سیاست پر ریاست کو ترجیح دینے کے دعوے


جب سے پی ڈی ایم کی پارٹیوں نے حکومت سنبھالی ہے، تب سے ان کے وزراء پارٹی لیڈران حتی کہ وزیراعظم تک ایک ہی جملہ ہر پریس کانفرنس میں ادا کرتے ہیں کہ ہم نے ”ریاست کے مفاد کو اپنی پارٹی سیاست پر ترجیح دی“ ۔ اس جملے کا جواب کل سپریم کورٹ نے اپنے ایک جملے میں دے دیا کہ ”نیب ترامیم ذاتی مفاد میں کی گئیں“ اور سب کو پتہ ہے یہ ترامیم کس نے کیں۔ مگر ایک پل کے لیے حکومتی جماعتوں کو مظلوم سمجھ بھی لیا جائے تو حکومتی جماعتیں یہ ہی بتا دیں کہ چونکہ آپ کے ساتھ بھی ظلم ہو رہا اور عوام کے ساتھ بھی تو اس سب میں ظالم کون ہے؟ آپ کی ترجیحات چونکہ ریاستی مفاد پر مبنی ہیں تو ایسے میں فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ عوام نے آپ کے آنے کے شروع دن سے کبھی بجلی، کبھی پٹرول اور کبھی کھانے پینے کی مہنگی اشیاء کی صورت میں قربانی دی ہے۔ اور بقول آپ کے اس سب میں آپ کا مفاد نہیں تو بھئی عوام اور گورنمنٹ کے علاوہ ریاست کس کو کہا جا رہا ہے؟

اب آ جاتے ہیں آپ کی ترجیحات کی جانب تو آپ نے آتے ہی نیب ترامیم کروائیں اور اپنے سمیت پوری پارٹی کو نیب سے بچایا، اپنے بیٹے کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنوایا، اپنی بھتیجی کو باہر بھجوایا، بھتیجی اور اس کے خاوند کی ایون فیلڈ کیس سے بریت، اپنے بیٹے کو پاکستان بلوایا، اپنے بھائی کے سمدھی کو پاکستان بلوا کر وزیر خزانہ بنایا، اپنی اتحادی جماعتوں میں وزارتیں بانٹ کر تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ بنائی، سرکاری خزانے پر پے در پے دنیا بھر کے بے سود دورے کیے اور ہر دفعہ لندن کو لازمی سلامی پیش کی، فرد جرم والے دن وزیر اعظم بنے۔ اور ان سب کے بدلے میں ریاست کو کیا دیا؟

بد ترین معاشی حالات، انتہائی شدید مہنگائی، پانی میں ڈوبے شہری، بے روزگار اور ملک سے بھاگتے ہوئے نوجوان، آئی ایم ایف سے آنکھیں ڈال کر باتیں کرنے کی بڑھکیں، صحافیوں کا قتل سمیت تشدد، ملک میں خوف اور بے یقینی کی کیفیت، ڈیفالٹ ہوتا ہوا ملک۔

مگر وزیر اعظم سے لے کر تمام وزراء میں سے جس کی بھی سن لو ایک ہی بات، بھئی ہم نے اپنی سیاست کی قربانی دے کر ریاست کو بچایا، مگر جو حال پچھلے آٹھ ماہ میں پاکستان کا ہوا اس سے تو اچھا تھا آپ اپنی سیاست ہی بچاتے اور ہم پر یہ احسان نہ کرتے۔ خدارا آپ کو حکومت کا مینڈیٹ تو ملا نہیں تھا تو ایسے میں آپ اپنے خاندان سمیت اتحادیوں کی خدمت کریں جس کا آپ کو آپ کے اتحادیوں نے مینڈیٹ دیا اور آئندہ سے کم از کم عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے تو تکلیف بھی دینا چھوڑ دیں۔ ان کو شاید یہ سمجھ بھی نہیں آتی کہ ریاست ہو گی تو آپ اپنی سیاست کریں گے۔ اور اتنے سالوں سے آپ نے اپنی سیاست ہی کی اس میں ریاست کو آپ کہاں سے کہاں لے آئیں۔ کم از کم سچ نہیں بولنا نہ بولیں جھوٹ بول چھوڑ دیں۔

Facebook Comments HS