مہنگائی اور امپورٹ قوانین کی خلاف ورزی


وفاقی ٹیکس محتسب نے قاسم پورٹ کراچی پر سویابین اور کینولہ کے نو جہازوں کو کلیئر کرنے کی سفارش کردی۔ کئی دنوں سے پھنسے سویابین اور پولٹری فیڈ کی کھیپ جہازوں میں پڑی رہی اور انڈسٹری سپلائی التوا کا شکار رہی۔ کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے مارکیٹ میں سویابین اور پولٹری فیڈ کا بحران پیدا ہوا۔ جس کی وجہ سے مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

گزشتہ دو ہفتوں سے مرغی کا فی انڈا قیمت پچیس روپے کے لگ بھگ رہی۔ وجہ مہنگائی اور معاشی عدم استحکام تھا۔ دوسری بڑی وجہ قاسم پورٹ کراچی میں موجود سویابین سٹاک کو کلیئرنس نہ ملنا۔

سویابین کی قلت کے باعث مرغی کے انڈوں کی پروڈکشن میں کافی حد تک کمی ہوئی؛ جس کی وجہ سے انڈے 3000 روپے فی کارٹن مہنگے ہوئے۔

آج تقریباً دو ہفتے بعد قاسم پورٹ پر موجود سویابین کو کلیئرنس مل گئی، سپلائی ہونا باقی ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی ٹیکس محتسب نے سویابین اور کینولہ کے 9 جہازوں کو روکنا امپورٹ قوانین کی خلاف ورزی قرار دی۔ یعنی غیر قانونی طور پہ سویابین اور پولٹری فیڈ کو روک کر انڈسٹری اور کاروبار کا نقصان ہوا۔

وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے کے بعد کچھ سوالات جنم لیتے ہیں ؛
1) کیا دو ہفتے عوام اور تاجروں کے نقصان کا ازالہ ہو سکتا ہے؟
2) کیا پولٹری فیڈ، چکن اور انڈوں کی قیمتیں واپس کم ہوں گی ؟
3) کیا غیر قانونی طور پہ امپورٹ روکنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی؟
4) کیا مستقبل میں اس قسم کے غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے لئے احکامات و اقدامات کیے جائیں گے؟

پاکستان پچھلے کئی عرصہ سے سیاسی و معاشی مسائل میں گرا ہوا ہے۔ موجودہ پی ڈی ایم حکومت نے عمران خان کو چلتا کیا اور خود مسائل کے حل کے لئے اقتدار پہ براجمان ہوئے۔ جبکہ حکومت سنبھالے تقریباً دس ماہ گزرنے کے باوجود حالات نہیں بدلے۔

پاکستان بننے سے لے کر اب تک مافیاز کے ہاتھوں میں جکڑا رہا۔ سیاست، صحافت، عدالت، بیوروکریسی اور فوج میں مافیاز نے اپنے پیٹھوں بیٹھا رکھے ہیں یا بذات خود ان میں شامل ہیں۔ اور یہی لوگ ملکی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔

مرغی، انڈے، آٹا، چاول، چینی، سبزی اور دیگر خام مال اشیاء کی امپورٹ اور ایکسپورٹ یہی لوگ کنٹرول کرتے ہیں۔ انتظامیہ ان کے ہاتھوں کی میل یعنی پیسے پہ بکتی رہی۔ جو کوئی ان کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے وہ خس و خاشاک کی طرح کنارے لگتا ہے۔

ظالم قارون کے پیروکار ملک میں مصنوعی قلت و بحران پیدا کر اپنا ذخیرہ کیا ہوا سٹاک مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ جس کی قیمت غریب اور نادار لوگ اپنے خون پسینے کی صورت ادا کرتے ہیں۔

ویسے مافیاز کے لئے ملکی قانون کوئی حیثیت نہیں رکھتی لیکن پھر بھی آرام سکون سے اپنا کام چلانے کے لئے اسے (قانون کو) اپنی مرضی کے مطابق بنا لیتے ہیں ؛

قارون کے کارندے اور بڑے مگر مچھوں کے پاس ہر قسم کے طور طریقے موجود ہوتے ہیں۔ جنہیں وقتاً فوقتاً قانونی شکل دے کر وہ اپنا برنس بڑھاتے ہیں۔

قانون کے بارے آپ نے سنا ہو گا کہ ” قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں چھوٹے کیڑے مکوڑے پھنس جاتے ہیں اور بڑے جانور اسے روند کے چلتے ہیں۔“

عوامی ہمدردی رکھنے والے با اثر لوگ ملک و قوم کی بہتری کے لئے ان بے حسوں اور نوسر بازوں کو ایکسپوز کریں اور حکومتی ذمہ داروں کو کارروائی پہ مجبور کرے۔

Facebook Comments HS