ارشد شریف کا اپنی ماں کے نام خط


اماں، سلام۔

اماں، بھائی خوش ہے، ابا بھی بہت راضی ہیں۔ مجھے آتے ہی گلے لگایا اور کہنے لگے ابھی بیٹھے تمہاری ہی بات کر رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا بابا آپ کو کیسے پتہ تھا میں آ رہا ہوں؟

کہنے لگے، بیٹا جن کی مائیں دلیر ہوں، وہ سچ کے لیے سر کٹا تو سکتے ہیں سر جھکا نہیں سکتے۔ اور پھر تم تو زیادہ دیر ماں کے پاس رہے ہو، تمہارے قلم کی آواز تو آسمانوں تک سنائی دیتی تھی۔ میں بڑے فخر سے تمہاری عبارتیں دوستوں کو سنایا کرتا تھا اور سب کہتے تھے دلیر ماں کا دلیر بیٹا ہے، سر کٹا دے گا، سر جھکائے گا نہیں۔

میں بھی بھائی اور بابا سے مل کے بہت خوش ہوا۔ سوچا اللہ کا شکر ہے والدین کا سینہ باغ باغ کیا ہے، اور اپنے حصے کی شمع جلا کے آیا ہوں، اپنے حصے کا اندھیرا مٹا کے آیا ہوں، اپنی ذمہ داری نبھا کے آیا ہوں۔

پر آج عجیب منظر دیکھا اماں۔ آج تیرا بیٹا مر گیا ماں۔ سنا تھا جن کے سر پہ باپ کا سایہ نہیں ہوتا، رب خود اپنا ہاتھ ان کے سر پہ رکھ دیتا ہے۔ سو بچوں کی مجھے فکر نہیں تھی۔ جانتا تھا وہ میری لاج رکھیں گے، اللہ ان کے جسم و روح کو خود پالے گا۔ پر جن کے بیٹھے چلے جائیں، ان ماؤں کو یوں دربدر عدالتوں میں جانا پڑتا ہے، یہ نہیں جانتا تھا۔

جس طرح تجھے ویل چیئر پر لایا گیا، گیٹ سے گزارا گیا، میں سب دیکھ رہا تھا ماں۔ تپتی دھوپ میں میرے سر پر سایہ کرنے والی ماں، میں تیرے پیروں تلے پلکیں نہ بچھا پایا۔ تجھے اس عمر میں، اس حال میں عدالتوں میں دھکے کھانے پڑے، اندھے انصاف اور اندھے منصف کا فرق دیکھنا پڑا، اور وردیوں میں موجود پتھروں کے ساتھ جرحیں کرنا پڑیں۔

سوچتا ہوں، کہیں دل میں خیال تو آیا ہو گا کہ جس ملک، جس گھر کے لیے اپنا گھر اجاڑا ہے، اس میں ایسا سلوک ہوتا ہے ماؤں کے ساتھ! کہیں کورونا سے مرنے والے بھی شہید کہلاتے ہیں کہیں تیرا بیٹا سر کٹا کے بھی مقتول اور فوت شدہ پکارا جاتا ہے۔

ماں، تیرے بیٹے نے ساری ذمہ داریاں نبھا لیں، تیرے پیر دبانے رہ گئے۔ میں تیری خدمت کے بجائے دھرتی ماں کی خدمت کرتا رہا، پر دھرتی ماں تیرے ساتھ ایسا سلوک کرے گی، یہ نہیں سوچا تھا۔

پیدا ہونے سے پہلے بچے کا وزن اٹھانا تو قدرت کا نظام تھا ہی، میرے جانے کے بعد بھی میرا وزن اٹھائے پھرنے والی ماں، میں تیرا قرض کیسے اتاروں گا؟

ماں، آج کا دن بہت بھاری گزرا ہے ماں۔ وطن کے لیے، اصول کے لیے، حق اور سچ کے لیے جان دینا اتنا مشکل نہیں تھا جتنا درندوں کے ہجوم میں تجھے چھوڑ جانا لگ رہا ہے۔ آج ضد کرنے اللہ کے دربار جانے والا تھا کہ مجھے واپس بھیجا جائے، میں اپنی ماں کے قدم چوم کر انہیں تا قیامت آنکھوں سے لگا کے رکھوں۔ مگر راستے میں ہی بھائی نے روک دیا ماں۔

کہتا ہے، سر کٹانے کی رسم تو ادا کر آیا ہے، سربازار، سر دربار حق کہنے کی رسم ماں ادا کرے گی۔ کہتا ہے، صبح طلوع ہونے سے پہلے مکمل اندھیرا ہوتا ہے۔ اور اس اندھیرے کو چیرتی ہوئی پہلی کرن تو ہے ماں۔

ماں، تیری عظمتوں کو سلام۔ تیری استقامت، تیری محبت، تیری شان کو سلام۔ تو ہے پاکستان، خودی کی رازدان، خدا کی ترجمان۔ تو حضرت انسان ہے، تو راز کن فکان ہے، میرا مان ہے، میری ماں ہے۔

یہاں جنتوں میں ہر شے ہے ماں، بس تیری گود نہیں۔ خدا کی قسم تیرا ارشد تیری گود میں سر رکھنے کو ترس رہا ہے۔ ہزار جنتیں تیری گود پہ قربان ماں۔ پورے حوصلے سے ڈٹے رہنا ماں۔ اللہ حامی و ناصر ہے۔ جب بھی لگے کہ اب آگے چلنا مشکل ہے، یاد رکھنا، ردائے زینب کی لاج رکھنا۔ ڈرنا نہیں ماں۔ زمین کے یہ جعلی خدا زمین پر تیرے پیروں سے اٹھنے والی گرد سے بھی گھبراتے ہیں۔

تیرا شہید بیٹا
ارشد

Facebook Comments HS