تاریخ کے سنہری اوراق

میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ لندن سے آتے ہوئے قائداعظم قاہرہ میں ٹھہرے اور مفتیٔ فلسطین محمد امین الحسینی سے ملے تھے۔ قارئین کی طرف سے پیغام آئے کہ قیام قاہرہ کی مزید تفصیلات فراہم کی جائیں۔ کتب و رسائل کھنگالنے سے مجھے عالمی ترجمان القرآن کے مدیر سلیم منصور خالد کا نہایت عمدہ مضمون مل گیا۔ اس کے مطابق 16 دسمبر 1946 ء کو قائداعظم قاہرہ پہنچے اور وہاں چار دن قیام کیا۔ مصر پورے عالم عرب کا ایک علمی اور تہذیبی مرکز تھا، اس لیے مسلمانوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل تھا۔
قائداعظم نے قاہرہ پہنچتے ہی اپنے بیان میں فرمایا کہ ”مصر کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مسلم ہند کس مقصد کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ مصر کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہونا چاہیے۔ کانگریس کے پروپیگنڈے سے بہت سے اہل مصر گمراہ ہوئے ہیں۔ میں ان مصری بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مسلم ہند کے معاملات میں زیادہ دلچسپی لیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانان ہند کی جدوجہد مصر کے لیے کتنی اہم ہے۔ جب پاکستان قائم ہو جائے گا، تب ہی ہم اور مصری مسلمان آزاد ہوں گے، ورنہ ہندو سامراج کی لعنت اپنے پنجے مشرق وسطیٰ کے اس پار تک پھیلا دے گی۔“
18 دسمبر کو ایک ضیافت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’‘ اگر ہند میں ہندو سلطنت قائم ہو گئی، تو اس کا مطلب ہو گا ہند میں اسلام کا خاتمہ اور دیگر ممالک میں بھی۔ اس باب میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ روحانی اور مذہبی رشتے ہمیں مصر سے منسلک رکھتے ہیں۔ اگر ہم ڈوبے، تو سب ڈوب جائیں گے۔ ”پھر قائداعظم نے قاہرہ ریڈیو سے 19 دسمبر کو نشری تقریر میں مزید وضاحت فرمائی کہ ’‘ ہم چاہتے ہیں کہ ان دو منطقوں میں جہاں ایک مسلم حکومت فرماں روا ہے، وہاں ہم ایک خودمختار قوم کی حیثیت سے زندگی بسر کریں اور ان تمام اقدار کا تحفظ کریں جن کا اسلام علمبردار ہے۔“
قاہرہ میں 19 دسمبر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’‘ اگر ہندوستان پر ہندو سامراج کی حکمرانی ہو گی، تو یہ اتنا ہی بڑا خطرہ ہو گا جتنا بڑا خطرہ ماضی میں برطانوی سامراج سے تھا، لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ پورا مشرق وسطیٰ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک جائے گا۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان بلا امتیاز رنگ و نسل ان تمام اقوام کو تعاون پیش کرے گا جو حصول آزادی کی غرض سے جدوجہد کریں گی۔ ”
قیام قاہرہ کے دوران قائداعظم کی وادیٔ نیل میں بسنے والی ایک ولی اللہ شخصیت حسن البنا سے ملاقات ہوئی جو اپنے لاکھوں ساتھیوں کے ہمراہ تحریک پاکستان کی کامیابی کے لیے دعاگو تھے۔ بعد ازاں یہ رابطہ برابر قائم رہا۔ دونوں کی آرزو ایک ہی تھی۔ استعمار سے آزادی اور ایک ترقی یافتہ مثالی اسلامی ریاست کا قیام۔ قاہرہ کی ملاقات میں اخوان المسلمون کے مرشد عام حسن البنا نے قائداعظم کو قرآن حکیم کا ایک نہایت خوبصورت نسخہ تحریک پاکستان کی علامتی تائید کے لیے ہدیے کے طور پر پیش کیا جو مزار قائداعظم پر موجود نوادرات میں موجود ہے۔ بعد ازاں ان دونوں قائدین کے مابین خط کتابت بھی ہوتی رہی اور پیغامات کا تبادلہ بھی۔ اس کا ذکر عتیق ظفر شیخ اور محمد ریاض ملک کی مرتب کردہ کتاب
Quaid e Azam and the Muslim World
میں محفوظ ہے۔
حسن البنا آل انڈیا مسلم لیگ کے مقصد تخلیق پاکستان کے زبردست حامی تھے۔ جناب پروفیسر خورشید احمد کو اخوان کے نوجوان راہنما سعید رمضان نے بتایا کہ وہ خود اور اخوان کے مرکزی راہنما تحریک پاکستان کے حق میں فضا تیار کرنے کے لیے مصر کے طول و عرض میں پرجوش تقریریں کیا کرتے تھے جبکہ مرشد ہماری راہنمائی فرماتے تھے۔ اس کے برعکس مصر کے سیکولر قوم پرستوں میں کانگریس کے لیے نرم گوشہ پایا جاتا تھا۔ اس پس منظر میں اخوان المسلمون کی جانب سے عالم عرب اور افریقہ میں تحریک پاکستان کی حمایت اپنی قدروقیمت کے اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔
مفتیٔ اعظم فلسطین بیان کرتے ہیں کہ ”مجھے یاد ہے کہ ایک دعوت کا اہتمام عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عبدالرحمٰن عزام نے قائداعظم کے اعزاز میں کیا تھا۔ قائداعظم کے ہمراہ لیاقت علی خاں بھی تھے۔ عزام کے گھر سب سے پہلے پہنچنے والوں میں میں اور امام حسن البنا تھے۔ ہم قائداعظم سے دیر تک محو گفتگو رہے۔“ 1947 ء کے اوائل میں انڈین کانگریس نے دہلی میں ایک بین الاقوامی ایشیائی کانفرنس 27 مارچ سے 2 /اپریل تک منعقد کرنے کا پروگرام بنایا۔
قائداعظم اس کانفرنس کے پس پردہ محرکات کو مسلمانوں کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے۔ اگرچہ شام، لبنان اور یمن نے اس کانفرنس کا دعوت نامہ مسترد کر دیا تھا، لیکن عرب لیگ نے کانفرنس میں وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ قائداعظم نے فروری 1947 ء میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کے نام خط میں اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اس دوران یو پی مسلم لیگ کی حج کمیٹی کے سربراہ حافظ کرم علی نے قاہرہ سے قائداعظم کو ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا کہ ’‘ میں کئی روز سے یہاں مقیم ہوں۔ مصر میں سب سے زیادہ طاقتور، مضبوط اور مقبول تنظیم اخوان المسلمون کے نام سے موسوم ہے جس کے سربراہ شیخ حسن البنا ہیں۔ ان کے پچاس ہزار رضاکار اور لاکھوں پیروکار ہیں۔ اس تنظیم کا اپنا روزنامہ اور ہفت روزہ ہے۔ میں نے تنظیم کے مرکزی دفتر کے سربراہ سے ملاقات کی۔ وہ نہایت تپاک اور بڑی شفقت سے پیش آئے۔ آپ سے میری استدعا ہے کہ کانگریس کی بین الاقوامی ایشیائی کانفرنس کے حوالے سے حسن البنا سے رابطہ کریں۔ ”
قائداعظم نے اپریل 1947 ء میں عبدالرحمٰن عزام کے نام خط میں زور دیا کہ ’‘ کانفرنس نے اگرچہ بہت لوگوں کو گمراہ کیا تھا، لیکن ہم ان شاء اللہ اس کوشش سے بچ نکلیں گے اور ہم ہندوستان اور مشرق وسطیٰ دونوں جگہ کامیاب ہوں گے۔ ”اس کے ساتھ قائداعظم نے اخوان المسلمون کے مرشد عام حسن البنا کے نام ذاتی پیغام مصطفیٰ مومن کے ذریعے بھیجا۔ امام البنا نے ایک ایسا جواب ارسال کیا جو ہر اعتبار سے اس عہد کے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس خط کے ذریعے قائم ہونے والے پاکستان اور اسلامی دنیا بالخصوص عرب ممالک کے ساتھ گہرے روحانی اور تاریخی رشتے کشادہ ہوتے گئے۔ (جاری ہے )

