پی ڈی ایم کی نیت کتنی ٹھیک ہے؟


جب آپ کی کارکردگی مسلسل بری جا رہی ہو اور آپ کی کارکردگی کی وجہ سے آپ کا ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے، مگر آپ بضد ہوں کہ ہم نے ملک کو بچایا ہے، ہم نے اپنی سیاست کی قربانی دی ہے، ہم نے پچھلی حکومت کی بری کارکردگی کا بوجھ اٹھایا ہے اور نامساعد حالات میں ہم ہی اس معیشت کو ٹھیک کریں گے۔ آپ کے دعووں پر ایک منٹ کے لئے یقین کر لیں تو لگتا ہے کہ آپ کی نیت ٹھیک ہے مگر حالات شاید ٹھیک نہیں ہیں۔ اور شاید ایسی ہی باتیں آپ کے ارسطو، آئی ایم ایف کو جاننے والے فنانس منسٹر، بڑھکیں مارنے والے وزیر داخلہ اور محترمہ لوگوں کو رونے پیٹنے کے مشورے دینے والی وزیر اطلاعات کم از کم اٹھارہ گھنٹے عوام کو سناتے ہیں۔ مگر عوام کی حالت تواتر کے ساتھ پتلی سے پتلی ہوئی جا رہی ہے۔ سوال کرو تو جواب ملتا ہے ہمارا نیت ٹھیک ہے مگر حالات ٹھیک نہیں ہیں۔

اگر اس بات کو سمجھنے کے لئے ہم پچھلی پی ٹی آئی گورنمنٹ کے تین سال کے نتائج اور موجودہ پی ڈی ایم گورنمنٹ کے آٹھ ماہ کے انفرادی اور اجتماعی نتائج کو ”نیت، حالات اور نتائج“ کی بنا پر دیکھیں تو سمجھ آتی ہے کون کس حد ٹھیک ہے۔ بات کو اگر 2018 سے شروع کریں تو ہر نئی گورنمنٹ کا اپنی حکومت کا آغاز تاریخی جملے سے شروع کرتی ہے کہ ”خزانہ خالی ہے“ ۔ تو پھر ایسے میں شروع ہوتے ہیں نئے ٹیکسز، آئی ایم ایف کی ڈیمانڈز، دوست ممالک سے ادھار اور بانڈز کا اجراء۔

ہمارے ملک کے فنانس کو بہتر کے ذرائع تو اب ہر خاص و عام کو شاید ازبر ہو گئے ہیں۔ خیر سے حکومت کا ہنی مون کا عرصہ گزرا تو ابھی حکومت کا ایک وزیر خزانہ ہی قربان ہوا تھا کہ کرونا آ گیا۔ شروع لاک ڈان کی صدائیں، ساتھ سیاسی قیادت کا احتساب جاری، ساتھ بزدار صاحب کی کرامات کے تذکرے شروع۔ مگر عوام کی حالت مہنگائی کی وجہ سے مسلسل بگڑتی جا رہی تھی۔

آج ہی کائرہ صاحب ہمراہ وزیر دفاع اور وزیر اطلاعات بتا رہے تھے کہ حالات بہت خراب ہیں اور ہم ایک ایک ڈالر بچا رہے ہیں یعنی ہماری نیت نیک ہے۔ اپنے ہی سابقہ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ ڈالر ملک سے ختم ہو گئے ہیں، مگر جواب ملتا ہے کہ ہماری نیت نیک ہے۔ ترسیلات زر کم ہو گئی ہیں، مگر ہماری نیت نیک ہے۔ ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو گئے ہیں، مگر ہماری نیت نیک ہے۔ ساڑھے سات لاکھ ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں، اور ہم ملک بچانے آئے ہیں۔ 78 فیصد تک مہنگائی بڑھ گئی ہے، مگر ہماری نیت نیک ہے۔ 1100 ارب کے کیسز معاف ہو گئے، مگر ہماری نیت نیک ہے۔ مقصود چپڑاسی سمیت تمام متعلقہ کیسز کے لوگوں کو ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے، مگر ہماری نیت نیک ہے۔

پچھلے سال کے آخر میں اور 2022 کے شروع میں ایک وقت تھا جب زر مبادلہ کے ذخائر 22 ارب تھے، مگر بقول پی ڈی ایم ملک میں ڈیفالٹ کا خطرہ تھا۔ ٹیکسٹائل سیکٹر میں ملازمین کی کمی تھی، مگر بقول پی ڈی ایم کے ملک تباہی کی طرف گامزن تھا۔ جی ڈی پی میں سالانہ گروتھ 6 فیصد تھی مگر معیشت تباہ ہو رہی تھی۔ پٹرول عام آدمی کی پہنچ میں تھا، مگر بقول پی ڈی ایم لوگ خود کشیاں کر رہے تھے۔ ہیلتھ کارڈ، ہاؤسنگ اسکیم، بزرگی الاونس و دیگر سوشل پروٹیکشن اسکیمیں اس دعویٰ کو کہ ”ہم نے وسائل کا رخ عوام کی طرف موڑنے کی کوشش کی ہے“ کو تقریباً سچ کرتا ہے۔

”نیت، حالات اور نتائج“ تھیوری بڑی حد تک آپ کی نیت کے بدلے نتائج کو واضح کر دیتی ہے اور عام بندے کو بھی سمجھنے میں مدد مل کہ کون اپنے قول و فعل میں ٹھیک ہے یا تھا۔ اس لئے پی ڈی ایم کا دعویٰ کھوکھلا ہے کیونکہ اب تک تمام نتائج واضح تصویر پیش کر رہے ہیں کہ آپ کی نیت اپنے انفرادی مفادات میں بالکل ٹھیک ہے مگر آپ عوامی مفادات کی بات کریں تو بات ہضم کرنا ذرا مشکل عمل لگ رہا ہے۔

ایک پنجابی کہاوت بھی ہے کہ ”نیتوں سے مرادیں“ آپ کم از کم ایک زاویے سے ہی اندازہ لگا لیں کہ موجودہ پی ڈی ایم دنیا میں کہاں کہاں نہیں گئی اور وزیر اعظم صاحب نے کیا خوبصورت نمائندگی کی ہے کہ ”ہم مانگنے نہیں آئے مگر کیا کریں مجبوری ہے“ ۔ اس مہم میں وزیر اعظم اور ان کے چلے ہوئے کارتوس وزراء نے کروڑوں ڈالر اپنے دوروں پر خرچ کر دیے مگر دنیا نے کہیں بھی ان کی مجبوری کو نہیں مانا اور پی ڈی ایم کو سوائے سیر سپاٹے کے کچھ حاصل نہ ہوا۔ اب اگر مرادیں پوری نہیں ہو رہی تو ضرور ہے کہ کچھ نہ کچھ تو غلط ہو گا۔ تو ایسے میں آپ کی نیت یا تو آپ جانتے ہیں یا آپ کا خدا۔

Facebook Comments HS