الوداع میسی، خوش آمدید امباپے

قطر میں منعقدہ فٹ بال ورلڈ کپ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے کے بعد ختم تو ہو گیا مگر اپنے پیچھے ایک ناقابل فراموش تاریخ رقم کر گیا۔ قطر جیسے چھوٹے سے ملک کے حیرت انگیز انتظامات نے سب کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہ تاریخ کا سب سے مہنگا ورلڈ کپ تھا جس میں پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا۔ دنیا بھر سے آئے کھلاڑیوں اور شائقین کو بہترین سہولیات بہم پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا گیا۔ اس ورلڈ کپ کو قطر کا ایک نیا جنم کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ اس کی وجہ سے پوری قطری قوم کو ایک نیا اعتماد، نیا جوش اور نیا ولولہ عطا ہوا ہے۔
فٹ بال کو دنیا کا مقبول ترین کھیل مانا جاتا ہے اور اس کے ورلڈ کپ کو دنیا میں کھیلوں کا سب سے بڑا ایونٹ تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی ٹیمیں فٹ بال ورلڈ کپ میں حصہ لینا اپنا اعزاز سمجھتی ہیں۔ ورلڈ کپ مقابلوں میں کوارٹر فائنل، سیمی فائنل یا فائنل کھیلنا تو ایک بڑا کارنامہ مانا ہی جاتا ہے لیکن فٹ بال کا ورلڈ کپ جیتنا ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر تلاش میں لوگوں کی زندگیاں لگ جاتی ہیں۔ چالیسیوں ٹیمیں اپنی آنکھوں میں فتح کے سپنے سجائے میدانوں میں اترتی ہیں، بھڑتی ہیں، جان مارتی ہیں اور مخالف کے پنجوں سے فتح دبوچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایسے میں شائقین کے دل حلق میں اٹکے رہتے ہیں اور آخر کار فتح ایک ٹیم کے حصے میں آتی ہے جسے اگلے چار سال تک کے لیے فٹبال کا سلطان مان لیا جاتا ہے۔
یہ سہرا اس بار ساؤتھ امریکہ کے ملک ارجنٹائن کے سر سجا ہے اور اس کامیابی میں اس کے کپتان لیونل میسی کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ میسی کا یہ آخری ورلڈ کپ تھا اور ناصرف پوری ارجنٹائن قوم بلکہ دنیا بھر میں پھیلے میسی کے مداحوں کا ایک ہی سپنا تھا کہ یہ ورلڈ کپ میسی اٹھائے اور دنیائے فٹبال میں ہمیشہ کے لیے امر ہو جائے اور ایسا ہی ہوا۔ لیونل میسی نے ورلڈ کپ تھام کر فضا میں بلند کیا تو پورا بیونس آئرس سڑکوں اور چوراہوں پر جمع ہو کر جھوم رہا تھا اور کامیابی کے ترانے گا رہا تھا۔
کیوں نہ ہو کہ اس لمحے کے انتظار میں ارجنٹائن قوم نے پورے 36 سال انتظار کیا۔ 1986 میں آخری بار ارجنٹائن کے شہرہ آفاق کھلاڑی ڈیگو میراڈونا نے ورلڈ کپ تھاما تھا۔ ان 36 سالوں میں کئی بار ارجنٹائن کی فتح کے مواقع بنے مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا تھا۔ 2022 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں بھی فرانس کے 23 سالہ کپتان امباپے نے ہیٹ ٹرک کر کے ارجنٹائن کی یقینی فتح کو تقریباً شکست میں بدل ڈالا تھا مگر قسمت نے اس کی یاوری نہیں کی۔ یہ سنسنی خیز مقابلہ دیکھ کر لوگوں نے کہا کہ میسی کا جیتنا بنتا تھا مگر امباپے کا ہارنا نہیں بنتا تھا۔ ایک GOAT یعنی (Greatest of all times) رخصت ہو رہا ہے تو دوسرا GOAT نمودار ہو رہا ہے۔ لیونل میسی جا رہا ہے تو امباپے دنیائے فٹبال پر راج کرنے کے لیے آ رہا ہے۔
امباپے کو دیکھیے کہ اس نے 19 سال کی عمر میں اپنا پہلا ورلڈ کپ کھیلا اور جیت لیا، پھر 23 سال کی عمر میں ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا، جیت تو نہ سکا مگر میسی جیسے پلیئر کے سامنے گولڈن بوٹ لے اڑا۔ ورلڈ کپ کے فائنل میں ہیٹ ٹرک کرنے کا کارنامہ سر انجام دیا جو 66 سال تک کوئی نہیں کر سکا تھا۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ارجنٹائن کے پاس تو بیسٹ گول کیپر، بیسٹ مڈ فیلڈر اور سب سے بڑھ کر لیونل میسی تھا مگر فرانس کے پاس تو صرف امباپے تھا۔
الجیریا سے تعلق رکھنے والی ماں اور کیمرون سے تعلق رکھنے باپ کے بیٹے امباپے کی عمر ابھی 23 سال ہے۔ تصور کریں کہ اگر یہ کھلاڑی دو یا تین ورلڈ کپ کھیل گیا تو کتنے ریکارڈ اپنے پاؤں تلے روند ڈالے گا۔ کہنے والے شاید ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ میرا ڈونا اور پیلے فٹبال کا ماضی تھے، میسی اور رونالڈو حال ہیں، جبکہ امباپے فٹ بال کی دنیا کا مستقبل ہے۔

