اولیا کی بڑھتی گھٹتی تعداد اور دہلی کا روحانی سفر


وزارت مذہبی امور سے فون آیا کہ اس مرتبہ نظام الدین اولیاء کے عرس کے لئے زائرین آپ کی نگرانی میں دلی جائیں گے۔ ہم کہاں کے دانا تھے میں نے زبانی بھی عرض کی اور پھر ایک درخواست کے ذریعے گزارش کی کہ مجھے اس ذمہ داری سے مستثنی کیا جائے کیونکہ میں ان زائرین کی نگہبانی اور ذمہ داری سے کماحقہ عہدہ برآ نہیں ہو سکوں گا۔ لیکن بات نہ مانی گئی حکم اٹل تھا۔ آخر وہ دن بھی آ گیا جس کے لئے ہدایت کی گئی کہ ہم نے صبح آٹھ بجے داتا دربار پہنچنا ہے میں جب وہاں پہنچا تو لوگوں کا ایک ازدحام تھا جو داتا صاحب کی مسجد کے صحن میں جمع تھا وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ساڑھے تین سو افراد کا گروپ اس مقدس فریضے کو ادا کرنے کے لئے صبح سے آیا ہوا ہے اور انہوں نے تو سورج نکلنے کا انتظار بھی نہیں کیا ان کا جوش و خروش دیدنی تھا رنگ برنگے ملبوسات اور خوشبوؤں میں بھیگے ان لوگوں کی بے تابی دیکھنے والی تھی ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر اس مقدس سرزمین پر پہنچ جائیں اگر ملکوں کی حد بندیاں نہ ہوتیں جو ہم نے اپنی خوشی سے لگائی تھیں تو اب تک وہ دہلی پہنچ چکے ہوتے۔

داتا صاحب کی مسجد میں باقاعدہ تقریب کا آغاز ہوا ابتدائی رسومات کے بعد مائک پر میری سربراہی کا اعلان ہوا اس کے ساتھ ہی انہوں نے مقدس کلمات سے مزین مجھے چادر عطا کی اور پھر میرے بازو پر کمانڈر کا بلا لگایا اس کے ساتھ ہی تقریب کے صدر نے تقریر شروع کی کہ آپ خوش قسمت لوگ ہیں جن کا نام اس عرس میں حاضری کے لئے تجویز کیا گیا ہے آپ سے زیادہ کون خوش قسمت ہو سکتا ہے کہ آج آپ اس سرزمین کی طرف رخت سفر باندھ رہے ہیں جو ایک لاکھ چوبیس ہزار اولیاء کی سرزمین ہے۔

اس کے بعد وہ کیا کہتے رہے مجھے کوئی ہوش نہ رہا میں تو اس الجھن میں گھر گیا کہ سرتوڑ کوشش کے باوجود آج تک میں تو پیغمبروں کی تعداد پوری نہیں کر سکا جو ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے کتابیں پڑھیں مذہبی لوگوں سے استفسار کیا مگر کوئی بھی ان پیغمبروں کے نام بتانا تو درکنار گنتی پوری کرنے میں بھی میری مدد نہ کر سکا اب ایک اور دریا کا سامنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد ان اولیا کی بتائی گئی تھی جو صرف دلی شہر کے اندر دفن تھے میں ان خیالات کی بھول بھلیوں میں گھرا اور انہی سوچوں میں غلطاں تھا کہ تقریب ختم ہو گئی اور قافلے کی روانگی کا اعلان ہو گیا تمام لوگوں کو بسوں میں بٹھایا اور بارڈر کی طرف روانہ ہو گئے اپریل شروع ہو چکا تھا موسم خوشگوار تھا ہم تمام شہر سے گزر کر واہگہ بارڈر پر پہنچے چونکہ سب شرکاء کو ڈائریکٹ بارڈر پر پہنچے کی بھی اجازت تھی اسی لیے لوگ ابھی کاروں اور موٹرسائیکلوں پر پہنچ رہے تھے ہم ان کا انتظار کر رہے تھے۔

تمام لوگ اکٹھے ہو جائیں تو ہم بارڈر کراس کر کے انڈیا کی طرف چلے جائیں آخری سواری جو آئی وہ ایک پیرزادہ کی تھی جو نئی پجیرو میں آیا اس کو تین چار مرید چھوڑنے آئے تھے جنہوں نے اس کا سامان اتارا میں سامان تو نہ دیکھ سکا لیکن اس نے جبہ اور عمامہ پہن رکھا تھا اس کے پہنچنے کے بعد ہم نے فوراً پیدل بارڈر کراس کیا چند قدموں پر تو انڈین امیگریشن کا آفس تھا انہوں نے ہمیں اپنے سامان کے ساتھ ایک بڑے ہال میں بٹھا دیا حال بہت وسیع اور خوبصورت تھا تمام لوگ بیٹھ گئے ان تمام شرکاء کے پاسپورٹ اور ویزوں کا ریکارڈ لے کر آفس میں چیک کرانا شروع کیا جو ایک طویل اور تھکا دینے والا کام تھا ابھی ہم اس چیکنگ سے گزر رہے تھے کہ میں نے دیکھا کہ انڈین پولیس نے بڑے بڑے تازی کتے ہال میں بیٹھے لوگوں پر چھوڑ دیے شرکاء کافی گھبرا گئے میں دور کاؤنٹر پر کھڑا اپنی جگہ گھبرایا کہ کہیں ہم پر حملہ تو نہیں کرا دیا گیا لیکن تھوڑی دیر بعد محسوس ہوا کہ یہ کتے ہیروئن اور دوسری منشیات کی چیکنگ کے لیے کھولے گئے ہیں وہ ہر آدمی کو سونگھتے پھر اس کے سامان اور گٹھڑیوں کو سونگھ کر آگے گزر جاتے خدا خدا کر کے یہ مرحلہ بھی طے ہوا ہمیں امرتسر کے سفر کے لئے بسیں تیار تھیں لیکن بسوں میں جب بندے بٹھانے لگے تو پانچ آدمی غائب تھے اس ہال کے علاوہ کوئی اور عمارت ہی نہیں تھی جہاں وہ چلے جاتے میں نے عملہ کے ساتھ ہال کا کونا کونا چھان مارا ان کا پتہ نہ چلا ایک ملازم نے بتایا کہ ہال کے پیچھے ایک چھوٹی سی کینٹین ہے وہاں دیکھ لیں جب میں عملہ لے کر کینٹین کی طرف چل پڑا تو دور سے کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بیئر کی بوتلیں ہاتھوں میں لیے سکون سے بیٹھے تھے مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر بوتلیں انہوں نے فوراً بڑے تھرمس میں انڈیلنا شروع کر دیں اور کہا کہ سر یہاں کا پانی موافق نہیں سوڈا واٹر کا استعمال شروع کر دیا ہے میں نے کہا ڈرامے مت کرو دوڑ کر فوراً بسوں میں بیٹھو۔

ہم تھوڑی دیر بعد امرتسر ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے تو وہاں کی انتظامیہ نے جو تین بوگیاں بک کی ہوئی تھی ہمارے حوالے کیں اور میں نے زائرین کو بوگیوں میں اپنا سامان رکھنے اور اپنی نشستیں سنبھالنے کا کہا اب تک تو ہمارے ساتھ صرف انڈین پنجاب پولیس تھی لیکن اب وہاں پر کئی قسم کی ایجنسیاں ہماری نگرانی پر مامور تھیں جن میں آرمی کے سولجرز اور ایک بلیک کیٹ تنظیم بھی تھی لیکن سب ہمارے ساتھ فرینڈلی رہے البتہ ہمیں باور کرایا گیا تھا کہ کوئی ایسا کام نہ کریں جو قانون کی گرفت میں آتا ہو ورنہ اس کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔

ابھی سورج غروب ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا نہ جانے کیسے میرے دل میں خیال آیا کہ قسمت سے آئے ہیں تو لگے ہاتھ جلیانوالہ باغ دیکھ آؤں ویسے تو ہمیں شہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک سوچ ذہن میں ابھر رہی تھی کہ اب تو گیٹ سے ٹکٹ چیکر بھی ہٹ گیا ہے تو خاموشی سے باہر نکل جاؤں لیکن میں نے پھر مناسب سمجھا ڈی ایس پی سے ڈائریکٹ اپنی خواہش کا اظہار کیا جس کا اس نے مثبت جواب دیا میرے ساتھ ایک انسپکٹر اور دو سپاہی کر دیے۔

دس پندرہ منٹوں میں ٹیکسی ڈرائیور نے ہمیں جلیانوالہ باغ تک پہنچا دیا گیٹ سے داخل ہوئے تو دیکھا باغ کا نام و نشان نہیں تھا باغ کے چاروں طرف ایک بڑا خالی میدان تھا اور کچھ بھی نہیں تھا جو کچھ تھا وہ اس زمانے جنرل ڈائر نے ہی تباہ کر دیا تھا جب اس کے حکم پر یہاں لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی تھیں وہ بھی اپریل کا مہینہ تھا جب جنرل ڈائر نے بیساکھی کے میلہ پر اسی باغ میں موجود ہزاروں ہندوستانیوں کا قتل عام کیا اور اس وقت اندازہً پانچ ہزار افراد موجود تھے اور جنرل ڈائر نے فخریہ کہا تھا کہ اتنے آدمیوں پر فائر کرنے کے لئے میں نے صرف تین سیکنڈ میں فیصلہ کیا میں نے باغ کو غور سے دیکھا چاروں طرف عمارتیں اور بڑی دیواریں تھیں اس وقت بھی لوگوں نے دیوار پر چڑھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی بہت سے لوگ بھگدڑ میں مارے گئے گورکھا افسر نے فخریہ لہجے میں بتایا تھا جب تک گولیاں چلتی رہیں بہت اچھا رہا ہم نے ایک گولی بھی بچا کر نہیں رکھی۔

واپسی پر ہم بوگیوں کی طرف روانہ ہوئے تو ایک خوانچے والا ادھر جو روٹیاں اور سالن بیچ رہا تھا ایک دوسرے سردار سے کہنے لگا ”یار ایک پاکستانی بیس روٹیاں کھا گیا ہے“ ۔ مجھے سن کر بہت شرمندگی ہوئی کہ جہاں جاتے ہیں پاکستانی اس طرح کی کوئی نہ کوئی فضول کہانی چھوڑ جاتے ہیں جس سے شرمندگی ہوتی ہے کبھی کوئی ہمارے علم و فضل سے متاثر نہیں ہوا۔ اچانک ذہن میں ایک یاد ابھری جو مجھے خوشی سے سرشار کر گئی کہ ایک مرتبہ پاکستان سے کچھ انسان دوست دانش ور انڈیا گئے اندرا گاندھی کی اس وقت حکومت تھی وزیراعظم سے ملاقات کے لئے ایک گھنٹے کا وقت مقرر ہوا اس گروپ میں مشہور دانشور اقبال احمد بھی تھے۔

eqbal ahmad

اندرا گاندھی اقبال احمد سے اتنی متاثر ہوئی کہ یہ ملاقات کئی گھنٹوں تک محیط ہو گئی اقبال احمد واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی سٹڈیز سے وابستہ تھے کئی کتابوں کے مصنف ایسے دانشور تھے جو انٹر نیشنل پولیٹکل ایکٹوسٹ کے طور پر مغربی دنیا میں ایک مقام رکھتے تھے نوم چومسکی انہیں ایشیا اور افریقہ کا سب سے بڑا سامراج مخالف جینئس کہتے تھے۔ فہم و فراست اور بلندی کردار ان کا طرہ امتیاز تھا۔ فلسطینی مستشرق ایڈورڈ سعید نے اپنی مشہور کتاب ”Culture and imperialism“ ان کے نام کی تھی۔ اقبال احمد پاکستان کا ضمیر تھے وہ پاکستان میں وفات پا گئے المیہ یہ ہے اتنے بڑے آدمی کو آج پاکستان میں کوئی نہیں جانتا افسوس ان کی جگہ اب ہمارے جیسا تلجھٹ رہ گیا ہے۔

خدا خدا کر کے ایکسپریس میل آ گئی اور ہماری بوگیوں کو ٹرین کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور دس بجے شب ہمارا روحانی سفر شروع ہوا کچھ دیر کے بعد زائرین نے شور مچا دیا کہ ہم دریائے بیاس سے گزر رہے ہیں جہاں مسلمان مہاجرین کی ٹرینیں روک دی جاتی تھیں اور انہیں کاٹ کر دریا میں پھینک دیا جاتا تھا۔ اس طرح کا یک طرفہ بیانیہ تو ایک عرصے سے ہمارے کانوں میں انڈیلا جاتا رہا لیکن یہ کوئی بھی بتانے کو تیار نہیں کہ ان ہنگاموں اور قتل و غارت کی ابتدا کب اور کہاں سے ہوئی تھی جس کے ہم خود ذمہ دار تھے تقسیم سے قبل مارچ کے مہینے میں ضلع راولپنڈی میں ہندؤں اور سکھوں کو کن کن مظالم کا سامنا کرنا پڑا راولپنڈی ضلع میں کہوٹہ، چوا خالصہ اور دھمالی کے دیہاتوں کا مسلمانوں نے گھیراؤ کر کے سکھوں اور ہندوؤں کا قتل عام کیا جو نہ صرف انسانیت سوز تھا بلکہ شرمناک تھا سکھ عورتوں نے اپنی عزتیں اور عصمتیں بچانے کے لئے کنوؤں میں چھلانگیں لگائیں اور خود سکھوں نے غیرت کے نام پر اپنی عورتوں کے گلے کاٹے۔ کتنا افسوسناک ہے کہ اس ملک کے کروڑوں انسانوں میں ہمیں سچ نہیں ملتا کہ جو سکھوں اور ہندوؤں نے مسلمان مہاجرین پر مظالم کیے وہ ہماری اپنی سنگدلی اور شقاوت قلبی کا ردعمل تھا جس کا نتیجہ بعد میں مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے خونچکاں واقعات کی شکل میں سامنے آیا۔

رات کے گیارہ بجنے والے تھے ہم نے اپنے پاسپورٹ اور ویزے اور تمام ریکارڈ چیک کر کے ایک طرف سنبھال کر رکھ دیے اور دستر خوان بچھا کر کھانا کھانے کی تیاری کی تا کہ جلدی سو جائیں صبح کافی کام کرنا ہے۔ دستر خوان پر جب کھانا رکھا گیا اور میری روٹیوں پر نظر پڑی تو مجھے ہنسی آ گئی، توے پر بنی پتلی سی چھوٹی سی روٹیاں جس کے بارے سردار جی پریشان تھے کہ ایک پاکستانی بیس روٹیاں کھا گیا ہے۔ میں نے دل میں کہا یہ تو میں بھی پچیس کے قریب کھا جاؤں گا۔

لگتا ہے بیچارے انڈین کو جی بھر کے کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا اور ہمیں کھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ ہم نے کھانا ختم کیا۔ ٹرین اپنی رفتار سے بھاگی جا رہی ہے۔ ہم پر جو پولیس اور دوسری فورسز متعین کی گئی تھیں وہ سو گئی تھیں البتہ بلیک کیٹ جاگ رہی تھی ایک بجے تک وہ بھی دروازے کے قریب سو گئے انہوں نے ہمیں چاروں طرف سے کارڈن کیا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ہم بھی خوابوں کی دنیا میں چلے گئے۔ صبح آنکھ کھلی شور مچ گیا دہلی آ گیا ہے ابھی سورج طلوع ہونے میں تھوڑی دیر تھی ملگجے اندھیرے میں دیکھا کہ جھونپڑ پٹی شروع ہو چکی تھی جس کا ایک لا متناہی سلسلہ تھا ایک گھنٹے بعد ریلوے سٹیشن آیا۔

ریلوے سٹیشن پر پاکستانی سفارت خانے کے افسر ہمارے منتظر تھے انہوں نے ہمارے لیے بسوں کا انتظام کیا ہوا تھا ہم ٹرین سے اتر کر بسوں کے ذریعے تھری سٹار ہوٹل پہنچے تو وہاں بھی انڈین پولیس کا کیمپ لگا ہوا تھا جس کا سربراہ ایک ڈی ایس پی تھا اس کے ساتھ دو انسپکٹر تھے ایک مرد اور ایک خاتون اور درجنوں سپاہی تھے میں نے غور سے دیکھا تو سپاہی کی وردی میں لیڈی پولیس بھی تھی حیرانی کی بات تھی کہ ان میں کوئی امتیاز نہیں کیا جا سکتا تھا ان کا آپس میں اٹھنا بیٹھا چلنا پھرنا آپس میں خوش گپیوں سے فرق کا احساس نہیں ہوتا تھا۔

ہم صبح چھ بجے کاؤنٹر پر کمروں کی الاٹ منٹ کے لئے کھڑے ہوئے جس میں شرکاء کے پاسپورٹ ویزا کی انٹری ہوتی دو آدمیوں کو ایک کمرہ الاٹ ہوتا۔ اس کی چابی حوالے کرتے یہ سلسلہ چلتا رہا ایک گھنٹے کے بعد کچھ پاکستانی میرے پاس آئے کہ پولیس والے ہمیں ہوٹل سے باہر نہیں جانے دے رہے میں نے ڈی ایس پی کو بلوایا اور سختی سے کہا آپ لوگ کیوں روک رہے ہیں ان لوگوں کا اس ہوٹل میں ناشتہ کرنا ضروری تو نہیں یہ باہر کی کینٹینوں سے کھانا کھا کر آ جائیں گے انہیں جانے دو اب مجھے سمجھ آئی مجھے کیوں زبردستی کا کمانڈر بنایا گیا تھا اسی طرح کچھ دیر بعد ایک اور گروپ میرے پاس وہی شکایت لے کر آیا میں ڈی ایس پی سے غصے ہوا۔

اس کے ساتھ لیڈی انسپکٹر بھی تھی وہ بول اٹھی سر یہ ناشتہ نہیں کرنا چاہتے یہ میوہ بیچنا چاہتے ہیں میں نے کہا کوئی میوہ وغیرہ نہیں ان کو جانے دو۔ گیارہ بجے ڈی ایس پی اور دونوں انسپکٹرز ایک پاکستانی کو پکڑ کر لے آئے کہ سر یہ آدمی میوہ بیچنا چاہتا ہے۔ پاکستانی نے لوڈر پر ایک من کی بوری رکھی ہوئی تھی جس میں چلغوزے اور بادام تھے۔ سر آپ کہتے ہیں یہ میوہ نہیں بیچتے آدھے سے زیادہ آدمی یہاں میوہ بیچنے آئے ہیں۔ میں اس بندے کو دیکھ کر حیران ہوا یہ وہ پیرزادہ تھا جس نے جبہ پہن رکھا تھا اور مریدین اسے بارڈر پر پجیرو میں چھوڑنے آئے تھے۔ یہ پیرزادہ اولیا کے دربار میں حاضری سے زیادہ میوہ بیچنے میں دلچسپی رکھتا تھا۔

اور شرم کی بات یہ ہے کہ جتنے آدمی ڈرائی فروٹ لے کر آئے تھے وہ روزانہ تھیلا بھر کر مارکیٹ جاتے اور مارکیٹ والوں نے ایسا ایکا کیا ہوا تھا کہ وہ ان کی خرید سے بھی کم ریٹ پر ڈرائی فروٹ لینے کو راضی نہ ہوتے اس طرح انہوں نے آخر کار خجل ہو کر کم قیمت پر ڈرائی فروٹ بیچا اور جن جن مزاروں پر ہم نے حاضری دی وہاں سے بھی وہ غیر حاضر ہے۔ سب سے پہلے ہم نے حضرت سرمد شہید کی درگاہ پر حاضری دی ان کے مزار کے سرہانے حضرت شاہ ہرے بھرے کا مزار ہے اور قریب ہی مولانا محمد علی جوہر کے بھائی مولانا شوکت علی کا مزار ہے وہاں ایک پاکستانی نے کہا کہ سر آج میں دعا کراؤں گا میں نے کہا آپ دعا کرا لیں وہ دعا کرتا آیا اور آخر میں کہا کہ باری تعالی ایک لاکھ چوبیس ہزار اولیاء کے طفیل ہماری مرادیں پوری فرما۔

اگلے روز ہم نے حضرت بختیار کاکی کے دربار پر حاضری دی تو راولپنڈی کے ایک لحیم شحیم مولوی نے کہا کہ آج میں دعا کرانا چاہتا ہوں۔ میں نے دل میں کہا کرا لو ہمارا کیا جاتا ہے وہ بھی دعا مانگتا آیا اور آخر میں کہا کہ پروردگار کہ ایک لاکھ چھتیس ہزار اولیاء کے طفیل ہماری پریشانیاں دور فرما میرے ساتھ گورنمنٹ کالج لاہور کے ڈاکٹر سعادت سعید کھڑے تھے میں نے کہا اس چغد نے ایک رات میں بارہ ہزار اولیا کا اضافہ کر دیا ہے اور آج جب ہمارے ہر دلفریب لیڈر عمران خان نے قوم کی رہبری کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا میں ایک لاکھ چالیس ہزار پیغمبر آچکے ہیں تو میری پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا مجھ سے تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر پورے نہیں ہو رہے تھے روحانی لیڈر نے سولہ ہزار کا مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ایک مرتبہ فرمایا جب پاکستان بنا تو اس کی آبادی چالیس کروڑ تھی آج بائیس کروڑ ہے جب ساتھ کھڑے آدمی نے ان کی تصحیح کرنا چاہی کہ اس وقت آبادی چار کروڑ تھی مہاتما نہ مانے کسی بات کو رد کر کے کہا کہ نہیں چالیس کروڑ تھی اور اپنی بات پر ڈٹے رہے کیونکہ وہ جو کچھ کہیں ان کی بات نہ صرف مانی جاتی ہے بلکہ سر آنکھوں پر رکھی جاتی ہے اس لیے ان کے اس طرح کے بے شمار فرمودات کو جمع کر لینا چاہیے۔ اس بد نصیب قوم کو پھر ایسا عظیم لیڈر میسر ہو کہ نہ ہو۔

اسی طرح ایک شام وزارت مذہبی امور کے نمائندے نے مجھے عظیم کمانڈر خیال کرتے ہوئے پوچھا کہ سر آپ کا تعلق سلسلہ چشتیہ سے ہے یا سلسلہ قادریہ سے اس نے سمجھا کہ شاید یہ شخص ان سلسلوں کا شناور ہو گا اس لیے اسے ہمارا کمانڈر بنایا گیا ہے میں کیا جواب دیتا میں نے کہا میں ایک عام سا انسان ہوں میرا سلسلہ اس منبع سے جڑا ہوا ہے جس سے یہ سارے سلسلے اور چشمے پھوٹتے ہیں۔

اب اگلی صبح حضرت نظام الدین اولیاء کے دربار پر حاضری تھی جس کے لیے ہم انڈیا میں آئے ہوئے تھے مجھے وزارت مذہبی امور کے عملے نے بتایا کہ سر صبح ہمارے ساتھ بیس پچیس آدمیوں سے زیادہ بندے وہاں حاضری پر میسر نہیں ہوں گے یہ سارے دلی میں اپنے اپنے امور میں مصروف ہوں گے ہمیں شرمساری ہوتی ہے کہ ہم جب وہاں کی انتظامیہ کو اپنی تعداد بتاتے ہیں لیکن جب دربار پہنچتے ہیں وہاں ہماری حاضری اس کا عشر عشیر نہیں ہوتی میں نے کہا نوٹس لگا دیں کہ صبح اگر کوئی آدمی حاضری کے لیے موجود نہ ہوا تو وہ پھر ہمارے ساتھ واپس نہیں جائے گا اس کے پاسپورٹ ہمارے پاس ہیں اور ہوٹل کی ادائیگی بھی ہم نے ان کی نہیں کرنی نتیجہ یہ ہوا کہ صبح تمام زائرین موجود تھے ایک بندہ بھی غیر حاضر نہیں تھا اور ہم درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کی طرف روانہ ہو گئے ہمایوں کے مقبرے سے لودھی روڈ پر چلتے ہوئے بائیں طرف سڑک مڑتی ہے تو سامنے درگاہ کے دروازے پر نظر پڑتی ہے مختلف گلیوں کا لمبا کوریڈور طے کرنے کے بعد دربار آتا ہے۔

اس راستے پھولوں اور شیرینی کی دکانیں ہیں جنہیں دیکھ کر مجھے یہ تو خوشی ہوئی کہ چلو مسلمان اس طرح بھی اپنے نان و نفقہ کا انتظام کر لیتے ہیں اور سامنے دروازے کی محراب پر فارسی شعر لکھا ہوا ہے۔ ”شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را“ (بادشاہوں سے کچھ عجب نہیں کہ وہ گداؤں کو نواز دیں) جوتیاں اتار کر ہم اندر داخل ہوئے تو ”چشمہ دلکشا“ کے نام سے ایک بڑی باولی ہے کہتے ہیں یہاں بیمار نہاتے ہیں اور شفا یاب ہو جاتے ہیں اس کے پانی کا رنگ تیل جیسا ہے اس میں گندھک کی بو آتی ہے گندھک کا اپنا اثر ہے دعا شامل ہو جائے تو دو آتشہ ہے۔ پہلے ہم نے مزار غالب کے مزار پر حاضری دی مزار کے شمال میں لب سڑک لال محل کی عمارت ہے جہاں مشہور ہے سلطان محمد تغلق نے مشہور عرب سیاح ابن بطوطہ کو ٹھہرایا تھا وہاں سے پہلے امیر خسرو کا مزار آتا ہے امیر خسرو حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید خاص تھے کہتے ہیں اس لیے پروٹوکول کے مطابق نظام الدین اولیاء سے پہلے امیر خسرو کے مزار کی زیارت کرنا ہوتی ہے ان کے مزار کے سرہانے ایک لمبی سنگ مرمر سر لوح موجود ہے جس پر لکھا ہے : میر خسرو، خسرو ملک سخن۔ آن محیط فضل دریائے کمال۔ طوطی شکر مقال بے مثال۔ اس کے بعد خواجہ نظام الدین اولیاء کے دربار میں حاضری دی جہاں دربار کی انتظامیہ نے ہمیں خوش آمدید کہا ہمارے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی شرکا نے جی بھر کر دعائیں مانگیں منتیں مانیں اور تبرک لے کر خوشی خوشی ہوٹل واپس آئے۔

اس حاضری کے بعد پھر مجھے شرکاء دکھائی نہیں دیے تھے اب ہم دو دن آزاد تھے۔ سب سے پہلے ہم نے راج گھاٹ میموریل کا رخ کیا جو مہاتما گاندھی سے منسوب ہے یہ دراصل ابتدا میں پرانی دلی کا تاریخی گھاٹ تھا جو دریائے جمنا کے مغربی کنارے پر واقع ہے یہ ایک وسیع میدان ہے پتھروں سے بنے فٹ پاتھ کے دونوں طرف سر سبز لان ہیں چاروں طرف درختوں کا خوبصورت سلسلہ ہے تھوڑی دور سیاہ سنگ مرمر کا چبوترہ ہے یہ مہاتما گاندھی کی سمادھی ہے جہاں ان کی چتا جلائی گئی تھی یہاں آگ کا شعلہ ہر وقت فروزاں رہتا ہے جہاں مہاتما کی ہتیا کی گئی تھی اس جگہ کو بھی محفوظ کیا گیا تھا ہم وہاں بھی گئے جس وہاں عقیدت مندوں نے پھولوں کے گجرے چڑھانے ہوتے ہیں ساتھ ہی میوزیم تھا جس میں مہاتما کی زندگی کی سیاسی جدوجہد کی تمام تصویریں میوزیم کی اندرونی چاروں دیواروں پر لگائی گئی تھی دیسی یا بدیسی کوئی ایسا رہنما نہیں تھا جن کے ساتھ ان کی تصویریں نہ ہوں وہیں ان کے ہاتھ سے لکھے مکتوبات ان کی سوانح عمریاں موجود تھیں ادھر راج گھاٹ میموریل میں گاندھی جی کی سمادھی کے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر جواہر لال نہرو، راجیو گاندھی، اٹل بہاری، واجپائی اور اندرا گاندھی اور بے شمار نیتاؤں کی سمادھیاں ہیں۔

ہم نے اندرا گاندھی کے زمانے کا وزیر اعظم ہاؤس بھی دیکھا جو اب میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا یہ ہاؤس دو کنال اراضی پر تعمیر کیا گیا تھا ایک کنال پر بلڈنگ اور باقی قطعہ زمین پر دائیں اور عقب میں خالی جگہ تھی اور عقب سے راستہ نکلتا تھا جس پر چل کر اندراگاندھی اسمبلی میں جاتی تھیں اور اسمبلی جاتے ہوئے اسی گھر کے عقب میں ہی ان کی ہتیا کی گئی تھی اس پر سفید دائرہ لگا کر اس جگہ کو محفوظ کیا گیا تھا۔ دنیا کے اتنے بڑے ملک کی سربراہ کی یہ چھوٹی سی رہائش۔

ہمیں پتہ چلا کہ دہلی شہر کے اندر ایک ہرا بھرا جنگل بھی موجود ہے یہ خبر میرے لیے حیران کن تھی۔ گاڑی کا رخ ادھر موڑا راستے میں دیکھا لاہور کی شملہ پہاڑی کی طرح ایک پہاڑی پر مٹکے پیر کا مزار ہے نیچے سے لے کر پہاڑی کے اوپر مزار تک مٹکے ہی مٹکے تھے منت پوری ہونے پر ایک مٹکا پیر صاحب کے دربار کے اردگرد رکھ دیا جاتا ہے مٹکوں کی تعداد سے تو معلوم ہوتا تھا کہ اس دربار سے کافی لوگوں کو خیر مل رہی تھی۔ وہاں سے ہم نے سیدھا جنگل کی راہ لی۔ دہلی شہر جو اپنی آبادی اور ٹریفک کی وجہ سے آلودگی کی آماجگاہ ہے اس کے اندر اتنے بڑے جنگل کا ہونا حیران کن تھا۔

ہم نے سمجھا دو تین ایکڑوں پر مشتمل یہ جنگل ہو گا لیکن ایک وسیع رقبے پر موجود ایسا جنگل ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ مختلف جانوروں اور بے شمار پرندوں کا مسکن پھر حیرانی کی کوئی حد نہ رہی جب یہ معلوم ہوا کہ صرف ایک جنگل نہیں ہے اسی طرح کے کئی جنگل ہیں جو دہلی شہر کے اندر مختلف مقامات پر 400 سے 750 ایکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں جو شہر کی فضا کو مکدر ہونے سے بچاتے ہیں یہاں لوگ واک کرنے جاگنگ کرنے اور چہل قدمی کے لئے آتے ہیں پکنک مناتے ہیں جنگل کے اندر جو سڑک دیکھی وہ بھی ہمارے لیے حیران کن تھی کہ ایک چوڑی سڑک جو نصف پکی تھی واک کے لئے اور نصف کچی جاگنگ کے لئے ویسے تو شہر کے اندر ایسے جنگلات کے بے شمار فائدے ہیں ایک جو فوری فائدہ دکھائی دیا وہ یہ تھا کہ کئی نوجوان جوڑوں کو ریسرچ کرنے کے بعد گھنے درختوں اور جھاڑیوں سے بے خوف نکلتے دیکھا ایسے جنگلات نے نوجوانوں کو نڈر اور جرات مند بنا دیا ہے کیونکہ ایسے جنگلات میں بعض اوقات خطرناک جانور بھی پائے جاتے ہیں لیکن ان کو کوئی خوف نہیں تھا۔

بادشاہی مسجد دیکھی اس کے ساتھ ملحقہ مسلمانوں کا علاقہ دیکھا وہاں چھوٹے چھوٹے ہوٹل ہیں جہاں کھانے کے اوقات دوپہر اور رات کو ہر ہوٹل کے سامنے پچاس ساٹھ یا اس سے زیادہ مسکینوں کو بیٹھے دیکھا اکثر مخیر حضرات آ کر اپنی گنجائش کے مطابق دس بیس لوگوں کی ادائیگی کرتے ہیں اور یہ لوگ کھانا لے کر چلے جاتے ہیں پھر کوئی دوسرا آ کر کچھ مزید لوگوں کی ادائیگی کرتا ہے اس طرح اکثر لوگ کھانا لے کر چلے جاتے ہیں۔

میں نے مختلف ہوٹل والوں سے پوچھا کہ جب آپ ایک بجے ہوٹل بند کرتے ہیں تو سب لوگوں کو کھانا مل جاتا ہے اس نے کہا بعض اوقات کافی لوگ رہ بھی جاتے ہیں دس پندرہ لوگوں کو تو ہم بھی کھانا دے دیتے ہیں بعض اوقات کھانا ختم ہو جاتا ہے یا جب مخیر حضرات نہیں آتے جس کی وجہ سے کافی لوگ رہ جاتے ہیں جو انتظار کر کے آخر کار بھوکے پیاسے رات کو ایک بجے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں جو پیدا ہوتا ہے اس سے رزق کا وعدہ ہے۔

آج آخری رات تھی رات کو دو بجے تک ہم سب کا ہوٹل میں موجود ہونا لازمی تھا رات کو جب چیکنگ کی تو تین آدمی نہ ملے کافی انتظار کیا لیکن ان کے آنے کے کوئی آثار نہیں تھے تو ایک آدمی نے بتایا کہ وہ آج رات کو ”اس بازار میں“ جانے کا پروگرام بنا رہے تھے اب ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ بازار کہاں واقع ہے اور پھر رات کے آخری پہر اجنبی ملک کیا کریں آخر میں نے انڈین پولیس کا ایک انسپکٹر دو سپاہی اور اپنے عملے کے دو آدمی ساتھ لئے اور رات گئے وہاں پہنچ گئے یہ عجیب بازار تھا کہ دو رویہ کشادہ سڑکوں کے دونوں طرف پینٹ اور ہارڈ ویئر کی دکانیں تھی یہ ایک لمبا بازار تھا اس میں سو ڈیڑھ سو دکانیں ہوں گی دکانوں کے نمبر تھے اور تین چار دکانوں کے بعد سیڑھیاں اوپر کو جاتی تھی ان تمام دکانوں کے اوپر وہ بازار تھا جس میں کال گرل اور طوائفیں موجود تھیں اور ہم نے ایک سرے سے دیکھنا شروع کیا جب ہم پہلی منزل پر پہنچے تو ایک لمبا ہال تھا ساتھ میں چھوٹے چھوٹے کمرے تھے وہاں جو منظر دیکھا دل ڈوب سا گیا اس میں دس بارہ سال کی لڑکیوں سے لے کر تیس پینتیس سال تک کی عمر کی خواتین اس طرح بیٹھی تھیں جیسے شہروں میں بیروزگار لیبر کی بڑی تعداد روزی کی تلاش میں ایک امید کے سہارے بیٹھی ہوتی ہے ہم ایک کوٹھے سے اترتے دوسرے پر پہنچتے آخر کار ایک ہال میں داخل ہوئے تو وہی ہال، کمروں اور مکینوں کا ایک جیسا منظر تھا ہال کے آخر میں ایک موسیقار گانے کی دھن پیش کر رہے تھے ہمارے دو مطلوبہ زائرین دختر رز کی گرفت میں بیٹھے جھوم رہے تھے اور ڈانسر لڑکی ساتھ بیٹھی تھی اس کی جگہ ہمارے ایک معزز زائر شراب کے نشے میں دھت ڈانسر کی جگہ خود رقص کر رہے تھے اور رقاصہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی معزز زائر سر پر پھولوں کا گلدستہ لیے اپنے رقص میں دنیا و مافیہا سے بے خبر تھا۔ مجھے اس وقت وہ ایک صوفی دکھائی دے رہا تھا اور رقص کے ہر چکر میں وہ سلوک کی تمام منزلیں طے کر تا دکھائی دے رہا تھا اس کے انگ انگ سے تمام بہروپ انسانی خواہشات حیوانی جذبے نارسا چاہتیں اور خام محبتوں کی محرومیاں جھلمل جھلمل کرتی دکھائی دے رہی تھیں اور رقص جاری تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments