ناگزیر بعد از ریٹائر منٹ
سحری کے وقت ایک ہاتھ سے آنکھیں ملتے ہوئے دوسرے سے سائیڈ ٹیبل پر بیل تلاش کر کے بٹن دبایا
او۔ خو۔ آج بھی اسی ٹائم
سردی ہے اور لحاف گرم، نہیں اٹھتا، دیکھا جائے گا، اب یہ کون سا پٹھو لگوانے کے اختیار رکھتا ہے۔
پھر زور دار گھنٹی
او۔ اس کی عادت بنی ہوئی، اب اس کو پتہ ہونا چاہیے۔
پھر بیل۔
نہیں چھوڑے گا، جانا پڑے گا، اس کا منھ بند نہیں ہو گا، عادت بگڑی ہوئی ہے، پتہ نہیں کب نارمل ہو گا۔
پھر بیل۔
صبر صبر۔ آیا۔ آیا
جی
کدھر مر گئے تھے؟
سویا ہوا تھا
سوئے تھے یا موئے تھے؟
سر میں نے سوچا آج آپ نے کون سا جاب پر جانا ہے۔
میں رات ساری نہیں سو سکا، مشکل سے ریٹائرمنٹ کو بھولا، تب تھوڑی سی نیند آئی۔ دوبارہ یاد کروا دیا۔ جاب کا ، کمبخت۔ جاؤ چائے لاؤ۔
سر عرض کرنی ہے؟
کرو۔
سر جب آپ کپتان تھے میں تب کا آپ کے ساتھ ہوں، آپ پہلے تو ایسا کبھی نہیں بولتے تھے؟
تم بھی چائے میرے سوئے ہوئے کے سرہانے رکھ دیتے تھے، تم بھی پہلی بار چوتھی گھنٹی پر آئے ہو۔
سر۔ پتی بہت مہنگی ہے، اب چائے خرید کے پینا پڑے گی، بجٹ کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے، اب آپ چائے کا شوق ذرا کم کر دیں۔
اب تم بھی مجھے مشورے دو گئے۔ ریٹائر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چائے قیمتاً، یہاں میں کسی بھی یونٹ میں جا بیٹھوں تو ڈھیر ساری چائے ایک ساتھ۔ کچن میں جاؤ اور چائے لاؤ۔
سر نوکری نہ رہے تو کوئی یونٹ چائے نہیں پلاتی، ایک آدھ بار ہو سکتا ہے، روز نہیں۔
پہلے بھی خرید کر ہی پیتے تھے؟
کچن میرے ذمے تھا، مجھے پتہ ہے کہاں سے آتی تھی، جتنا ہمارا چائے کا خرچہ ہے اس کے لیے پوری تنخواہ چاہیے۔
اچھا اچھا چائے لاؤ
جی جی، بس گیا اور بس آیا
چائے آ گئی،
سر شیشے کے سامنے کھڑے اپنے آپ کو دیکھ کر کچھ بڑبڑا رہے تھے، کپتانی وقت کے اردلی نے کان لگا کے سننے کی کوشش کی، اس کو لگا کہ سر کہہ رہے ہیں،
”میں ابھی بہت فٹ ہوں، مجھے ابھی جاب کرنی چاہیے تھی، کم بخت ایک بار پھر ایکس ٹینشن دے دیتے تو کیا حرج تھا، غلطی کی سلیکٹیڈ کو فارغ ہونے سے نہیں بچایا، اس کو ڈرا دھمکا کے تین سال اور لے ہی لینے تھے، ملک کے ساتھ جو ہوتا ہوتا، مجھے تو آج اردلی کی نہ سننی پڑتیں“ ۔ کیوں اردلی؟
نہیں سر، آپ کے منہ پر چار سال پہلے سلوٹیں پڑنیں شروع ہو گئیں تھیں پھر کسی تکڑے کے فیض سے آپ کا ٹچ لگ گیا، میرے خیال میں تو اتنا بڑا رینک کسی بارعب کے پاس ہونا چاہیے، بوڑھے کو سالار دیکھ کر دشمن کا دل شیر ہو جاتا ہے، اچھا ہوا ہے آپ گھر آ گئے۔ اس عمر میں ٹیبلوں، اسٹیجوں پر چڑھتے ہوئے انسان گر بھی سکتا ہے، ایسے سے پورے ملک کی بے عزتی ہوتی ہے، دنیا پاک وطن کا مذاق کرتی کہ ان کا سر گر گیا، ویسے بھی اب عمر کتنی باقی ہے بہتر ہے کچھ وقت اپنے پیسوں کی کھا لیں، چائے میں نے رکھ دی ہے، آپ بیٹھیں چائے لیں۔
سر نے چسکی لی، الماری کی طرف دیکھ کر وردی نظر آئی، ایک دم ہاتھ کانپ گیا، چائے بستر اور کپڑوں پر ۔
یہ کیا ہوا میرا ہاتھ کانپ گیا، یہ پہلی بار ہوا ہے، میرا ہاتھ چائے تو کیا توپ پر نہیں کانپتا تھا۔
کب آپ نے توپ چلائی تھی؟ جو بتا رہے ہیں کہ میرا ہاتھ نہیں کانپتا؟ جب دشمن آنکھیں دکھاتا تھا تو آپ معذرت خواہ ہو جاتے تھے، جب دشمن شانت ہوتا تھا تو آپ تڑنا شروع ہو جاتے تھے۔
جب مجھے ایکس ٹینشن کے لیے اسمبلی جانا پڑا، کتنے لوگ وہاں بیٹھے تھے، تب بھی میرے ہاتھ ٹانگیں نہیں کانپیں تھیں، الٹا ان کی کانپتیں تھیں۔
سر۔ وہ وقت گئے ”جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے“ ۔
بیگم کدھر ہے؟
سر وہ رات کی میکے گئی ہوئی ہیں، بھائی سے ملنا تھا انہوں نے۔
مجھے بتائے بغیر؟
سر آپ ریٹائر ہو گئے ہیں اب بہتر ہے کہ آپ بتانے پوچھنے ایسی خواہشوں کو چھوڑ دیں۔
پھر ریٹائر کا لفظ استعمال کرتے ہو، تم سیدھے سے نمک کی بوری کیوں نہیں لے آتے، خبر دار جو یہ لفظ دوبارہ استعمال کیا۔
جی سر درست، جیسے حکم، سر مجھے یاد آیا آپ منہ ہاتھ دھو لیں، آج نواسوں کو آپ نے سکول چھوڑنے بھی جانا ہے۔
اور وہ ڈرائیورز؟
ڈرائیورز کوئی نہیں، ایک ہی ہے بیگم ساتھ لے گئی۔ میکے۔
اور باقی چوبیس کہاں گئے نمک حرام؟
نمک حرام نہیں، سرکاری ملازم تھے، سرکار نے واپس بلا لیے۔
پاؤں چٹختے ہوئے ”مجھے ایکسٹینشن لے ہی لینی چاہیے تھی
بیگم نے تو جب آپ پچھلی بار فائل بغل میں دپوچے اسمبلی جا پہنچے تھے اسی دن آپ سے کہا تھا وقت ہے ابھی سے تاحیات کروا لو۔
ڈانٹ کر ”اردلی تمہیں کیسے پتہ ہے، اس بات کا “ ۔
جناب ہم آپ کا سایہ ہوتے ہیں اور سائے کو سب پتہ ہوتا ہے، بلکہ تاحیات نہ کروانے پر بیگم نے آپ کو ڈانٹ بھی پلائی تھی۔


