فری لانس صحافیوں کیلئے تربیتی سیشن کا اہتمام

سیشن کی تفصیلات درج کرنے سے قبل یہاں پروگرام کی کوآرڈینیٹر اور پی ایف یو جے کی نائب صدر شہر بانو کی کوششوں کی تعریف کی جانی نہایت ضروری ہے جنہوں نے پہلے سیشن کے بعد دوسرے سیشن میں بھی کارکنان سے رابطے کیے اور غالباً فردا فردا ہی لوگوں سے سیشن میں آنے کی دعوت دی ’اتنا ہی نہیں بلکہ دیکھا جائے تو پورا سیشن شہر بانو کی کاوشوں کا نتیجہ ہی نظر آتا ہے۔ ) دیگر سے معذرت کے ساتھ لیکن حقیقت یہی ہے کہ مجھ سے جو بھی رابطہ ہوا وہ شہر بانو یا ان کی جانب سے متعین کردہ نمائندے کا ہوا‘ شہر بانو انتہائی فعال انداز میں کام کرتی نظر آئیں اور ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے (
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر جی ایم جمالی نے کہا کہ فری لانس جرنلسٹس کو اداروں میں باقاعدہ کام کرنے والے صحافیوں سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سیفٹی اور سیکیورٹی سیشن پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو کوریج پر جانے سے قبل مناسب تیاری کرنی چاہیے ’اتنا ہی نہیں بلکہ دوران ایونٹ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے حفاظتی اقدامات بھی کیے جانے انتہائی ضروری ہیں‘ جب کہ خواتین صحافیوں کو بھی اپنی حفاظت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے اس حوالے سے تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کام کا بیڑہ پی ایف یو جے انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم نے اٹھایا ہوا ہے۔
پروگرام کی کوآرڈینیٹر اور پی ایف یو جے کی نائب صدر شہر بانو نے شرکاء کو بتایا کہ فری لانس جرنلسٹس کو متحد کرنے کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ فری لانس جرنلسٹس کی بڑی تعداد اس پروگرام سے جڑ رہی ہے اور انشاءاللہ مستقبل میں ہماری کوششوں کے بہترین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے پلیٹ فارم سے نواب شاہ حیدرآباد اور ٹھٹھہ کے بعد کراچی میں دوسرا سیشن کر رہے ہیں ’اس سلسلے کو سکھر اور سندھ کے مختلف اضلاع تک وسیع کیا جائے گا اور تربیتی پروگرام میں بھی وسعت لائی جائے گی۔ انہوں نے کامیابی کے لئے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انشاءاللہ فری لانس جرنلسٹس کو جلد ہی ایک مضبوط پلیٹ فارم میسر آ جائے گا جو ان کے مسائل کے حل کی حقیقی کوشش کرے گا۔
سینئر صحافی اور میڈیا ٹرینر رضا ہمدانی نے شرکاء کو دوران رپورٹنگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی حفاظت کرنے اور فیلڈ میں مکمل تیاری کے ساتھ کام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے سیلاب ’ہنگامی حالات اور دور دراز علاقوں میں جاکر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں سے کہا کہ کسی بھی ایونٹ پر جانے سے پہلے اپنی تیاریاں مکمل کریں‘ ڈریسنگ ادویات ’راستوں سے واقفیت اور معاون افراد کے فون نمبر لازمی ساتھ رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ علاقے کے لوگوں کے مزاج اور زبان سے واقفیت کام کو آسان بنا دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی اور حساس معاملات کو بھی رپورٹنگ کے موقع پر ملحوظ رکھا جانا نہایت ضروری ہے۔
پی ایف یو جے کے نائب صدر سعید جان بلوچ نے کہا کہ جس اسائنمنٹ پر جائیں اس کی مکمل معلومات ہونی ضروری ہیں مثال کے طور پر سیلاب کی کوریج کے دوران صوبائی حکومت کے محکمہ ایریگیشن سے معلومات حاصل کرنا چاہیے جس تاکہ سیلاب سے متاثرہ کن علاقوں پانی کی صحیح صورتحال معلوم ہو سکے۔
پی ایف یو جے کے رہنما شاہد غزالی نے کہا کہ اچھی رپورٹنگ کے لئے مناسب تربیت کی اشد ضرورت ہے اکثر نئے آنے والے لوگ خود بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی پریشانی پیدا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن موبائل فون رکھنے والا فری لانس جرنلسٹس نہیں ہو سکتا ۔ ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے لئے صحافتی ضابطہ اخلاق اور قومی سلامتی کو مد نظر رکھا جانا نہایت ضروری ہے۔
شرکاء نے اپنے تجربات و مشاہدات کے دوران آنے والے مسائل پر سوالات کیے جس پر ٹرینر رضا ہمدانی اور سینئر رہنماؤں نے ان کی رہنمائی کی۔
پی ایف یو جے کا پلیٹ فارم جس انداز میں فعال ہے اور جس طرح سے دور دراز کے شہروں میں جاکر فری لانس صحافیوں کو موبائل جرنلزم کی تربیت دی جا رہی ہے ایسا غالباً تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے یقیناً آنے والے وقت میں معاشرے میں اس کے مثبت اثرات ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر کچھ کر دکھانا ہے تو سب کو مل کر پلیٹ فارم کو مضبوط کرنا ہو گا ’اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر اپنا حصہ ادا کرنا ہو گا۔

