سیڑھیاں۔۔۔

مجھے ہمیشہ سے سیڑھیاں ،ان کی بناوٹ ، ان کی ڈیزائننگ بڑا فیسینیٹ کرتی ہے۔۔۔چاہے پھر وہ کچی اینٹوں اور گارے سے بنی سیڑھیاں ہوں یا کسی شہری گھر کی جدید اور خوبصورت سیڑھیاں ۔۔۔یا پھر کسی تاریخی عمارت کی پر شکوہ اور قدیم سیڑھیاں ۔۔۔فلموں میں لگائے گئے سیٹوں میں اوپر کو جاتی شاندار سیڑھیاں بھی بڑی دلکش لگتی ہیں ۔۔۔مجھے یاد ہے یونیورسٹی میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں میں بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ گپ شپ ، نوٹس کا تبادلہ اور وقت گزاری بہت پسند تھی۔۔۔سیڑھیوں پر بیٹھ کر کھنچوائی گئی تصاویر کا بھی اپنا ہی رومانس ہوتا ہے ۔۔۔ یقیناً انسان نے سیڑھیاں ضرورت کے تحت ہی ایجاد کیں مگر آہستہ آہستہ انسان کی جمالیاتی حس نے انہیں تنوع اور خوبصورتی عطا کی ۔۔۔
سیڑھیوں کی اپنی زبان بھی ہوتی ہے۔۔۔یہ اپنے دیکھنے والوں کو بانہیں پھیلائے دعوت دیتی ہیں کہ آو۔۔۔میرے وجود کو بے معنی نہ سمجھو ۔۔۔میں اگرچہ یہاں رکی ہوں۔۔۔ٹھہری ہوں۔۔۔مگر تمہیں بلندی پر لے جاسکتی ہوں۔۔۔آسماں کو زیادہ قریب سے دکھا سکتی ہوں ۔۔۔زمانے کے نئے رنگوں سے آشنا کرا سکتی ہوں۔۔۔کامیابی کے در وا کر سکتی ہوں۔۔۔ہواوں کے نئے ذائقے سے متعارف کرا سکتی ہوں۔۔۔ زمین کے منظروں کا حسن بڑھا سکتی ہوں۔۔۔میرے بازوؤں کا سہارا لے کر تم اوپر اور اوپر جاسکتے ہو۔۔۔ہاں جب میری مدد سے جب اوپر پہنچ جاؤ تو مجھے فراموش نہ کر دینا ۔۔۔کہ واپسی کے لیے تمہیں پھر میری ضرورت ہوگی۔۔۔
یہاں کچھ ایسے لوگوں کا ذکر بھی ضروری ہے جو اپنے جیسے انسانوں کو ہی سیڑھی بنا لیتے ہیں ۔۔۔اپنے مفاد اور ضرورت کے تحت استعمال کرتے ہیں ، استحصال کرتے ہیں اور پھر یہ جا۔۔۔وہ جا۔۔۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ زوال کے سفر میں پھرکسی سیڑھی کا سہارا نہ ملا تو فنا مقدر ہوگی۔۔۔کہ سیڑھی کی مدد کے بغیر نشیب کا سفر بھی خودکشی پر منتج ہوتا ہے۔۔۔سو اپنے لیے سیڑھی بن جانے والے لوگوں کا احسان کبھی نہیں بھلانا چاہیے ۔۔۔چاہے وہ والدین ہوں، استاد ہوں یا پھر دوست ۔۔۔
Facebook Comments HS

