معصوم بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات


حال ہی میں ایک تشویش ناک خبر گوجرانوالہ سے آئی کہ 3 سالہ بچہ زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش جلا کر کھیتوں میں چھپا دی گئی انا للٰہ وانا الیہ راجعون۔

پولیس کے مطابق کامونکی کے محلہ حبیب پورہ کا رہائشی تین سال کا بچہ صبح 8 بجے کے قریب گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گیا۔ گھر والوں نے بچے کی تلاش شروع کی تو قریب ہی کھیتوں سے جلی ہوئی لاش ملی۔ اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں تحقیقات شروع کیں۔ دوران تفتیش ایک محلے دار نے بتایا کہ اس نے بچے کو ملزم فیض کے ساتھ جاتے دیکھا تھا جس پر پولیس نے ملزم کو حراست میں لیا۔

پولیس کے مطابق دوران تفتیش ملزم نے اعتراف جرم کر لیا، ملزم فیض مقتول بچے کا ماموں زاد بھائی ہے۔ جب یہ خبر سامنے آئی جہاں بیٹھا تھا وہیں سانس رک گئی رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ کیا یہ ہمارے معاشرے میں سب کچھ ہو رہا ہے کیا واقعی یہ گوجرانوالہ کا واقعہ ہے کیا یہ سب کچھ کرنے والا مجرم انسان تھا، کیا وہ درندہ جب یہ سب کر رہا تھا اس کے ضمیر نے اسے جھنجھوڑا نہیں، اف خدایا! یہ کیسا وحشی نما درندہ تھا اس بچے کے رونے کی وجہ سے عرش ہل گیا ہو گا۔ اگر یہیں سزا و جزا ہوتی تو یقیناً پھر زمین بھی پھٹ جاتی اور وہ درندہ اپنے انجام کو پہنچ جاتا۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں آئیے اس کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں

ایک سروے کے مطابق جب سے ٹیکنالوجی کا استعمال شروع ہوا ہے تب سے اس کا مثبت استعمال کم جب کہ منفی زیادہ ہو رہا ہے جس کے بھیانک نتائج سامنے آ رہے ہیں کہیں پب جی اور دوسری گیمز کی وجہ سے نوجوان خود کشیاں کر رہے ہیں تو کہیں گندی فلمیں دیکھ دیکھ کر ایسے بے حس ہو چکے ہیں کہ احساس ہی ختم ہو گیا ہے جانوروں سے بھی بدتر معاشرے کی عکاسی نظر آ رہی ہے جس کی واضح مثال حال ہی میں پیش آئے واقعے میں نظر آ رہی ہے۔ دن بدن ایسا معاشرہ قائم ہوتا جا رہا ہے جو تعفن زدہ ہے۔

اس کے سدباب کے لیے ہم سب کو موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے وطن عزیز کی ننھی کلیوں کی حفاظت کرنا ہوگی۔ بچیوں کو سکھانا ہو گا کہ گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کیا ہوتا ہے؟ اگر کسی پر بھی کوئی شک و تردد ہو تو والدین، اساتذہ اور اقرباء کو بتانے میں تاخیر نہ کی جائے۔ حقیقت یہ ہے ہمارے معاشرہ میں بچوں کو خاموش رہنا سکھایا جاتا ہے۔ والدین اس موضوع پر بچوں سے بات کرنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔ حتی کہ تعلیمی اداروں میں بھی اس موضوع کو ”شجر ممنوع“ سمجھا جاتا ہے۔

پورے پاکستان سمیت پنجاب بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے یہ واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہیں، جو کہ نہ صرف پریشان کن بلکہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔ یہاں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تو سامنے آ جاتے ہیں لیکن اس میں ملوث مجرمان کو ملنے والی سزاؤں کی شرح انتہائی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اس طرح کے افسوسناک واقعات میں پہلے کی نسبت کئی گنا اضافہ پایا جا رہا ہے۔ جبکہ اس طرح کے واقعات کو صرف سخت ترین اور عبرتناک سزاؤں سے ہی روکا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایسے واقعات کی نشاندہی کرنی چاہیے، تاکہ ان درندہ صفت لوگوں کو جرم کرنے سے پہلے ہی قانون کی گرفت تک پہنچایا جا سکے۔

حکومت کو بھی چاہیے کہ سخت سے سخت سزاؤں کا اجراء کیا جائے تاکہ ایسے قبیح جرائم کا قلع قمع ہو سکے

Facebook Comments HS