سینٹورس مال سیل: وزیر اعظم شہباز شریف سے ’کشمیر کی قربانیوں کے سوال پر سینٹورس مال بند کیا گیا‘
ترجمان نے بتایا کہ ’بیسمنٹ میں جہاں پارکنگ ہونی چاہیے وہاں بینک بنے ہوئے ہیں۔‘
سینٹورس مال پہنچنے پر پتا چلا کہ وہاں پر کچھ دیر پہلے تک جناح ایوینیو کو احتجاج کرنے والوں نے بند کر رکھا تھا۔ جسے بعد میں پولیس نے ٹریفک کے لیے کھول دیا۔ احتجاج کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد سینٹورس میں کام کرنے والوں کی تھی۔ جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی جگہ پر موجود تھی۔
آس پاس کام پر پہنچنے والے ملازمین سکیورٹی گارڈ سے پوچھتے نظر آئے کہ صرف دکانوں کو بند کیا گیا ہے یا پھر بلڈنگ میں موجود اپارٹمنٹ کے اندر جانے پر بھی پابندی ہے؟ پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سینٹورس مال میں بنے اپارٹمنٹ میں رہنے والوں کے لیے ایف ایٹ کی جانب سے راستہ کھولا گیا ہے جہاں سے وہ اپنے گھروں کو جاسکتے ہیں۔
لیکن سینٹورس کے اندر دکانیں اور دیگر ریستوران بند کردیے گیے ہیں۔
’کشمیر کی قربانیوں کے سوال پر سینٹورس مال بند کیا گیا‘
دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف پر الزام لگایا ہے کہ ’کشمیر کے لوگوں کی قربانیوں پر سوال پوچھنے پر سینٹورس کو سِیل کردیا گیا۔‘
عمران خان کے الزام لگانے کی وجہ ایک روز پہلے ہونے والا واقعہ ہے۔ منگلا میں ہائیڈرو پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تقریر کے دوران سردار تنویر الیاس نے انھیں ٹوکا۔ سردار تنویر الیاس پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم ہیں اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رکن بھی۔ انھوں نے شہباز شریف کو کہا کہ آپ کشمیر کی قربانیاں نہیں گنوا رہے ہیں۔ جس پر انھیں شہباز شریف نے کہا کہ ’پلیز میری بات سنیں۔ آپ بیٹھ جائیں۔ میں آپ سے بات کروں گا۔‘
اس چپقلش کے کچھ دیر بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف سٹیج چھوڑ کر چلے گئے۔ اس واقعے کے بعد رات دیر گئے سی ڈی نے سینٹورس مال کو سِیل کردیا۔ تنویر الیاس سینٹورس مال کے مالک ہیں۔ جس کے بعد سے ان دونوں واقعات کو سیاستدانوں کی طرف سے جوڑا جارہا ہے۔ اور اب عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کو وزیرِ اعظم سے سوال کرنے پر سزا دی گئی ہے اور مال کو سِیل کردیا گیا ہے۔
جبکہ سی ڈی اے نے 2019 سے لے کر 2022 تک کے نوٹس اور اعتراضات کی فہرست بی بی سی سے شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ’تجاوزات اور غیر قانونی استعمال کا معاملہ پچھلے دو سال سے جاری رہا جس پر کئی بار سینٹورس مالکان کو آرڈر کے ذریعے مطلع کیا جاتا رہا۔‘
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں پی ٹی آئی کے کارکنان کا وزیراعظم پاکستان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ میرپور میں شہباز شریف کی جانب سے اس خطے کے وزیراعظم تنویر الیاس خان کے ساتھ ناروا سلوک پر شہباز شریف کشمیری قوم سے معافی مانگیں۔ مظاہرین نے مرکزی ایوان صحافت کے باہرٹائروں کو آگ لگا کر مرکزی شاہراہ کو بند کر دیا۔

