دو پیشیاں اور میری دو نوکریاں گئی


عمران خان کے دور حکومت میں مجھے پہلی مرتبہ ایف آئی اے کی جانب سے 9 ستمبر 2019 کو طلبی کا نوٹس بھیجا گیا۔ میں اپنا لیب ٹاپ اور موبائل لے کر خود ایف آئی اے لاہور آفس میں پیش ہوا۔ میں نے جاتے ہی اپنا موبائل اور لیب ٹاپ تین تفتیش کاروں کے سامنے لکھ دیے۔ آدھا گھنٹہ وہ تسلی سے میرے موبائل اور لیپ ٹاپ کو چیک کرتے رہے جب ان کی تسلی ہو گئی تو دونوں چیزیں میرے حوالے کردی اور بعد میں پوچھا آپ مسلم لیگ (ن) کے لئے کام کرتے ہیں؟

میں نے ان کے سامنے اپنا پرس نکال کے رکھا اور پرس سے اپنے ادارے کا کارڈ، لاہور پریس کلب کا کارڈ اور پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے کارڈ نکال کے ان کے سامنے رکھے۔ جب ان کی ٹھیک سے تسلی ہو گئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا میں اب جاسکتا ہوں۔ ایک افسر بولا جی آپ جا سکتے ہیں۔ میں نے جاتے ہوئے کہا آپ کو اگر دوبارہ بھی میری کبھی ضرورت محسوس ہویا ملنا ہوتو مجھے بتا سکتے ہیں۔ خیر میں ایف آئی اے کے آفس سے نکل آیا۔

پھر دوسری مرتبہ نومبر 2021 میں مجھے دوسری مرتبہ ایف آئی اے کی جانب سے طلب کیا گیا۔ میں حسب معمول خاموشی سے خود ہی دوسری بار بھی ایف آئی اے لاہور پہنچ گیا۔ اس مرتبہ مجھے سے تفتیش کرنے والی ایک خاتون افسر تھی۔ جب اس خاتون افسر نے میرا موبائل تسلی سے چیک کر لیا تو مجھے پوچھتی آپ کا مریم نواز سے کیا تعلق ہے؟ آپ تحریک لبیک کی اتنی سپورٹ کیوں کرتے ہیں؟ اور آپ عمران خان کے خلاف کیوں لکھتے ہیں؟ میں نے کہا آپ نے میرا موبائل تسلی چیک کر لیا ہے۔ میری دونوں ای میلز بھی چیک کرلی۔ پھر بھی آپ مجھ سے ایسے سوالات کیوں پوچھ رہی ہیں؟

خاتون افسر نے اپنی طرف سے تھوڑا غصہ دکھانے کی کوشش کی اور غصے میں بولی جو پوچھا وہ بتاؤ۔ میں نے کہا جی میں ایک جرنلسٹ ہوں اور صحافیوں کے سیاستدانوں کے تعلقات بھی ہوتے ہیں اور رابطے بھی ہوتے ہیں۔ اب آپ کسی ایک سیاستدان سے زبردستی میرا تعلق نہیں جوڑ سکتے۔ جہاں تک بات عمران خان کے خلاف لکھنے کی ہے تو یہ میرا بطور پاکستانی شہری اور ٹیکس پیئر سٹیزن حق ہے اس سے آپ مجھے روک نہیں سکتے۔

خیر جب اس خاتون افسر کی تسلی ہو گئی تو مجھے جانے کی اجازت عنایت فرما دی۔ میں بتاتا چلو گزشتہ سال نومبر میں تحریک لبیک کا لاہور سے اسلام آباد کی جانب مارچ ہوا۔ جس میں لاہور یتیم خانہ چوک میں پنجاب پولیس نے ٹی ایل پی کے دو کارکنوں اور پھر مریدکے میں تیس کے قریب کارکنوں کو گولیاں مار کے شہید کر دیا تھا۔ ان دنوں میں ٹویٹر پر تحریک لبیک کی مسلسل خبریں شیئر کرتا رہا تھا اور ہم سب نیوز پر تحریک لبیک کی حمایت میں ایک دو آرٹیکل بھی لکھے تھے۔

پھر عمران حکومت نے تحریک لبیک کو کالعدم بھی قرار دے دیا تھا۔ جبکہ مریم نواز یا مسلم لیگ نون سے میرا تعلق جوڑنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ میں شاید پاکستان میں واحد صحافی تھا جس کی روزانہ مریم نواز ٹویٹس کو ری ٹویٹ کرتی تھی۔ یہ وہ دن تھے جب پاکستان میں عمران خان، شہزاد اکبر اور شہباز گل جیسے لوگوں کا راج تھا۔ ان دنوں ان لوگوں کو نواز شریف، مریم نواز حمایت میں یا عمران خان کے مخالف لکھنے والے اور بولنے والے لوگ پسند نہیں تھے۔

ان کو چن چن کے جیلوں میں ڈالا جا رہا تھا یا شمالی علاقہ جات کی سیر کے لئے بھیجا جا رہا تھا۔ آج وقت تبدیل ہو چکا ہے عمران خان زمان پارک والے اپنے گھر میں ازخود نظر بند ہو چکا ہے، شہزاد اکبر بیرون ملک فرار ہے جبکہ شہباز گل لاہور کے سروسز ہسپتال میں کوئٹہ پولیس کی جانب سے گرفتاری کے خوف سے وی آئی پی روم میں زیر علاج ہے۔ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ ایک اہم بات میں بتا چلوں کہ میں نے ایف آئی اے میں دونوں مرتبہ پیشی کے دوران نہ معافی نامہ لکھ کر دیا اور نہ اس انتقامی کارروائیوں کا ڈھنڈورا پیٹا۔

پہلی پیشی کے کچھ دن بعد مجھے میرے ادارے نے نوکری سے نکال دیے گیا اور اسی طرح دوسری پیشے کے دو ماہ بعد مجھے دوسرے ادارے نے بھی نوکری سے نکال دیا۔ دونوں مرتبہ ایف آئی اے میں پیشی کے دوران تفتیش کاروں نے میرے ادارے کے کارڈ دیکھ لیے تھے۔ اب اسی وجہ سے میں ٹویٹر پر اپنے ادارے کا نام نہیں لکھتا۔ کیونکہ میں جو کچھ بھی لکھتا ہوں اپنی مرضی سے لکھتا ہوں کسی کی خواہش پر نہیں لکھتا۔

Facebook Comments HS