دو گز زمین


Leo Tolstoy

پرانے وقتوں میں روس کے ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اسے اس بات کا غم کھائے جاتا تھا کہ وہ ایک بڑی زمین کا مالک نہیں ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے پاس اتنی زمین ہو کہ کوئی کسان اس کی برابری نہ کر سکے۔

اسی گاؤں میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی جو کافی زمین کی مالک تھی۔ اس نے اپنی زمین بیچنے کا ارادہ کیا۔ گاؤں کے بہت سے لوگوں نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق زمین کے چھوٹے بڑے ٹکڑے خرید لیے۔ نچوم بھی زمین خریدنا چاہتا تھا مگر اس کے پاس رقم کم تھی۔ آخر زمین کی مالکہ اس پر راضی ہو گئی کہ بقیہ رقم وہ سال بھر بعد ادا کرے۔ اس طرح نچوم نے بھی تھوڑی سی زمین خرید لی۔ اب اس کے پاس پہلے سے زیادہ زمین تھی مگر اس کے دل کو اطمینان نہ تھا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ ایک بڑا زمیندار بنے۔

ایک دن نچوم اپنے صحن میں بیٹھا تھا کہ ایک مسافر ادھر سے گزرا۔ نچوم نے اسے آواز دی اور پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے ہیں۔ مسافر نے بتایا کہ وہ ندی کے اس پار ایک زمین دیکھ کر آ رہا ہے۔ وہاں ایک نئی بستی بسائی جا رہی ہے اور لوگوں کو مفت زمین دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی چاہے تو زیادہ زمین خرید بھی سکتا ہے۔ نچوم کے تو دل کی مراد بر آئی۔ وہ اپنی زمین اور مکان بیچ کے وہاں چلا گیا اور سرکار سے ملنے والی زمین کے علاوہ مزید زمین خرید کر ایک بڑی زمین کا مالک ہو گیا۔ اس نے گاؤں کی بوڑھی عورت کو بقایا رقم بھی ادا کر دی۔

نئی جگہ پر نچوم کی دوستی نئے لوگوں سے ہوئی۔ ان میں سے کئی ایسے تھے جن کے پاس نچوم سے زیادہ زمین تھی۔ چنانچہ اپنے اپنی زمین پھر چھوٹی لگنے لگی۔ ایک دن ایک تاجر سے نچوم کی ملاقات ہوئی۔ وہ تاجر مختلف علاقوں میں جا کر اپنا مال بیچتا تھا۔ اس نے نچوم کو بتایا۔ ”یہاں سے دور باشکروں کے علاقے میں زمین بہت سستی ہے۔ باشکروں کے پاس زمین بے حساب ہے، مگر وہ کھیتی باڑی کرنا نہیں جانتے، مویشی پالتے ہیں اس لیے زمین بہت سستے داموں بیچ دیتے ہیں۔ یہ لوگ بہت سیدھے سادھے ہیں۔ اگر ان کے لیے تحفے لے جاؤ تو وہ اور خوش ہو جائیں گے“ ۔

یہ سن کر نچوم کی باچھیں کھل گئیں اور وہ وہاں کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس نے بہت سے تحفے تحائف خریدے اور ایک نوکر کو ساتھ لے کر باشکروں کے علاقے کی طرف چل پڑا۔ سات دن اور سات رات کا سفر کرنے کے بعد ان کی گھوڑا گاڑی باشکروں کے علاقے میں پہنچ گئی۔ تحفے پا کر باشکر بہت خوش ہوئے اور نچوم کا شکریہ ادا کر کے پوچھا۔ ”ہم آپ کی کیا خدمت کر سکتے ہیں؟“ ۔

”میں آپ کی کچھ زمین خریدنا چاہتا ہوں“ ۔ نچوم نے کہا۔

”ہمارے پاس بہت زمین ہے۔ آپ جتنی اور جدھر کی زمین چاہیں پسند کر لیں۔“ ایک لمبے قد کا نوجوان جو کھال کی ٹوپی پہنے ہوئے تھا بولا۔ یہ باشکروں کا سردار تھا۔

”زمین کی قیمت؟“ نچوم نے سوال کیا۔
”ایک دن کے ایک ہزار روبل!“ ۔ سردار نے جواب دیا۔
”میں سمجھا نہیں“ ۔ نچوم نے کہا۔

”مطلب یہ کہ ایک دن جتنی زمین کے اطراف آپ چکر لگا لیں گے وہ ایک ہزار روبل میں آپ کی ہو جائے گی“ ۔ سردار نے جواب دیا۔

”ایک دن میں تو آدمی بھی بڑی زمین کے گرد چکر لگا سکتا ہے“ ۔ نچوم نے خوش ہو کر کہا۔

سردار نے جواب دیا۔ ”جی ہاں! مگر شرط یہ ہے کہ جس جگہ سے آپ سورج نکلتے ہی چلنا شروع کر دیں گے، اسی جگہ سورج ڈوبنے سے پہلے آپ کو پہنچنا ہو گا۔ اگر آپ پہنچ گئے تو جتنا بڑا چکر آپ لگا لیں گے اس کے اندر کی ساری زمین آپ کی ہو گی اور نہ پہنچ پائے تو نہ ہی زمین ملے گی اور نہ آپ کی رقم واپس ہو گی“ ۔

نچوم نے پہلے ہی سے طے کر لیا تھا کہ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کی طرف چلنا شروع کر دے گا اور دوپہر سے پہلے بائیں کو گھوم جائے گا اور چکر لگاتا ہوا شام سے پہلے لوٹ کر ٹیلے پر پہنچ جائے گا۔

بھلا نچوم کو اس میں کیا اعتراض ہو سکتا تھا اس نے فوراً یہ شرط مان لی۔ رات زیاد ہو چکی تھی۔ نچوم سونے کے لیے چلا گیا۔ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اس کو اپنا سفر شروع کرنا تھا۔ اس نے جلدی سے ملازم کو جگایا۔ تیزی سے تیار ہوا اور فوراً سردار کی جھونپڑی میں پہنچ گیا۔

سب باشکر وہاں پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ ناشتہ کر کے سورج نکلنے سے پہلے ہی ٹیلے پر جمع ہو گئے۔ نچوم کو یہیں سے اپنا سفر شروع کرنا تھا۔ سردار نے اس سے ایک ہزار روبل لے کر اپنی ٹوپی میں ڈالے اور پھر ٹوپی زمین پر رکھ دی۔ چنانچہ ادھر سورج نے مشرق سر جھانکا اور ادھر نچوم نے اپنا پہلا قدم اٹھایا۔ اس کے پیچھے پیچھے کئی باشکر زمین میں کھونٹیاں گاڑتے چلے آرہے تھے۔ تقریباً پانچ کلومیٹر تک وہ اپنی رفتار سے چلتا رہا۔ نہ بہت تیز نہ بہت آہستہ۔ اتنی دور چلنے کے بعد اس کے جسم میں گرمی آ گئی۔ اس نے اپنی واسکٹ کے بٹن کھول دیے اور ذرا تیز چلنے لگا۔ کوئی پانچ میل اور چلنے کے بعد اسے تھکن محسوس ہونے لگی۔ سورج بھی اب کافی اوپر آ گیا تھا اور اس کی کرنیں آنکھوں کو چبھنے لگی تھیں۔ نچوم نے سوچا کہ کوئی پانچ میل سیدھا چلنے کے بعد وہ بائیں طرف مڑ جائے گا اور سورج کے اوپر آتے ہی واپسی کا سفر شروع کر دے گا۔ مگر وہ جتنا آگے بڑھتا جاتا تھا، اتنی ہی ہریالی اور اونچی گھاس اسے نظر آتی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آگے کی زمین زیادہ زرخیز ہے۔ وہ لالچ میں آ کر بڑھتا گیا اور بائیں طرف مڑنا ہی بھول گیا۔

نچوم جتنا آگے بڑھتا جاتا تھا، اتنی ہی اچھی زمین اس کے پیروں تلے آتی جاتی تھی اور زیادہ سے زیادہ زمین حاصل کرنے کی اس کی ہوس بڑھتی جاتی تھی۔ چنانچہ وہ اپنی رفتار اور بھی بڑھا دیتا تھا۔ اچانک اس کی نظر اپنے سائے پر پڑی جو اس کے ساتھ ساتھ دوڑ رہا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ سورج مغرب کی صرف ڈھل چکا تھا۔ لیکن وہ واپس مڑنے کے بجائے بائیں بڑھتا ہی گیا۔

سورج ڈوبنے میں اب زیادہ دیر نہ تھی مگر اب تک اسے ٹیلہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس کی سانس لوہار کی دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔ حلق میں پیاس سے کانٹے پڑ گئے تھے۔ تھکن سے دم نکل رہا تھا مگر وہ دوڑتا گیا، دوڑتا گیا، ڈوبتے سورج کی کرنوں سے اس کی آنکھیں چبھنے لگیں اور سامنے کا منظر دھندلا سا ہو گیا۔

اب اسے ٹیلہ نظر آنے لگا۔ سورج ٹیلے کے پیچھے چلا گیا تھا۔ اس لیے وہ ٹیلے پر کھڑے ہوئے لوگوں کے دھندلے سائے دیکھ سکتا تھا۔ وہ لوگ ہاتھ ہلا ہلا کر اسے بلا رہے تھے لیکن ان کی آوازیں اس کے کانوں میں نہیں پہنچ رہی تھیں کیونکہ ابھی کافی فاصلہ باقی تھا۔

نچوم نے اپنی رفتار اور بھی تیز کر دی۔ جیسے جیسے ٹیلہ نزدیک آتا گیا اس کی جدوجہد بھی تیز ہوتی گئی لیکن اب پیر اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ ان سے خون رسنے لگا تھا۔ کانوں میں سیٹیاں سی بجنے لگی تھیں۔ دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ دم پھولنے لگا تھا اور جسم پسینے میں شرابور تھا، مگر وہ رک نہیں سکتا تھا۔ اسے ایک بہت بڑی زمین کا مالک جو بننا تھا۔

کسی نہ کسی طرح وہ ٹیلے کے قریب پہنچ گیا۔ لوگ اس کی ہمت بڑھا رہے تھے۔ ”اور تیز اور تیز!“ کی آوازیں اس کے کانوں میں گونجنے لگیں۔ وہ ٹیلے پر چڑھنے لگا۔ سردار کی ٹوپی اسے صاف دکھائی دے رہی تھی۔ پھر وہ جان توڑ کر دوڑنے لگا لیکن تیزی سے ٹیلے پر چڑھنا آسان نہیں تھا۔ وہ بار بار ٹھوکریں کھا رہا تھا۔ ادھر سورج کی کرنیں ٹوپی کے کناروں کو چھو رہی تھیں۔ اچانک نچوم زبردست ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔ گرتے گرتے بھی اپنا ہاتھ اپنی ٹوپی کی طرف بڑھایا مگر وہ اس کی انگلیوں سے اب بھی کچھ دور ہی تھی۔

سورج ڈوبنے کے ساتھ ساتھ نچوم کی زندگی کا آفتاب بھی ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ اس کے دل کی حرکت بند ہو چکی تھی۔ سردار کی ٹوپی اور نچوم کے بیچ دو گز کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ اس جگہ کو کھود کر نچوم کو دفنا دیا گیا۔ ہر انسان کی طرح نچوم کے حصے میں بھی دو گز زمین ہی آئی۔

(لیو ٹالسٹائی)

Latest posts by ترجمہ: اقرا توحید (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ترجمہ: اقرا توحید کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments