فٹبال ورلڈ کپ اور قطری شیخ کے فارم ہاؤس میں ایک شام: ’ہم چاہتے ہیں دنیا قطر کے بارے میں مزید جانے‘


فٹ بال ورلڈ کپ
’یہ فٹ بال، دوستوں اور اچھے کھانے کی رات ہے۔ ہم سیاست کو اس سے دور رکھیں گے۔‘

بو سالم نے قطر کے دارالحکومت دوحہ سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ام سلال میں اپنے خاندان کے فارم ہاؤس پر میرا استقبال کیا تو یہ ان کے پہلے الفاظ تھے۔

میرا ان سے تعارف ایک قریبی دوست کے ذریعے ہوا جس کے بعد انھوں نے مجھے پرتگال بمقابلہ گھانا اور سربیا بمقابلہ برازیل کے میچ دیکھنے کی دعوت دی۔

اس فارم ہاؤس پر قطر کے مقامی شہریوں کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کے لوگ بھی موجود تھے۔

یہ جمعرات کا دن تھا۔ یہاں جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے اور لوگ عموماً جمعرات کی رات کو آرام کرتے ہیں۔ آج کل ورلڈ کپ کی وجہ سے شام میں لوگ میچ دیکھنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ لگاتار دو شکستوں کے باوجود قطر کی فٹبال ورلڈ کپ میں امیدیں باقی ہیں۔

دارالحکومت دوحہ میں فلک بوس عمارتیں، فٹ بال ورلڈ کپ کے وسیع میدان اور مستقبل کا انفراسٹرکچر تو میں دیکھ چکا تھا۔ شہر سے دور، اب یہ میرے لیے مقامی لوگوں اور ان کی ثقافت کو سمجھنے کا ایک بہترین موقع تھا۔

قطر میں ورلڈ کپ کی کوریج کے دوران مقامی لوگوں سے بات کرنا آسان نہیں رہا۔ یہ ایک متنازعہ ورلڈ کپ ہے اور بہت سے لوگ پریس سے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

لیکن میں ایک ایسے ملک کے بارے میں مزید جاننے کے لیے متجسس تھا جو گزشتہ ایک دہائی سے ورلڈ کپ کے تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔

قطر

’کیا تم کیوبا سے ہو، سگار لائے ہو‘

فارم ہاؤس میں ایک بڑا خیمہ بھی لگا ہوا تھا جس میں 30 سے زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ بڑے بڑے ٹی وی سیٹ نصب تھے اور درجنوں لوگ آگ کے گرد بیٹھے تھے۔

کئی ذائقوں کے شیشوں سے دھواں اُڑ رہا تھا۔

جب لوگ مجھے دیکھتے تو عربی اور انگریزی میں سلام کہتے ہیں لیکن جیسے ہی لوگوں کو پتہ چلتا کہ میرا تعلق کیوبا سے ہے اور میرے پاس سگار نہیں، تو ایک مذاق شروع ہو جاتا ہے۔

قطر میں ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت گزارنے کے بعد، مجھے احساس ہوا ہے کہ سگار یہاں دوست بنانے کا ایک آسان ترین طریقہ ہے۔ لوگ فیڈل کاسترو کو بھی پہچانتے ہیں۔

اس فارم میں ایک باغ بھی ہے جس کے ایک کونے میں بکریاں اور جانور پالے جاتے ہیں۔
ہم ایک بڑی شاہراہ سے گزرنے کے بعد یہاں تک پہنچے۔

یہاں بنی جائیدادیں اونچی دیواروں کے پیچھے چھپی ہیں۔ ان میں جھانکنا آسان نہیں لیکن یہاں کے کئی دروازے کھلے رہتے ہیں۔

قطر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اتنا محفوظ ہے کہ لوگ گھروں کے دروازے بند نہیں کرتے۔ یہ بات ایک مفروضہ لگتی تھی لیکن یہاں پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ سچ ہے۔

قطر

قطر کے امیر کا احترام

یہ ایک بڑا فارم ہاؤس ہے جو پتھروں سے بنا ہے۔

یہ مکمل طور پر ایئرکنڈیشنڈ جگہ ہے۔ قطر میں موسم گرما میں جب درجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر جاتا ہے تو لوگ یہاں اکھٹے ہوتے ہیں۔

بدو طرز کے اس جدید کیمپ میں رات کے وقت باہر کھانا ایک پرتعیش آسائش ہے جو صرف سردیوں کی راتوں میں ممکن ہے جب درجہ حرارت 20 ڈگری تک ہو اور حالات بہت آرام دہ ہوں۔

بو سالم نے مجھے کچھ چیزیں دکھائیں جن میں قطر کے امیر کی تصویر بھی ہے۔
میں نے پوچھا کہ جس طرح فیڈل کاسترو کی تصویر کیوبا میں ہر جگہ ہے، اسی طرح قطر میں ہر جگہ امیر کی تصویر ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

انھوں نے جواب دیا کہ ’محبت۔۔۔ امیر ہمیں مفت تعلیم اور صحت کی خدمات فراہم کرتا ہے۔‘

بو سالم

بو سالم

قطر میں بہت سے لوگوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ان کے ملک نے کس طرح مختصر عرصے میں بہت ترقی کی ہے جس کے پیچھے گیس اور تیل سے حاصل ہونے والا پیسہ ہے۔

بو سالم ترقی کے اس سفر کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ’وہ جگہ جہاں میں پلا بڑھا، اب ناقابل شناخت ہے۔ دوحہ میں بھی ایسی گلیاں ہیں جہاں جا کر لگتا ہے کہ سب کچھ بدل گیا ہے۔‘

باتوں باتوں میں ہی بو سالم نے چولہے پر 50 لیٹر کی ایک بڑا کڑاہی کھانا پکانے کے لیے رکھ دی۔ وہ روایتی عربی پکوان کبسہ بنا رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس میں مرغی یا کوئی اور گوشت شامل کیا جا سکتا ہے لیکن آج خاص مہمانوں کی وجہ سے بکرے کا گوشت استعمال کر رہے ہیں۔‘

قطر

تھوڑی دیر میں مزید مہمان آ گئے۔ وہاں پہلے سے ہی 25 لوگ موجود تھے لیکن بو سالم خوش ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں لوگوں کا استقبال کرنا پسند ہے۔‘

میں نے دیکھا کہ یہاں موجود تمام مہمان مرد تھے۔ میں نے بو سالم سے پوچھا کہ ’کیا عورتیں بھی آئیں گی؟‘

فیس بک پر تصاویر دکھاتے ہوئے بو سالم کا کہنا تھا کہ ’ہاں، کل ایک غیر ملکی خاتون آئی تھی، اس کی سالگرہ تھی۔ ہم نے اسے مبارکباد دینے والا گانا بھی گایا۔ وہ بہت خوش تھی۔‘

اب میچ شروع ہو چکا تھا۔

پرتگال اور گھانا کے میچ کے پہلے ہالف میں کوئی گول نہیں ہو سکا تاہم دوسرے ہالف کے شروع میں کرسچیانو رونالڈو نے پرتگال کی جانب سے پینلٹی پر گول کیا اور میچ دلچسپ ہو گیا۔

جب رونالڈو نے اپنے مخصوص پوز میں ‘Siu’ کہہ کر جشن منایا تو یہاں بھی بہت سے لوگ اچھل پڑے جن میں ایک پرتگالی مہمان بھی شامل تھا۔

یہ ورلڈ کپ قطر کے لوگوں کے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔

ایک شخص کا کہنا تھا کہ ’بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ قطر ناکام ہو جس سے مجھے غصہ آتا ہے۔ وہ انفراسٹرکچر اور سٹیڈیم میں سرمایہ کاری پر تنقید کرتے ہیں، لیکن یہ انگلش پریمیئر لیگ کی طرح ہے۔‘

اچانک میرا نام پکارا گیا اور مجھے اس جگہ بلایا گیا جہاں کھانا تیار ہو رہا تھا۔ وہ سب نہیں چاہتے تھے کہ اس شام کا کوئی اہم عمل میری نظر اور کیمرے کی آنکھ سے دور رہے۔

ایک شخص نے مجھے سمجھاتے ہوئے بتایا کہ ’ہم گوشت کو اس وقت تک پکاتے ہیں جب تک کہ وہ نرم نہ ہو جائے۔‘
میں نے یہ سب کچھ بہت غور سے سنا کیونکہ میں لندن واپس جا کر یہ نسخہ ضرور آزمانا چاہوں گا۔

کچھ ہی دیر میں ایک قطری نوجوان برازیل کی جرسی پہنے وہاں پہنچ گیا۔
اس نے بتایا کہ ’ہم 12 سال سے اس موقعے کا انتظار کر رہے ہیں۔ میں بہت خوش ہوں لیکن اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ قطر نے اتنے بڑے پیمانے پر کبھی کسی تقریب کی میزبانی نہیں کی، دباؤ بھی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’عربی میں ایک کہاوت ہے جس کا ترجمہ ہے کہ ہر ملک کا اپنا قبرستان ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم نے حالیہ برسوں میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس پر بھی بات کی جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

قطر: ماہی گیروں کی چھوٹی سی بستی دنیا کی امیر ریاست کیسے بنی؟

’یہ صرف قطر کا نہیں، تمام عربوں اور مسلمانوں کا ورلڈ کپ ہے‘

قطر فٹبال ورلڈ کپ: آمرانہ حکومتیں اور فیفا کی متنازع تاریخ

قطر

عربی کافی اور ثقافت

پرتگال نے گھانا کو سنسنی خیز مقابلے میں 3-2 سے شکست دی۔

جب برازیل کا میچ شروع ہوا ہے تو ہم عربی کافی اور شیشہ پینا شروع کر دیتے ہیں۔
فلسطینی نژاد قطری شہری نبیل نے مشورہ دیا کہ ’آہستہ پیو، اگر آپ اس کے عادی نہیں تو آپ گر سکتے ہیں۔‘

اس کافی کی رنگت زرد سی ہے اور یہ مصالحے سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہاں کی کافی مغرب کی کافی کی طرح نہیں۔

نبیل بتاتے ہیں کہ ’کافی کی پھلیاں زیادہ بھنی ہوئی نہیں ہوتیں، اسی لیے یہ رنگ ایسا ہے۔ ہو سکے تو اسے میٹھی چیز کے ساتھ پی لیں کیونکہ یہ بہت کڑوی ہوتی ہے۔‘

میں اس گفتگو کے دوران عربی ثقافت میں کھانے کے انداز کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
نبیل بتاتے ہیں کہ ’اپنے سیدھے ہاتھ سے کھائیں۔ جو آپ کے سامنے ہے اسے اٹھائیں۔‘

تاہم وہ مجھے یقین دلاتے ہیں کہ میں جو بھی کھاؤں، کوئی میرے بارے میں کچھ نہیں سوچے گا۔
چند قطری شہریوں نے روایتی قطری سفید لباس پہن رکھا تھا جو گھٹنوں تک آتا ہے اور سر پر سفید پگڑی پہن رکھی تھی۔ کچھ ٹی شرٹس اور ٹراؤزر میں ہیں۔

ایک قطری شخص ہاتھ میں تسبیح لیے کہتا ہے ’آج میں نے سر پر سکارف پہنا ہے کیونکہ میں ایک رسمی ملاقات سے آرہا ہوں۔‘

گفتگو کا رخ کبھی مذہب کی طرف ہو جاتا ہے اور پھر مشرق و مغرب کی ثقافتوں کے درمیان کشمکش پر بات ہوتی ہے۔

قطر

ایک شخص نے کہا کہ ’مغربی لوگ بعض اوقات اسلام کو نہیں سمجھتے۔ ہمارے لیے یہ ایک طرز زندگی ہے کہ دوسروں سے کیسے برتاؤ کرنا ہے، یہاں تک کہ سڑک پر کیسے چلنا ہے۔ اسلام پرامن ہے۔‘

نبیل بھی اس گفتگو میں شامل ہوتا ہے اور ان روایات اور قواعد کا دفاع کرتا ہے جنھیں مغربی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو وہ انسانی حقوق کے خلاف نظر آتے ہیں۔

وہ تحمل سے بھری آواز میں کہتا ہے کہ ’میں دوسروں کی روایات کا احترام کرتا ہوں۔ دوسروں کو بھی ہماری عزت کرنی چاہیے۔ میڈیا قطر کے بارے میں پوری سچائی نہیں دکھا رہا۔‘

وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مجھے قطر میں کیا فرق محسوس ہوتا ہے۔ میں ان کی توہین کیے بغیر کہتا ہوں، ’خواتین کو اتنی بڑی تعداد میں چھپے ہوئے دیکھنا۔‘

تاہم، وہ میرے نقطہ نظر کا احترام کرتے ہیں۔
’ہم یہاں ملنے، سیکھنے، اور کچھ بحث کرنے کے لیے آئے ہیں۔‘

سربیا اور برازیل کے میچ میں وقفہ ہوا تو عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔
ہم کیمپ میں ننگے پاؤں بیٹھ گئے۔ پہلے اس قبیلے کے لوگ صحرا میں اس طرح اکٹھے کھانا کھاتے اور آرام کرتے تھے۔

قطر

بہت سے لوگ فرش پر بیٹھ کر ہاتھ سے کھا رہے ہیں۔ میرے جیسے لوگ چمچوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ گوشت کے ساتھ چاول بھی پیش کیے جا رہے ہیں اور پیاز کا سلاد بھی۔

پانی اور سوڈا تو ہے لیکن شراب کا ایک قطرہ نہیں۔

بو سالم نے بہترین کھانا تیار کیا۔ مہمان کہتے ہیں کہ ’جب بھی وہ کھانا پکاتا ہے، اس کا ذائقہ بہترین ہوتا ہے۔‘

قطر

میرے سامنے بیٹھا ایک نوجوان بتاتا ہے کہ اس نے مجھے بی بی سی منڈو کی ایک ویڈیو میں دیکھا ہے۔

کسی نے پوچھا، آپ کی ویڈیوز کتنے لوگوں تک پہنچتی ہیں؟
میں نے جواب دیا کہ ’یہ بہت سی چیزوں پر منحصر ہے۔ دماغ پر بھنگ کے اثرات سے متعلق ویڈیو کو لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔‘

ادھر برازیلین سٹرائیکر رچرلسن نے گول کر دیا اور باہر ہنگامہ برپا ہو گیا۔
برازیل کے سب سے زیادہ حامی قطر میں ہیں۔ اگرچہ ارجنٹائن کے میسی کے حامیوں کی تعداد بھی کم نہیں۔

قطر

عبداللہ اور حسین نے اس بات کو یقینی بنایا کہ میں نے قطر کی مہمان نوازی کو محسوس کیا

’ہم چاہتے ہیں کہ دنیا اس قطر کو دیکھے‘

’ہم چاہتے ہیں کہ دنیا قطر کے بارے میں مزید جانے۔ ہم عام لوگ ہیں جو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

چار گھنٹے کے دوستانہ اور خوش گوار ماحول کے بعد ہمارے میزبان کا یہ آخری پیغام تھا لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ دوبارہ آنا چاہتے ہیں تو آپ کا استقبال ہے، لیکن اس بار سگار لے کر آئیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27728 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments