گجرات کا وہ گاؤں جہاں آزادی کے 75 سال بعد بھی بجلی نہیں آئی


فائل فوٹو
یہ گاؤں انڈیا پاک سرحد سے محض تیس کلو میٹر دور
اگر کسی کی زندگی سب سے زیادہ خراب ہے تو وہ ہماری ہے، 45 سال کی عمر میں میں نے آج تک گاؤں میں بجلی نہیں دیکھی‘۔ یہ کہنا ہے ماوا بھائی رباری کا۔ ماوا بھائی اور ان کے جیسے کئی لوگوں کے ساتھ بات چیت کے دوران ایک خیال بار بار میرے ذہن میں آتا رہا کہ ’چراغ تلے اندھیرا‘ والی کہاوت اگر کہیں درست بیٹھتی ہے تو وہ گجرات کا راگھنیساڈا گاؤں ہے۔

یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک اپنے گاؤں میں بجلی نہیں دیکھی ہے اور انکے خیال میں یہ بہت ہی نچلے درجے کا گاؤں ہے۔

حالانکہ انڈیا پاکستان سرحد سے محض تیس کلو میٹر دور اس گاؤں میں 1400 ہیکٹر سے زیادہ زمین پر 700 میگا واٹ سے زیادہ کی صلاحیت والا سولر پارک بنایا گیا ہے اور گاؤں سے کئی کلو میٹر دور تک ہزاروں سولر پینل بچھائے گئے ہیں۔ جب ہم گاؤں پہنچے تو پہلی نظر میں یہاں کی زمین اور پورے ماحول پر ریگستان کا اثر صاف نظر آتا ہے۔

لوگوں سے بات کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں پر بچھائے گئے سولر پینل سے روشنی بھر بجلی بھلے ہی مل جاتی ہے لیکن یہاں پر مسئلہ صرف بجلی کا ہی نہیں اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں۔

گاؤں

اس گاؤں میں لوگ کھیتوں کے بیچ رہتے ہیں

گاؤں میں ایک بڑا مسئلہ روزگار کی کمی ہے

اتنے بڑے پراجیکٹس کے آنے سے لوگوں کو امید تھی کہ انہیں روزگار ملے گا، لیکن گاؤں کے کچھ لوگوں کو وہاں صرف یومیہ اجرت کا کام اور چھوٹی نوکریاں مل رہی ہیں۔

گاؤں کے لوگ بتاتے ہیں کہ یہاں ایسے بہت کم لوگ ہیں جنہوں نے دسویں یا بارہویں تک تعلیم مکمل کی ہو گی۔ زیادہ تر لوگ زراعت یا کھیتوں میں مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ من ریگا سکیم کے ذریعے آمدنی کا کچھ ذریعہ دستیاب ہے۔ ’جب کوئی سنتا ہی نہیں تو ووٹ کیوں دیں‘

گاؤں کے زمینی مسائل پر ہونے والی گفتگو میں لوگوں میں انتخابات سے بیزاری نظر آئی۔ ہم نے ایک نوجوان امرت رباری سے پوچھا تو اس کی ناراضگی فوراً کھل کر سامنے آگئی۔

ان کا کہنا تھا ’گاؤں میں کچھ نہیں ہے، بجلی نہیں ہے، پانی نہیں ہے، ہمارے بچوں کی تعلیم کا حال برا ہے، ہم ووٹ نہیں دیں گے، جب کوئی ہماری بات نہیں سنتا تو ووٹ دینے کا کیا فائدہ‘۔

گاوں

امرباڑی جیسے گاؤں میں ایک ہزار سے زیادہ ووٹر ہیں

امرباڑی جیسے گاؤں میں ایک ہزار سے زیادہ ووٹر ہیں اور کم و بیش ہر کسی کی آنکھوں میں ایسی ہی مایوسی ہے۔ گاؤں کی زراعت کا انحصار بارش پر ہے۔ سونا بھائی ہیما بھائی کہتے ہیں کہ جس سال بارش ہوتی ہے، وہ اپنے کھیت میں باجرہ اور زیرہ کاشت کرتے ہیں، ورنہ انھیں آبپاشی کے لیے نرمدا نہر کے پانی کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ان کے خشک اور ناہموار کھیت کے بیچوں بیچ ایک درخت کے نیچے ایک گائے بندھی ہوئی تھی، جس کے قریب ہی ایک چھوٹا سا سولر پینل لگا ہوا تھا۔ کھیت کے کونے میں ان کا گھر تھا جس میں ٹاٹ اور گھاس باندھ کر باورچی خانہ بنایا گیا تھا۔

درمیان میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں سولر پینل کی بیٹری اور دو بلب تھے۔ اس کمرے میں صرف ایک دروازہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی برآمدے کی جگہ تھی، جہاں کچھ چارپائیاں رکھی ہوئی تھیں۔

سونا بھائی کی بیوی کیشوبین کا کہنا ہے کہ جب سے انھوں نے شادی کی ہے تب سے انھوں نے یہی حالت دیکھی ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مجھے اس گاؤں میں اس طرح رہنا پڑے گا تو میں یہاں شادی ہی نہ کرتی‘۔

ان کے دو بیٹے ہیں۔ گاؤں کے دوسرے لوگوں کی طرح یہ دونوں بھی مزدوری کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا دھوپ، ہماری زندگی اسی طرح گزرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اندھیرا ہونے کے بعد زندگی رک گئی ہے۔ شام ہوتے ہی کھانا کھاتے ہیں اور یونہی چارپائی پر لیٹ جاتے ہیں۔ اورکر بھی کیا سکتے ہیں؟ نہ بچے پڑھ سکتے ہیں نہ ٹی وی ہے اور نہ ہی رات کی تاریکی میں کچھ کرنے کی گنجائش ہے۔

ماوا بھائی

گاؤں کے لوگ سولر پینل سے خوش نہیں ہیں

گاؤں والے سولر پینل سے خوش کیوں نہیں ہیں؟

وہاں سے کچھ فاصلے پر گاؤں کی رابڑی برادری کے لوگوں کے گھر ہیں۔ ان لوگوں کا بنیادی پیشہ مویشی پالنا ہے۔ ماوا بھائی رباری اپنے گھر میں ایک ہاتھ سے گھاس جمع کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چند سال قبل کام کے دوران مشین سے ان کا ایک ہاتھ کٹ گیا تھا۔

گفتگو کے دوران انھوں نے ہمیں گھر اور پانی کے ٹیکس کی رسیدیں دکھائیں۔ وہ کہنے لگے ’میں نے آج تک اپنے گاؤں میں 45 سالوں میں بجلی نہیں دیکھی۔ ہم نے تو جیسے تیسے زندگی گزار لی اب نئی نسل کے لیے زیادہ مشکل وقت ہے‘۔

ماوا بھائی کے دو بیٹے ہیں اور دونوں کے پاس موبائل فون ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’چھ سات سال پہلے حکومت کی جانب سے ملنے والی سولر پینل کی بیٹری بدلوائی تھی جس سے دن میں موبائل فون چارج کر لیتے ہیں تاکہ رات میں کھانا بنانے کے لیے ایک بلب جتنی بجلی مل سکے‘۔

دوسری جانب اگربین رباری کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں حالت مزید خراب ہو جاتی ہے، سولر پینل پر پنکھا تک کام نہیں کرتا، سولر سے کچھ دیر کے لیے روشنی آتی ہے، پہلے ہم رات کو تیل کا لیمپ جلاتے تھے۔ بتائے کتنی دیر جلتا ہے تیل کا دیا ، بس پھر اندھیرے میں رہتے ہیں۔

وہیں گاؤں کے سرپنچ رتنا ٹھاکر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی عمر 55 سال ہے اور انھوں نے مٹی کے تیل کے چراغ جلا کر اپنی زندگی گزاری ہے۔

رتنا بھائی ٹھاکر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’2017 سے پہلے گاؤں میں ایک سرکاری سکیم کے تحت سولر پینل دیے گئے تھے، حالانکہ سبھی لوگ ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکے تھے۔ اتنے سالوں کے بعد کچھ لوگ ان سولر پینلز کی بیٹریاں بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں‘۔

رات کے وقت اس بیٹری سے کچھ وقت کے لیے ایک یا دو بلب کا انتظام مشکل سے ہو سکتا ہے۔

رتنا بھائی کے مطابق، وہ گاؤں کے مسائل کو لے کر کئی بار افسران کے سامنے اپنی بات رکھ چکے ہیں۔

اگر بین

گاوں کی خواتین بھی اندھیرے سے پریشان ہیں

لوگوں کے گھروں میں بجلی کیوں نہیں؟

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گاؤں کا رقبہ بڑا ہے اور لوگ کھیتوں میں رہتے ہیں اس لیے انھیں بجلی فراہم نہیں کی جاسکی۔

قابل ذکر ہے کہ راگھنیسڈا میں لوگوں کے پاس آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ جیسے سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہے۔ دوسری جانب مقامی حکام نے بتایا کہ گاؤں کے سکول اور گرام پنچایت میں بجلی ہے۔

گاؤں میں بی ایس ایف کیمپ میں بھی بجلی ہے، لیکن گاؤں کے لوگ روایتی انداز میں کھیتوں میں رہتے ہیں۔ حکومت کے مطابق، یہ گاؤں کا وہ حصہ نہیں ہے جسے حکومت رہنے کے لیے فراہم کرتی ہے۔ حکومت اسے تجاوزات سمجھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں آج تک بجلی نہیں پہنچی۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ 2017 میں گاؤں والوں کو آباد ہونے کے لیے زمین کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن گاؤں والے اپنی روایتی رہائش کو نہیں چھوڑنا چاہتے۔

جب ہم نے اس بارے میں ضلع بناسکانٹھا کے کلکٹر سے بات کی تو انھوں نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔ راگھنیساڈا میں لگائے جانے والے سولر پروجیکٹ کے بارے میں بھی لوگوں کے خدشات ہیں۔

گاؤں میں ایک سرکاری پرائمری سکول ہے۔ یہاں مڈ ڈے میل دستیاب ہے اور بجلی کا بھی انتظام ہے۔ سکول کی ٹیچر اوشابین کا کہنا ہے کہ گاؤں کے زیادہ تر لوگ یا تو مزدور کے طور پر کام پر جاتے ہیں یا پانی جیسی بنیادی ضروریات کی جدوجہد میں ان کے لیے اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب لوگوں کا کہنا ہے کہ گھر میں کھانے اور پانی کا انتظام کرو یا پہلے بچوں کو پڑھاؤ۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اگربین نے کہا کہ اگر گاؤں میں بجلی اور پانی ہوتا تو لوگ باہر مزدوری کرنے کیوں جاتے۔

 مودی حکومت کے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے فارمولے میں اس دور افتادہ گاؤں کے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔

ڈھینگا رباری کہتے ہیں کہ ’مودی جی کہتے ہیں کہ سارے گاؤں میں بجلی آگئی ہے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے گاؤں میں بجلی اور پانی بھیجیں، گاؤں میں سولر پراجیکٹ آیا ہے، لیکن بجلی نہیں ہے۔لوگ خوفزدہ ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد کی طرح کہیں ان کے بچوں کا مستقبل بھی اندھیروں میں ڈوب جائے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27625 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments