معاشی سہارے کے لئے اشرافیہ کی قربانی!


ملک میں ایک طرف سیاسی عدم استحکام ہے تو دوسری جانب معیشت کی حالت روز بروز پتلی ہوتی جا رہی ہے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار روزانہ کی بنیاد پر عوام کو زبانی کلامی تسلیاں دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، مگر ملک کے معاشی حالات بہتر ہونے کے بجائے دن بدن بگڑتے ہی جا رہے ہیں، ملک بھر میں کاروباری اور صنعتی اداروں کی حالت زار بھی بدتر ہونے لگی ہے، چھوٹی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا رہی ہیں، پاکستانی سرمایہ دار بھی اپنے سر مائے سمیت ملک چھوڑ رہے ہیں، اس صورتحال میں سب سے زیادہ مشکلات کا شکار عام آدمی ہو رہا ہے، اس پر ایک طرف ریکارڈ مہنگائی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے تو دوسری جانب روز گار ختم ہونے کے باعث آمدن بھی کم ہو رہی ہے۔

ملک پر منڈلاتے خطرات سے معاشی ماہرین بڑے عرصے سے خبر دار کرتے آرہے ہیں کہ ملکی معیشت تیزی سے نیچے کی طرف جا رہی ہے اور اس کی بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے، لیکن حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اسے سنجیدہ لینے سے انکاری ہیں، سیاسی قیادت کے لئے معیشت سے زیادہ اپنے مفادات اہم ہیں، انہیں معیشت کی بدحالی کی کوئی پروا ہے نہ عوام کا کچھ خیال ہے، تاجر برادری کے کچھ حلقوں نے مل کر میثاق معیشت کے لئے بھی کوشش کی تھی، لیکن حکومت اور اپوزیشن قیادت جہاں ایک دوسرے کے خلاف تند و تیز بیانات دینے کے عادی ہوجائیں، وہاں اس طرح کے میثاق کے لئے ان کا اکٹھے بیٹھنا اور بات کرنا کوئی معجزہ ہی ہو سکتا ہے۔

اتحادی حکومت کو میثاق معیشت سے زیادہ اپنے اقتدار کی فکر کھائے جا رہی ہے، اس لیے ان کی ساری توجہ معیشت کی بحالی کے بجائے اپنے اقتدار کے بچانے پر ہے، ملکی معیشت کی بحالی کا کام وزیر خزانہ اسحاق کے سپرد کر دیا گیا ہے، مگر وزیر خزانہ کے سارے دعوؤں کے باوجود صورتحال اتنی خراب ہوتی جا رہی ہے کہ اب طبی آلات اور دفاعی ساز و سامان کی در آمد کے لئے بھی ڈالر کی دستیابی مسئلہ بنتی جا رہی ہے، کیو نکہ حکومت کے پاس اب زر مبادلہ کے ذخائر ختم ہوتے جا رہے ہیں، اس کے باعث ہم ایک ایسے تشویش ناک مرحلے پر پہنچ گئے ہیں کہ جس کے بارے میں ماہرین پہلے سے ہی خبردار کر رہے تھے کہ اگر حکومتی قیادت ڈنگ ٹپاؤ پروگرام پر ایسے ہی عمل پیرا رہے اور بروقت معیشت کی بحالی کی طرف توجہ نہ دیتے ہوئی موثر حکمت عملی نہ بنائی تو اس کے اثرات ملکی دفاع پر بھی پڑیں گے۔

اس وقت سب سے زیادہ تشویش کی بات ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب زر مبادلہ کے ذخائر ساڑھے سات ارب ڈالر رسے بھی کم رہ گئے ہیں تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے آنے والی ترسیلات زر اور برآمدات میں بھی کمی آ رہی ہے، اس سے پاکستان پر بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ مزید بڑھ رہا ہے، ہمارے لیے عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی طرف سے پاکستانی ریٹنگ گرانے کے باعث کمرشل قرضے حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے، اگر کوئی قرض دے گا بھی تو اس پر شرح سود اتنی زیادہ ہو گی کہ پاکستان متحمل نہیں ہو سکے گا، جبکہ پاکستان کو اگلے بارہ ماہ کے دوران چھبیس ارب ڈالر سے زائد کے قرضے واپس کرنے ہیں، اس بدتر ہوتی صورتحال میں سیاسی قیادت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور مل بیٹھ کر سیاسی معاملات سیاسی انداز میں حل کرنے چاہیے، کیو نکہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا ہمارا سیاسی بحران اور معاشی زوال ایسے ہی جاری رہے گا۔

ہمارے حکمران قیادت کا وتیرہ رہا ہے کہ ملک کو در پیش مشکل معاشی حالات میں اپنے وسائل کو بروئے کار لانے کے بجائے دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے مدد لینے کی کوشش کرتے ہیں، یہ دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں کا پاکستان پر اعتماد ہے کہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے مثبت اقدامات کرتے آرہے ہیں، لیکن یہ اعتماد بھی اب بے اعتمادی میں بدلنے لگا ہے، اس بات پر ہمارے مقتدر حلقوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ آخر کب تک ہم دوسروں کی مدد کی بیساکھیاں لے کر معیشت کو کھڑا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے؟

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی کی رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پاکستان ہر سال اشرافیہ کو ساڑھے سترہ ارب ڈالر کی مراعات دیتا ہے، کیا ہم کسی بھی طرح ایسی ساری مراعات کم کر کے ملکی معیشت کو استحکام کی راہ پر نہیں ڈال سکتے؟ کیا ہماری اشرافیہ اتنی طاقتور ہے کہ ملکی مفادات کو ان کے مفادات پر قربان کیا جا رہا ہے اور اس کے خلاف کوئی بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے؟ اگر کوئی آواز اٹھانے کی کوشش بھی کرتا ہے تو اس کی آواز کو زور زبردستی سے دبا دیا جاتا ہے، پون صدی سے معیشت کو سہارا دینے کے لیے عوام سے ہی قربانیاں لی جا رہی ہے، ایک بار اشرافیہ سے بھی قربانی لے کر دیکھ لیا جائے کہ حالات میں کتنی بہتری آتی ہے!

Facebook Comments HS