میسی کو پہنائی جانے والی عبا ’بشت‘ کیا ہے اور اس پر تنازع کیوں؟


میسی کو بشت
فیفا ورلڈ کپ اپنے تمام تر جوش اور نشیب و فراز کے ساتھ اتوار کو ارجنٹائن کی جیت پر اختتام پزیر ہوا اور جب ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھانے کی بات آئی تو کپتان لیونل میسی کو ایک نئے اوتار میں دیکھا گیا۔

انھیں ورلڈ کپ ٹرافی دینے سے قبل شاہانہ علامت والا ’بشت‘ یعنی قطری عبا، جبہ یا چوغہ پہنایا گیا اور اسی لباس میں انھوں نے ٹرافی اٹھائی جو ایک ایسا تاریخی لمحہ تھا جسے دنیا بھر کے کروڑوں افراد نے دیکھا۔

سوشل میڈیا پر جہاں ’ورلڈ کپ فائنل، میسی، ایمباپے، ارجنٹائن، فرانس اور فٹبال‘ جیسے ہیش ٹيگ کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی وہیں انگریزی میں ’عبایا‘ بھی ٹرینڈ کرنے لگا۔

بہت سے لوگوں نے جہاں اس شاہانہ لباس کو سراہا اور کہا کہ یہ میسی جیسے فٹبال کے شہزادے کے شایان شان تھا وہیں بہت سے لوگوں نے اسے قطر کی جانب سے اپنی ’تہذیب کو تھوپنے‘ کا الزام لگایا اور اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ یہ ورلڈ کپ اس وقت سے تنازعات کا شکار رہا ہے، جب سے اس کی میزبانی کا فیصلہ قطر کے حق میں دیا گيا اور اس کے بعد سے وقتاً فوقتاً قطر پر متعدد قسم کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

بشت یا قطری عبا کیا ہے؟

بشت یعنی عبا (مردوں کے لیے) یا عبایا (خواتین کے لیے) دراصل عربوں کا ایک روایتی لباس ہے، جسے بشوت، مشلح وغیرہ بھی کہا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ عربوں میں ثوب کے اوپر یہ پہنا جاتا ہے اور اسے عظمت و بزرگی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔

اسے عام طور عرب دنیا کے علاوہ دنیا بھر میں جمعے اور عیدین میں امام مسجد کو بھی پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کا رنگ سیاہ، بھورا، خاکستری، بادامی وغیرہ ہوتا ہے، جو سفید ثوب پر زیادہ کھلتا ہے۔ اس میں قیمتی کناریاں لگی ہوتی ہیں جو عام طور سنہرے یا چاندی کے رنگوں کی ہوتی ہیں۔

بہر حال بعض میڈیا ہاؤسز نے لکھا کہ میسی کو پریزینٹیشن تقریب میں فیفا کے اعلی حکام نے عربی چوغہ ’بشت‘ پہنے پر ’مجبور‘ کیا جبکہ بعض نے اسے ایسا تاریخی لمحہ قرار دیا جو ورلڈ کپ کی تاریخ اور مشرق وسطیٰ کے تخیل میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا ہے۔

https://twitter.com/OuissalHarize/status/1604594125457612800

سوشل میڈیا پر بشت کا ذکر

سوشل میڈیا پر پورے ورلڈ کپ کے دوران اور اس سے قبل بھی ارجنٹائن کے فٹبالر میسی کے نام کا ٹرینڈ کرنا عام بات رہی ہے۔ ان کے مداح اکثر ان کا موازنہ پرتگال کے سٹار فٹبالر رونالڈو سے کرتے ہیں۔

فٹبال کے مداح فہد العتیبی نے عربی زبان میں ٹویٹ کی کہ ’میں بشت پہنائے جانے کے خیال سے متاثر ہوا ہوں۔ یہ وہ تصویر ہے جو تاریخ میں ہمیشہ رہے گی۔‘

ریال میڈرڈ کے حمد المجیدی نے لکھا کہ ’جس نے بھی بشت کا خیال پیش کیا، وہ جینیئس تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس خطے کو ہماری زندگی میں پھر دوبارہ ورلڈ کپ کی میزبانی کا حق نہ ملے لیکن ہمارا نشان ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہمیشہ کے ثبت ہو گیا اور جنھیں یہ لمحہ پسند نہیں آیا، ہم انھیں حقیقتاً اس وقت کچھ کہتے نہیں دیکھتے اگر انھوں نے خود کو قوس قزح کے رنگ والے پرچم یا یوکرین کے پرچم میں لپیٹا ہوتا۔‘

اسی طرح العربی نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’اگر قطر نے میسی کو قوس قزح کے رنگ کا عبایا پہنے پر مجبور کیا ہوتا تو برٹش میڈیا بہت زیادہ خوش ہوتی لیکن انھیں شاہی عبایا پہنایا گیا جو ان پر فٹبال کے شہزادے کے طور پر خوب جچتا ہے تو وہ لوگ بہت ناراض ہیں۔‘

https://twitter.com/AlArabi221/status/1604699895490805760

عامر نامی ایک صارف نے بشت پہنائے جانے کو بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ’میرے خیال سے اسے عبایا کہا جاتا ہے۔ جب کوئی بادشاہ آپ کو یہ عطا کرتا ہے تو یہ اعزازی ہوتا ہے اور یہ عزت افزائی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے اور میسی اس کے حقدار ہیں۔‘

تطہیر مہاجر نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’میسی عبایا پہن کر کتنا اپنا اپنا سا رلگ رہا ہے نہ۔۔۔‘

https://twitter.com/nazty__/status/1604728836742344705

پیلے کے ہیٹ سے میسی کے بشت کا مقابلہ

وصال حریز نامی ایک صارف نے میسی کو عبا پہنائے جانے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے دو تصاویر ٹویٹ کیں اور لکھا کہ ’سنہ 1970 میں اپنا تیسرا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پیلے نے میکسیکن سومبریرو (ہیٹ) پہنا تھا۔ آپ لوگ کس بات پر غصہ ہیں؟‘

https://twitter.com/Tatheermahajir/status/1604548086356926464

معروف ٹی وی جرنلسٹ مہدی حسن نے لکھا کہ فٹبال ورلڈ کپ کے ’اختتام پر میسی کو عربی جبہ پہنانے کو عجیب سمجھنا بہت ممکن ہے لیکن کیا ہم نسل پرستی اور عرب مخالف بی ایس (بیانیے یا سوچ) کو ختم کر سکتے ہیں اور ہاں پیلے نے میکسیکو میں ہونے والے ورلڈ کپ فائنل میں برازایل کی جیت کے چند لمجے بعد ہی ایک سومبریرو پہنا تھا۔‘

فاطمہ نامی ایک صارف نے عربی زبان میں لکھا کہ جب ’سنہ 1970 کے ورلڈ کپ میں پیلے نے میکسیکو کا ہیٹ پہنا تو مغرب نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور اسے ثقافت کا تبادلہ کہا لیکن سنہ 2022 میں جب میسی کو بشت پہنایا گیا تو مغرب کو دورہ پڑ گیا۔‘

https://twitter.com/mehdirhasan/status/1604618814515290115

فتحون شارو نامی ایک صارف نے لکھا کہ کچھ نسل پرستوں کو ابھی قطر کے اچھی طرح سے کرائے جانے والے منظم ورلڈ کپ سے پریشانی ہے حالانکہ قطر میں اب تک کے عظیم ترین فٹبال ورلڈ کا انعقاد ہوا۔

بہت سے لوگوں نے اس حوالے سے قطر سے منسلک دیگر مسائل کا ذکر کیا، جس میں کہا گیا کہ جہاں مداح کے کپڑے اتارنے پر جرمانہ ہو، جہاں کھلاڑی کے ٹی شرٹ اتارنے پر پیلا کارڈ دیا جائے، جہاں ایل جی بی ٹی کے خیالات کا اظہار کرنے پر پابندی ہو وہاں یہ چوغہ پہنایا جانا بھی زبردستی کی علامت ہے۔

بہر حال یہ ورلڈ کپ تمام تر تنازعات کے باوجود اپنے اچھے انتظامات، بہترین کھیل، سعودی عرب کی ارجنٹائن کے خلاف جیت اور پہلے عرب اور افریقی ملک مراکش کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے یاد رکھا جائے گا۔

ارجنٹائن نے اپنا پہلا میچ ہارنے کے باوجود یہ عالمی کپ اٹھایا جو کسی دلچسپ ناول کے بہترین اختتام کی طرح ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp