپنی آبادی کو زیادہ کیوں نہیں دکھائیں گے۔‘

اپنی دلیل کے حق میں ڈاکٹر اشفاق ساٹھ کی دہائی میں جاری کردہ راشن کارڈ سسٹم کی مثال دیتے ہیں۔

’ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں راشن کارڈ سسٹم لاگو تھا اور ہر خاندان کے تین سے چار لوگ اس سسٹم میں درج تھے اور خاندان بڑھا کر بتاتے تھے تاکہ دو کلو چینی ہر بندہ حاصل کر سکے۔‘

صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جس رفتار سے پاکستان کی آبادی بڑھ رہی ہے اس رفتار سے وسائل میں اضافہ نہیں ہو رہا تو اس وقت پاکستان کو کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

 ڈاکٹر علی محمد میر سمجھتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو خود بھی اس کے متعلق سوچنا ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ملک میں رہنے والے ہر شخص کو  اپنے خاندان کے حقوق کا اندازہ ہونا چاہیے اور ان حقوق کی ادائیگی کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی ہونا چاہیے۔ جب ہر شخص کو اپنی ذمہ داریوں کا اندازہ ہو گا تو وہ اپنے خاندان کے حجم میں توازن لائے گا۔‘

ڈاکٹر خاقان نجیب سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے وسائل بڑھانے پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اپنی آبادی کے اضافے کو روکنے کی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اپنے شہروں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ شہروں کو بہتر کرنا ہو گا اور ان کو اس طرح کا بنانا ہوگا کہ یہ نہ صرف معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں بلکہ بڑھتی آبادی کے دباؤ کو بھی برداشت کر سکیں۔‘

ٹریفک

’خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات تک رسائی ضروری ہے‘

ڈاکٹر علی میر کے مطابق آبادی میں توازن کے حصول کے لیے ہر شخص کی خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات اور معلومات تک رسائی بہت اہم ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں 17 فیصد شادی شدہ جوڑے ایسے ہیں جو خاندانی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں کر پارہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کی معلومات اور سہولیات کو فروغ دے، خاص طور پر ملک کے تمام طبی مراکز سے خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات اور معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔‘

ڈاکٹر علی میر کے مطابق پاکستان میں علما اور منبر کا لوگوں کی ذہن سازی میں بہت بڑا حصہ ہے اور علما کو بڑھتی آبادی کے دباؤ کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

’ماں اور بچے کی صحت میں بہتری کے لیے بچوں کے درمیان مناسب وقفے کی ضرورت پر علما کرام میں اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی تشہیر کی جائے اور یہ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے۔‘

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں وفاق اور صوبائی سطح پر جامع پاپولیشن پالیسی اور پروگرام روڈ میپ موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بات کی ضرورت ہے کہ ان پالیسیوں اور پروگرامز پر باقی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر عملدرآمد شروع کیا جائے کیونکہ جس تیزی سے پاکستان کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اور جس طرح کے پاکستان کے معاشی حالات ہیں، پاکستان کے لیے اپنی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنا آنے والے دنوں میں مزید مشکل ہو جائے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26837 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments