ہندی اساطیر کی حقیقت ویدوں کے آئینے میں، معرفت خدا : قسط 3
محققین اور تاریخ دانوں نے آریاؤں کی برصغیر آمد اور ویدک دور کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
1۔ قدیم آریائی کلچر ( 1500۔ 4000 ) قبل مسیح
2۔ برہمنی عہد ( 700۔ 1200 )
3۔ جین مت اور بدھ مت کا عہد ( 400۔ 600 )
لیکن جب ہم نے اساطیر کو پڑھا اور سمجھا، ویدوں اور گیتا کا مطالعہ کیا۔ ایسٹرولوجی کی کتب پڑھیں اور ویدک ایسٹرولوجی کو مستقل چار برس تک الگ الگ اساتذہ سے پڑھا تو حقائق کو اس سے مختلف پایا۔ اس ضمن میں دیگر چند محققین کی آراء بھی بہت دلچسپ اور قابل توجہ ہیں۔ کیونکہ انہوں نے آرکیالوجی، علم بشریات وغیرہ کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس زمین پر انسان کی موجودگی ایک لاکھ سال قبل کا قصہ ہے۔ فاضل طب و الجراحت کے دوران مختلف طبی کتب کا مطالعہ جاری رہا۔
اس ضمن میں معلوم ہوا کہ اساتذہ فن حکمت نے متقدمین کی کتب کے حوالے سے لکھا ہے کہ بیماریاں اور انسان قریب ایک لاکھ سالوں سے اس زمین پر موجود ہیں۔ اس تمام قصے میں جو ہمیں سمجھ آیا وہ یہی تھا کہ وید پانچ ہزار سال پہلے دوبارہ لکھے یا ترتیب دیے گئے ہوں گے اور جیسا کہ عمومی طور پر ہوتا آیا ہے کہ ہر الہامی کتاب میں (سوائے قرآن مجید کے ) تحریفات ہوتی رہی ہیں۔ یہی معاملہ یہاں بھی رہا ہو گا۔
شریمد بھگود گیتا میں شری کرشن کہتے ہیں۔
”کم عقل اشخاص دیوتاؤں کی پوجا کر کے ان سے عارضی اور موت کے بعد چھین لی جانے والی چیزیں حاصل کرتے ہیں۔ اصل میں یہ تمام فوائد صرف پرم پرش بھگوان جی کے ذریعے ہی عطا کیے جاتے ہیں۔“
(ادھیائے 7، اشلوک 22، 23 )
میں ہی تمام بھوتیک (دنیاوی) اور آدھیاتمک (مذہبی /روحانی) جگتوں کا کارن (وجہ/سبب/بنیاد) ہوں۔ سب چیزیں مجھ سے ہی اتپن (نکلتی /پیدا ہوتی / وجود میں آتی) ہوتی ہیں۔ جو بدھی مان (عقل مند) مکمل طور پر یہ جانتے ہیں، وہ میری بھگتی سیوا میں لگ جاتے ہیں اور پریم سے میری سیوا میں لگے رہتے ہیں۔
(ادھیائے 10، اشلوک 8 )
ویسے تو ویدوں میں تینتیس دیوتاؤں کا ذکر ہم نے پڑھا لیکن اس کے علاوہ ایک اور تقسیم بھی اتھروید میں موجود ہے۔
اس کے مطابق دیوتا بنیادی طور پر تین اقسام کے ہوتے ہیں۔
”وہ دیوتا جن کا گھر عرش پر ہے۔ وہ دیوتا جن کا مسکن خلا میں ہے اور وہ دیوتا جو زمین پر رہتے ہیں“
اتھروا وید (کانڈ 11، سکت 6، منتر 12 )
اس منتر میں ان دیوتاؤں کو دیوسدہ، انترکش سدہ، پرتھویم سروتاہ کہا گیا ہے، لیکن رگ وید میں اس کی تفہیم بھی موجود ہے کہ آسمانی دیوتا سے مراد تری مورتی یعنی برہما، وشنو اور مہیش (شیو شنکر) ، انترکش دیوتا سے مراد وہ دیوتا جو مخلوقات میں شمار ہوتے ہیں یعنی فرشتے اور دیگر نوری مخلوقات، اور زمینی دیوتا وہی ہیں جن کو تینتیس دیوتا کہا گیا ہے۔ بعد میں اجداد کو بھی دیوتاؤں میں شمار کر کے ان کی پوجا بھی کی جانے لگی۔
ویدوں میں دیوتاؤں کی رہائش گاہیں بھی بتائی گئی ہیں۔ مثلاً اتھرواوید کے مطابق ایشور جنت یا آسمانی دنیا میں رہائش پذیر ہے۔
حافظ محمد شارق اس کی تشریح یوں کرتے ہیں۔
”جو برہما کے اس شہر کو جانتا ہے جو امرت (آب حیات) سے گھرا ہوا ہے، اسی کو برہما اور برہم طویل عمر اور اولاد عطا کرتے ہیں، نہ اس کی بصارت جاتی ہے اور نہ طبعی زوال (بڑھاپے ) سے پہلے اس کی سانس۔ ہاں وہی شہر کہ جس کی وجہ سے اس کا نام پرش ہوا“
(اتھروید۔ کانڈ 10، سکت 2، منتر 28 )
خدا کی جائے رہائش اس شہر کے بارے میں مزید لکھا ہے :
” اس شہر کی آٹھ فصیلیں اور نو دروازے ہیں۔ وہ دیوتاؤں کا شہر ہے جس کا نام ایودھیا ہے۔ اس میں جنتی روشنی سے ڈھکا ہے آ سونے کا ایک صندوق ہے۔ اس سونے کے صندوق میں تین ڈنڈے اور تین کھمبے ہیں۔ اس میں جو ایشور رہنے والا ہے اسے برہم کے جاننے والے ہی جانتے ہیں۔ وہاں اس سنہرے محل میں برہما رہتا ہے۔ جس کا نام اپراجت ہے۔ اس کی ہر جانب نور چمک رہا ہے“
(اتھروا وید، کانڈ 2، سکت، 2، منتر 31 )
ترجمہ (حافظ محمد شارق، ہندومت ایک تجزیاتی مطالعہ)
پرانوں اور دیگر کتب میں، مائتھالوجیکل اسٹوریز میں خدائے مطلق کے دو تصورات ملتے ہیں۔ یعنی ایک تو ایشور ہے جس نے سب دیوتاؤں اور تری مورتی میں شامل دیوتاؤں کو خلق کیا اور پھر ان کو لائق عبادت بھی بنا دیا۔ دوسرا تصور آدی شکتی کا ہے۔ اس کے مطابق ایشور جو کہ حق تعالی ہے اس کی شکتی (قوت و طاقت) نے تری مورتی کو اپنی روحانی طاقت سے پیدا کیا اور پھر ان میں کائنات کی تمام ذمہ داریوں کو تقسیم کیا اور انھیں عبادت یا پوجا کے لائق بھی بنا دیا۔
اب یہ وہی تصور ہے جو کہ ویدوں کو ازسر نو مرتب کرنے کے دوران ویدک دھرم کے ماننے والے یا پیروکار بزرگوں کے فلسفہ کی گہرائیوں میں کھو جانے سے پیدا ہوا ہے یا پھر اس دور میں جب لکھنے کا رواج نہیں ہوا تھا اور لوگ صرف تصاویر کشی سے مدد لے کر اہم باتوں، تصورات، تعلیمات یا قصائص کو محفوظ رکھتے تھے۔ عین ممکن ہے ان تصاویر کی تفہیم کے دوران ان بزرگوں سے یہ اختلافات سرزد ہوئے ہیں۔ کیونکہ موجودہ ہندومت یعنی جو پانچ سو قبل مسیح کا مذہب ہے اس میں شیو مت، وشنومت، شکتی مت، کے پیروکاروں کے مطابق ان کا دیوتا ہی اصل میں قادر مطلق ہے۔ اور اسی نے دیگر دیوتاؤں کو جنم دیا ہے۔
رگ وید ایک جگہ اس کی نفی کرتا ہے۔
” ایشور ہی روحانی اور جسمانی طاقتیں عطا کرنے والا ہے اور سب دیوتا اسی کا حکم مانتے ہیں۔ اس ایشور کی خوشی ہمیشہ کی زندگی عطا کرنے والی اور موت کا خاتمہ کرنے والی ہے۔ اس ایشور کو چھوڑ کر ہم کس کی عبادت کر رہے ہیں؟“
(رگ وید، منڈل 10، سکت 121، منتر 2 )
منتر کا ترجمہ (ہندومت ایک تجزیاتی مطالعہ۔ حافظ محمد شارق)
اگلی قسط میں ہم اساطیری کہانیوں کا بیانیہ اور ان کی تفاہیم پر گفتگو کریں گے۔


