ایمرجنسی میں سرکاری ہسپتال کا دورہ
دسمبر کی پہلی ہی رات تین بجے گھر میں کھسر پسر شروع ہوئی، پتہ چلا خاتون خانہ کو صحت کا کچھ مسئلہ ہے، تھوڑی ہی دیر میں بات ہسپتال جانے تک پہنچ گئی۔ پانچ منٹ کی مسافت پر دیہی مرکز صحت موجود تھا۔ ہسپتال پہنچ کر دیکھا دروازے پر دو کتے آوارہ بیٹھے ہوئے تھے، کتوں کو بائی پاس کر کے اندر داخل ہوئے۔ عمارت کے اندر ڈاکٹر کے کمرے سے لے کر برآمدوں کی بتیاں جل رہی تھیں، کوئی انسان نما چیز نظر نہ آنے پر کھنگھورے مارے۔
جب سب کھنگورے بے اثر رہے تو ایک دروازے پر دستک دی، اندر موجود چار پائی پر پڑے لحاف سے انسانی آواز آئی کون؟ بتایا مریض۔ پھر آواز آئی مرد عورت؟ بتایا عورت۔ لحاف بولا ”سامنے چلے جائیں“ ، آگے نرسوں کا کمرہ ہے۔
لحاف نے جدھر کہا تھا ادھر چل دیے۔ سامنے وارڈ میں پہنچنے پر وارڈ میں زندگی نے حرکت کرنا شروع کر دی۔ نارمل سے تھوڑے بڑے قد کی نرس نے جو آگے پیچھے سے خوب بھری ہوئی تھی پیر گھسیٹ گھسیٹ کر ہماری طرف چلنا شروع کر دیا۔ چلتے ہوئے نرس کا ایک بائیں بازو بڑا سرگرم تھا، بازو کی حرکت ترچھی تھی، بازو پیچھے سے آتے ہوئے کولہے کے ماس کر چھو کر ایسے باہر نکل جاتا جیسے وکٹوں کے سامنے بال زمین کو چھو کر باہر کو گھوم جاتی ہے۔
نرس نے چلتے ہوئے لحاف کو آواز دے کر کہا ”ڈاکٹر کو بتاؤ“ حکم جاری کرنے کے ساتھ ہی نرس نے گھوم کر پہلے کی طرح پاؤں گھسیٹے ہوئے اسی کمرے کا رخ کر لیا جس سے وہ بر آمد ہوئی تھی، بائیں بازو نے بائیں بازو والوں کی طرح دوبارہ چھیڑ خانیاں شروع کر دی۔
اب ہم لحاف کے رحم و کرم پر تھے، تھوڑی دیر میں لحاف سے ایک جاندار بر آمد ہوا، جب اس نے نرس کی ہی طرح پاؤں گھسیٹ کر چلنا شروع کیا تو ہمیں پتہ چل گیا کہ یہ بندہ ہی ہے۔ اس نے دور جا کر ایک دروازے پر دستک دی اور خود وہاں کھڑا ہو گیا، چند منٹوں کے بعد وہاں سے ایک انسان نما برآمدگی ہوئی، وہ برآمدگی ہمیں بری نظروں سے دیکھتی ہوئی ہماری طرف چل پڑی۔
ڈاکٹر قریب پہنچ کر ”کیا ہے“ ؟
درد ہے پیٹ میں۔
کہاں؟
یہاں۔
آپ عزیز بھٹی چلے جائیں۔
آپ کچھ نہیں کر سکتے؟
ادھر لیٹیں۔
ڈاکٹر نے انجیکشن لیا، سرنج میں ڈالا کینولہ پہلے ہی لگا ہوا تھا، اس کے ذریعے انجیکش دینے لگا، بدقسمتی سے کینولہ بند ہو چکا تھا، ڈاکٹر نے دو تین کوششیں کیں شاید کینولہ چل جائے، کامیاب نہ ہوا، انجیکش ڈسٹ بن میں پھینک کر بولا ”آپ عزیز بھٹی ہسپتال چلے جائیں“ یہ کہہ کر ڈاکٹر نظریں جھکائے ہوئے اپنے سلیپنگ روم کی طرف چل دیا، ”ہم لیے رہ گئے لے کے سلام اپنا“ ، ہاں جاتے جاتے ہمیں بتا کر کہ آپ کو وہاں پہنچنے میں صرف ایک گھنٹہ لگے گا ہم پر احسان کیا۔
یقیناً وہ ملازم نہیں تھے


