کشمیر: باغ اور راولاکوٹ کی مئیر شپ کے لئے پی ٹی آئی، نون لیگ اور پی پی پی میں کانٹے کا مقابلہ
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد آج 3 دسمبر بروز ہفتہ کو ہو رہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں ریاست کے پونچھ ڈویژن میں ووٹنگ ہو گی۔
پونچھ ڈویژن تاریخی اعتبار سے مہاراجہ کی اس پرانی ریاست کا حصہ ہے جس کا خاتمہ 1947 میں ہوا تھا۔ پونچھ کا بیشتر حصہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں ہے۔ اس کا ہیڈکوارٹر شہر پونچھ بھی بھارتی کنٹرول کشمیر میں ہے۔ ڈوگرہ راج کے خلاف جموں و کشمیر کے لوگوں کی بغاوت کا مرکز بھی پونچھ ہی رہا ہے۔ پاکستان کے حصے جموں و کشمیر کا جو ٹکڑا آیا، اس میں پونچھ کے باسیوں کی مسلح جد و جہد سب سے نمایاں تھی۔ برطانوی دور میں ریاست کے اس حصے کے شہریوں کو ’مارشل ریس‘ کہا جاتا تھا۔ یعنی تاج برطانیہ اس علاقے سے برٹش انڈین آرمی کے لئے بھرتیاں کرنا پسند کرتا تھا۔ اسی روایت کو ہندوستانی اور پاکستانی فوج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آپ پونچھ گھومیے، چپے چپے پر فوجی گھرانے ملیں گے۔
ریاست کے پہلے صدر سردار ابراہیم خان، سابق وزیراعظم و مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان، سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان، سابق صدر سردار یعقوب خان، موجودہ وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کا تعلق پونچھ ڈویژن سے ہی ہے۔
پونچھ ڈویژن 4 اضلاع، 14 تحصیلوں، 88 یونین کونسلز اور 786 وارڈز پر مشتمل ہے۔ پونچھ ڈویژن کے دو بڑے شہر راولاکوٹ اور باغ ہیں۔ دونوں کا شمار پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر کے 5 بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ان دونوں شہروں کی میونسپل کارپوریشنز بنائی جا رہی ہیں۔ باغ اور راولاکوٹ کے علاوہ دارالحکومت مظفرآباد، میرپور اور کوٹلی 3 ایسے بڑے شہر ہیں جن کی میونسپل کارپوریشنز بنائی جا رہی ہیں۔ ماضی میں بلدیاتی ایکٹ 1990 میں میرپور اور مظفرآباد 2 ہی میونسپل کارپوریشنز ہوا کرتی تھیں مگر حالیہ بلدیاتی ایکٹ میں یہ تعداد 5 کر دی گئی۔ یوں کوٹلی، باغ اور راولاکوٹ کو بھی بڑے شہروں کا درجہ مل گیا۔
پاکستان کے حصے میں آنے والے پونچھ ڈویژن میں 4 اضلاع ہیں۔ ضلع پونچھ، ضلع باغ، ضلع سدھنوتی اور ضلع حویلی۔
ضلع پونچھ 4 تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ راولاکوٹ، تھوراڑ، عباسپور اور ہجیرہ۔
تحصیل راولاکوٹ جو کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ یہ نا صرف ضلع پونچھ بلکہ پونچھ ڈویژن کا بھی ہیڈکوارٹر ہے۔ اس کی کل 11 یونین کونسلز ہیں جن میں رہاڑہ، ہورنہ میرہ، بنگوئیں، جنڈالہ / تمروٹہ، پانیولہ، سنگولہ، پاچھیوٹ، جنڈالی، بنجوسہ، پکھت اور علی سوجل ہیں۔ بلدیاتی ایکٹ کے تحت راولاکوٹ شہر کا میونسپل کارپوریشن بنایا جائے گا۔ میونسپل کارپوریشن راولاکوٹ کا ایک مئیر ہو گا۔
ضلع پونچھ کی دوسری تحصیل تھوراڑ ہے۔ تھوراڑ کی صرف 2 یونین کونسلز ہیں۔ ایک تھوراڑ اور دوسری ٹائیں۔
پونچھ کی تیسری تحصیل ہجیرہ ہے۔ ہجیرہ کی 12 یونین کونسلز ہیں۔ کھتیاڑہ، پھگواٹی، بھانتینی، سیراڑی، کیری کوٹ، اکھوڑبن، رکڑ، سہر ککوٹہ، گھمیر، بٹل منڈھول، سہڑھ اور تاہی۔ ہجیرہ کی ایک میونسپل کمیٹی بھی ہے۔
پونچھ ضلع کی چوتھی تحصیل عباسپور ہے۔ عباسپور کی 4 یونین کونسلز ہیں۔ چھاترہ، ٹینگڑاں، کھلی درمن، چفاڑ۔
ضلع پونچھ کی 4 تحصیلوں کی کل یونین کونسلز کی تعداد 29 ہے۔ یوں پونچھ سے 29 ضلع کونسلرز کا انتخاب ہونا ہے۔ جبکہ وارڈ ممبران کی تعداد 291 ہے۔
پونچھ ڈویژن کا دوسرا بڑا ضلع باغ ہے۔ باغ بھی پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے ان 5 بڑے شہروں میں شامل ہے جن کی میونسپل کارپوریشن ہو گی۔ باغ کی 3 تحصیلیں ہیں۔ باغ، دھیرکوٹ اور ہاڑی گہل۔ تحصیل باغ کی 16 یونین کونسلز ہیں۔ ان میں ناڑ شیر علی خان، سوانج ڈھلی، سیری، دھڑہ ساہلیاں، سمنی کوٹی تغلو، چھتر نمبر 2، اسلام نگر، باغ ایوب آباد، خواجہ رتنوئی، بیرپانی، چیڑہان ریڑھ بن، تھب، پنیالی بنی پساری، جگلڑی، ٹوپی، نڑیولہ شامل ہیں۔ بلدیاتی ایکٹ جموں و کشمیر کے تحت باغ شہر کے لئے ایک میونسپل کارپوریشن ہو گی جس کا ایک مئیر ہو گا۔
باغ کی دوسری تحصیل دھیرکوٹ 10 یونین کونسلز پر مشتمل ہے۔ چوڑ، ملوٹ، رنگلہ، کوٹلی رینگولی، چمیاٹی، ہل سرنگ، ساہلیاں، سیسر کلس، مکھیالہ اور چڑالہ۔ دھیرکوٹ بازار کے لئے ٹاؤن کمیٹی ہو گی جس کا چیئرمین ہو گا۔
ضلع باغ کی تیسری تحصیل ہاڑی گہل ہے۔ یہ تحصیل 2 یونین کونسلز کفل گڑھ اور راولی کوٹھیاں پر مشتمل ہے۔ یہ وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کا انتخابی حلقہ ہے۔
مجموعی طور پر ضلع باغ کی 28 یونین کونسلز ہیں جن سے 28 ضلع کونسلر منتخب ہوں گے۔ جبکہ ضلع باغ کی 225 مقامی وارڈز سے 225 ممبران وارڈز منتخب ہوں گے۔
پونچھ ڈویژن کا تیسرا ضلع حویلی ہے جو کہ ماضی قریب میں باغ کا ہی حصہ تھا۔ حویلی 3 تحصیلوں حویلی، خورشید آباد اور ممتاز آباد پر مشتمل ہے۔ تحصیل حویلی 6 یونین کونسلز کلالی، بھیڈی، بساہاں شریف، چھانجل، کیرنی مندھار اور دیگوار پر مشتمل ہے۔ خورشید آباد کی 3 یونین کونسلز ہیں۔ کالامولہ، خورشید آباد اور ہلاں۔ جبکہ تیسری حویلی کی تیسری تحصیل ممتاز آباد بھی 3 یونین کونسلز پر مشتمل ہے جو کہ سانگل، چکیاس اور بدھال ہیں۔ مجموعی طور پر ضلع حویلی کی 12 یونین کونسلز اور 100 وارڈز ہیں۔
پونچھ ڈویژن کا چوتھا ضلع سدھنوتی ہے۔ سدھنوتی کی آگے 4 تحصیلیں ہیں۔ پلندری، منگ، تراڑ کھل اور بلوچ۔ تحصیل پلندری کی 8 یونین کونسلز ہیں جو کہ گوارا شمالی، گوارا جنوبی، جھنڈا بگلہ، آزاد پتن، افضل آباد، بارل، پینتھل اور سہر نالیاں ہیں۔ پلندری شہر ضلع سدھنوتی کا مرکز ہے۔ اس کی میونسپل کمیٹی بھی ہے۔ سندھنوتی کی دوسری تحصیل منگ ہے۔ منگ 2 یونین کونسلز منگ اور پتن شیر خان پر مشتمل ہے۔ تیسری تحصیل تراڑ کھل ہے۔ جس کی آگے 3 یونین کونسلز پپے ناڑ، نیریاں اور منشاء آباد ہیں۔ سدھنوتی کی چوتھی تحصیل بلوچ 6 یونین کونسلز پر مشتمل ہے۔ ان میں کہالہ، دہمن پکھو ناڑ، چوکیاں، بساڑی، ڈھک گلہ کنٹ اور ہمروٹہ شامل ہیں۔ بلوچ ٹاؤن کمیٹی پر مشتمل ہے۔ مجموعی طور پر سدھنوتی 19 یونین کونسلز اور 170 وارڈز پر مشتمل ہے۔
عام انتخابات 2021 میں پونچھ ڈویژن سے بیشتر نشستیں حکمران جماعت تحریک انصاف جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور مسلم کانفرنس بھی یہاں خاطر خواہ ووٹ بینک رکھتی ہیں۔ ان تنظیموں کا ڈھانچہ بھی خاصہ مضبوط ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں یہاں کے باسی جماعتی وابستگی سے اوپر ہو کر علاقائی مفاد کے لئے ووٹ ڈالنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ جس کی جھلک مظفرآباد ڈویژن میں بھی نظر آئی۔ پونچھ ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کا سب سے تگڑا مقابلہ باغ اور راولاکوٹ شہروں کے میونسپل کارپوریشن پر ہو گا۔
یعنی مئیر باغ اور مئیر راولاکوٹ کے لئے سیاسی جماعتوں میں مقابلہ ہے۔ اس سے پہلے دارالحکومت مظفرآباد شہر کی میونسپل کارپوریشن میں مسلم لیگ نون سب سے زیادہ نشستیں جیت کر حکمران جماعت تحریک انصاف کو اپ سیٹ دے چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان آبائی علاقے سے 2 اہم میونسپل کارپوریشنز پر پی ٹی آئی کی جیت کو یقینی بنائیں گے یا ایک اور اپ سیٹ ہو گا۔

