ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا کامیاب انعقاد


خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور ایٹا کے زیر انتظام صوبے کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ گزشتہ اتوار کو صوبے کے نو مختلف ریجنز پشاور، ایبٹ آباد، کوہاٹ، مالاکنڈ، سوات، صوابی، مردان، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بیک وقت منعقد ہوا۔ ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 46230 طلباء و طالبات شریک ہوئے جن میں 27871 طلباء اور 18359 طالبات تھیں۔ تفصیلات کے مطابق اس سال پشاور ریجن میں 18295 طلباء و طالبات، ایبٹ آباد ریجن میں 4614، سوات ریجن میں 5416، ڈی آئی خان میں 2693، بنوں میں 2212، مردان ریجن میں 5305، صوابی 2183، کوہاٹ میں 2399 جبکہ مالاکنڈ ریجن میں 3113 طلباء و طالبات نے انٹری ٹیسٹ میں شرکت کی۔

ٹیسٹ کے حوالے سے یہ بات خوش آئند ہے کہ طلباء و طالبات اور والدین نے ٹیسٹ کے لئے بہترین انتظامات پر خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور ایٹا کی کوششوں کو سراہا ہے۔ اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ اس سال طلباء و طالبات کی تعداد میں ریکارڈ اضافے کے باعث ٹیسٹ کا صوبے کے طول و عرض میں انعقاد کے ایم یو، ایٹا اور صوبائی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا جس میں ایک اہم مسئلہ موسم سے متعلق تھا اگر ٹیسٹ کے روز کسی بھی سنٹر میں بارش ہوجاتی یا خدا ناخواستہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوجاتا تو اس کا اثر ملک بھر میں ایک ہی روز منعقد ہونے والے اس اہم ترین ٹیسٹ پر پڑنا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ یہ ٹیسٹ انتظامات سمیت ہر لحاظ سے قابل اطمینان رہے ہیں۔

ایم ڈی کیٹ بظاہر تو میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کا ایک روٹین کا ٹیسٹ معلوم ہوتا ہے لیکن اس سال جن مراحل سے گزر کر اس ٹیسٹ کا انعقاد ہوا ہے اس کا حال یا تو یہ ٹیسٹ دینے والے ہزاروں بچے جانتے ہیں اور یا پھر اس کی حقیقت ان بچوں کے بدقسمت والدین سے پوچھی جا سکتی ہے۔ دراصل اس سال ایم ڈی کیٹ کا انعقاد ان حالات میں ہوا جب چند ماہ سے اس کے حوالے سے کوئی بھی بات حتمی طور پر کرنی انتہائی مشکل تھی۔ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے اور پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد ملک کے معاملات جیسے دیگر شعبوں میں بے یقینی اور افراتفری سے دوچار ہیں اس کا اثر وطن عزیز میں میڈیکل ایجوکیشن کو ریگولیٹ کرنے والے قومی ادارے پاکستان میڈیکل کمیشن کے حالات بھی با آسانی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت سے قبل ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کا اختیار پی ایم ڈی سی کے توسط سے صوبوں کے پاس تھا یہ داخلے پی ایم ڈی سی کی گائیڈ لائنز اور قوانین کی روشنی میں ہوتے تھے جس کے لئے پی ایم ڈی سی نے چاروں صوبوں میں قائم پبلک سیکٹر میڈیکل یونیورسٹیوں کو فوکل پوائنٹ مقرر کر رکھا تھا اور تمام صوبوں میں یہی جملہ یونیورسٹیاں داخلہ ٹیسٹ کے انعقاد کی ذمہ دار تھیں۔

خیبر پختون خوا میں یہ اختیار صوبے کی واحد پبلک سیکٹر یونیورسٹی خیبر میڈیکل یونیورسٹی کو دیا گیا تھا جبکہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے تحریری ٹیسٹ کا اختیار خیبر پختونخوا کی سرکاری ٹیسٹنگ ایجنسی ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی (ایٹا) کو دے رکھا تھا البتہ جب مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو اس نے یہ سارے اختیارات نو تشکیل شدہ پاکستان میڈیکل کمیشن کو تفویض کر دیے تھے جس نے اصلاحات کے ایک بڑے پیکج پر عمل کرتے ہوئے جہاں ملک میں طبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی وہاں طبی تعلیم کی ریگولیشن پر بھی خاطر خواہ توجہ دی گئی

اسی سلسلے میں پی ایم سی نے دو سال پہلے اگر ایک طرف ملک بھر میں یکساں نصاب کے تحت ایک ہی روز ایک معیار کے تحت میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کا انعقاد کیا تو دوسری جانب پچھلے سال ملک بھر میں ان ڈور کمپیوٹرائزڈ بیسڈ ٹیسٹ لے کر ایک نئی مثال بھی قائم کی لیکن اس سال حکومت کی تبدیلی کا اثر چونکہ پی ایم سی کے معاملات پر بھی پڑا اس لئے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کے ایام قریب آنے پر ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے حوالے سے بھی نہ صرف طرح طرح کی چی میگوئیاں ہونے لگیں تھیں بلکہ کنفیوژن اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کے حوالے سے کیا ہونے والا ہے۔

لہٰذا ایسے میں اب جب یہ ساری کنفیوژن ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے ایک ہی روز ملک بھر میں انعقاد اور گزشتہ روز اس کے نتائج کے اجراء کی صورت میں ختم ہو چکی ہے اور خیبر پختون خوا سمیت تمام صوبوں میں سرکاری اور نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے توقع رکھنی چاہیے کہ اس ضمن میں اگلے مراحل بھی بخیر و خوبی طے پا جائیں گے اور انشاء اللہ غیر یقینی کی فضائیں چھٹ کر ہمارے مستقبل کے ڈاکٹرز اور ان کے والدین یکسوئی کے ساتھ داخلوں اور کلاسز کے اجراء کے مراحل میں بحسن و خوبی داخل ہو سکیں گے۔

Facebook Comments HS